بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنا


سوال

بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت یعنی ہمبستری کرسکتے ہیں کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے کہ بیوی سے حیض کی حالت میں ہمبستری کریں ؟

جواب

واضح رہے کہ حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے،اوریہ طبی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے ،لہذا اس سے اجتناب لازم ہے،البتہ بیوی کی ناف سے لے کر  گھٹنے تک کے  حصے کے علاوہ بیوی کے جسم کے باقی حصون شوہر کا لطف اندوز ہونا، انتفاع جائز ہے۔

نیز یاد رہے کہ حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنابنصِ قرآنی قطعاً حرام و ناجائز ہے،  اگر زوجین باہمی  رضامندی سے اس گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں  تو دونوں گناہ گار ہوں گے، دونوں پر سچے دل سے  استغفار لازم ہوگا،  اگر اس حالت  میں جماع حلال سمجھتے ہوئے کیا تو آیتِ قرآنی کے انکار کی وجہ سے تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، البتہ اگر غلطی سے اس گناہ کا ارتکاب ہوگیا تو  توبہ و استغفار کے بعد  کچھ صدقہ کردے؛ تاکہ نیکی سے گناہ دھل جائے۔ نیز اگر حیض کے ابتدائی ایام میں ( جب کہ خون سرخ ہوتا ہے)  یہ گناہ سہواً سرزد ہوگیا  ہو تو ایک دینار (4.374 گرام سونے کا سکہ) یا  اس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر حیض کے آخری ایام میں ایسا ہوا ہو توآدھا دینار (یا اس کی قیمت) صدقہ کردے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعاً «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار»، ثم قيل: إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل: بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه: «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دماً أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1 ص:298 ط: سعید)

تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے:

"(و) يمنع... (و قربان ماتحت إزار) يعني مابين سرة و ركبة ولو بلاشهوة و حل ماعداه مطلقاً."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1 ص:292 ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144508100054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں