
ہمارا ڈرائی فروٹ کا کام ہے جب ہم مال کو امپورٹ کرتے ہیں تو حکومت ہم سے اپنا ٹیکس وصول کرتی ہے، اسی طرح حکومت نے ہمیں اس کا بھی پابند بنایا ہے کہ ہم جس کو مال دیں حکومت کو ان کا بھی بتا ئیں، تاکہ حکومت ان سے بھی ٹیکس وصول کرے۔
اب ہم 100 فیصد میں سے پانچ فیصد تو اسی طرح کرتے ہیں، باقی 95 فیصد ہم عام عوام کو مال دیتے ہیں اور حکومت کو کچھ بھی ان کے بارے میں نہیں بتاتے ،حکومت جب ہم سے حساب لیتی ہے تو کبھی کبھی ہم حساب دینے سے بچنے کے لیے کسی کمپنی کے نام ایک فرضی بل بناتے ہیں کہ ہم نے مال اس کمپنی کو دیا ہے، کمپنی ایک، دو فیصد ٹیکس ادا کرتی ہے، لیکن "جی، ایس، ٹی" کا ٹیکس جو ہم نے ادا کیا ہے وہ سب ان کو دینا نہیں پڑتا یہ ان کا فائدہ ہوتا ہے۔
اور کبھی کبھی کمپنی ایسے ہی کرتی ہے یعنی حکومت ان سے بھی جی ایس ٹی ٹیکس وصول کرتی ہے اب جب ان کا ٹیکس بہت زیادہ ہو جاتا ہے تو کمپنی اس طرح کے فرضی بل کی تلاش میں ہوتی ہے کیونکہ فرضی بل کے"جی، ایس، ٹی" بل تو پہلے سے ادا شدہ ہوتےہیں، تو کمپنی یہ بل لے کر حکومت کے واجب الاداء ٹیکس اس سے ادا کرتی ہے۔
کبھی کبھی امپوٹر اور کمپنی دونوں محتاج ہوتے ہیں، لیکن دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے، تو درمیان میں کوئی آدمی ایجنٹ کے طور پر دونوں کو ملاتے ہیں اور بعد میں دونوں سے کمیشن لیتا ہے۔
تو کیا امپورٹر، کمپنی اور کمیشن ایجنٹ کا مذکورہ طرز پر کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں امپوٹر، کمپنی اور ایجنٹ کا مذکورہ طرز پر کام کرنا عہد شکنی، صریح جھوٹ اور گناہ کے کام پر معاونت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
مسند احمد میں ہے:
"عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."
ترجمہ:"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن ہر قسم کی عادت پر پیدا ہو سکتا ہے، سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔"
(مسند الأنصار، تتمة مسند الأنصار، ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)
مسلم شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا."
ترجمہ:"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں، اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔"
(باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 99، رقم: 101، ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)
ترمذی شریف میں ہے:
''عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنهما قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إن الغادر ینصب لہ لواء یوم القیامة."
ترجمہ: " رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:بے شک خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا (تاکہ اس کی رسوائی ہو)۔"
(أبواب السیر، باب ما جاء أن لکل غادر لواءً یوم القیامة، ج: 1، ص: 287، ط: المكتبة الأشرفیة دیوبند)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101678
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن