بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حکم کا فیصلہ فریقین کو ماننا لازم ہے یا نہیں؟


سوال

ایک لڑکی کا ایک لڑکے سے نکاح ہوا تھا، لیکن رخصتی سے پہلے لڑکے نے لڑکی سے انکار کر دیا، یعنی اسے پسند نہیں کیا، جس پر لڑکے اور لڑکی والوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہو گیا۔ مسئلے کے حل کے لیے دو جرگہ دار مقرر کیے گئے: ایک لڑکے والوں کی طرف سے اور ایک لڑکی والوں کی طرف سے۔فریقین نے حلفاً، طلاقِ ثلاثہ کے ساتھ، حتمی اور غیر مشروط اختیار متعلقہ جرگہ داروں کو دے دیا۔

دونوں جرگہ داروں نے باہمی اتفاق سے فیصلہ تحریر کر لیا اور مل کر یہ فیصلہ لڑکے والوں کو سنا دیا کہ انہیں بطور جرمانہ ساڑھے سات لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے، جن میں تین لاکھ روپے مہر کے تھے اور ساڑھے چار لاکھ روپے اضافی لازم کیے گئے تھے۔ اس طرح کل رقم ساڑھے سات لاکھ روپے بنتی ہے، جس پر لڑکے والے آمادہ ہو گئے اور ادائیگی کے لیے تیار ہیں۔

تاہم ابھی تک یہ فیصلہ لڑکی والوں کو نہیں سنایا گیا تھا کہ لڑکی والوں کی طرف سے مقرر جرگہ دار نے اپنے فیصلے سے واک آؤٹ کر لیا، غالباً اس وجہ سے کہ اس کے نزدیک جرمانہ کم مقرر کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس وقت لڑکے والے تو ادائیگی کے لیے تیار ہیں، لیکن لڑکی والے اس رقم کو قبول نہیں کر رہے۔

سوال یہ ہے کہ جس جرگہ دار نے فیصلے سے واک آؤٹ کیا ہے، اس کی وجہ سے اس کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوئیں یا نہیں؟ کیونکہ وہ جرگہ دار خود لڑکی والے فریق کا حصہ تھا، یعنی اس نے بھی تین طلاق کا حلف اٹھایا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں لڑکے کے لڑکی کو چھوڑنے پر جو جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، یہ فیصلہ غیر شرعی ہے، لہٰذا لڑکے والوں پر اس رقم کی ادائیگی لازم نہیں ہے۔ اگر لڑکے نے لڑکی کو رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق دی ہے، تو لڑکے کے ذمہ مقررہ مہر میں سے  صرف آدھے مہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔

باقی جس جرگہ دار نے فیصلے سے واک آؤٹ کیا ہے، ان کی بیویوں پر طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ وہ اختیار دینے میں شامل نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)

(قوله ويجب نصفه) أي نصف المهر المذكور، وهو العشرة إن سماها أو دونها أو الأكثر منها إن سماه، والمتبادر التسمية وقت العقد، فخرج ما فرض أو زيد بعد العقد فإنه لا ينصف كالمتعة كما سيأتي."

(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:104، ط؛سعید)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"حد ‌الخلوة ‌الصحيحة أن لا يكون هناك مانع يمنعه من وطئها طبعا ولا شرعا، حتى إذا كان أحدهما مريضا مرضا يمنع الجماع أو صائما في رمضان أو محرما أو كانت هي حائضا لا تصح الخلوة لقيام المانع طبعا أو شرعا."

(کتاب النکاح، باب الإحصان، 150/5، ط:دار المعرفة)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"تفسيره تصيير غيره حاكما فيكون الحكم فيما بين الخصمين كالقاضي في حق كافة الناس وفي حق غيرهما بمنزلة المصلح، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب أدب القاضي، الباب الرابع والعشرون في التحكيم، 397/3، ط:دار الفکر)

وفیه أیضاً:

"قضاء القاضي الأول لا يخلو إما أن وقع في فصل فيه نص مفسر من الكتاب والسنة المتواترة أو إجماع وإما أن وقع في فصل مجتهد فيه من ظواهر النصوص والقياس فإن وقع في فصل فيه نص مفسر من الكتاب والخبر المتواتر أو إجماع فإن وافق قضاؤه ذلك نفذه الثاني ولا يحل له النقض وإن خالف شيئا من ذلك رده".

(كتاب أدب القاضي، الباب التاسع عشر في القضاء في المجتهدات، ج:3، ص:356، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں