بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج تمتع میں عمرہ کے بعد قصر کا حکم


سوال

میں حج تمتع کے لیے مکہ پہنچا اور میں نے عمرہ کیا، سعی کے بعد میں نے قصر کرایا، کیوں کہ میں حج کی سعی کے بعد حلق کروانا چاہتا ہوں ،مجھے شبہ ہے کہ میرے سائیڈ کے بال کانوں کے اوپر سے شاید ایک پورے سے کم تھے،قصر میں نے حرم کے مقرر کردہ حجام سے ہی کرایا تھا،اس بات کو 3 یوم گذر چکے ہیں، مہربانی کر کے اس مسئلہ کی راہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر آپ کو اس بات کا یقین  یا غالب گمان ہے کہ آپ نے کم از کم چوتھائی سر  کے بال ایک پورے کے بقدر تھے اور اس کا آپ نے قصر کروایا ہے،تو اس صورت میں آپ پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا، تو کانوں کے پاس  سےسر کے بال بالفرض ایک پورے سے کم بھی ہوں  تو اس کا قصر نہ ہونے کی وجہ کسی شبہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں   ہے۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"وأما التقصير فالتقدير فيه بالأنملة؛ لما روينا من حديث عمر - رضي الله عنه -، لكن أصحابنا قالوا: يجب أن يزيد في التقصير على قدر الأنملة؛ لأن الواجب هذا القدر من أطراف جميع الشعر، وأطراف جميع الشعر لايتساوى طولها عادةً بل تتفاوت فلو قصر قدر الأنملة لايصير مستوفياً قدر الأنملة من جميع الشعر بل من بعضه، فوجب أن يزيد عليه حتى يستيقن باستيفاء قدر الواجب فيخرج عن العهدة بيقين".

(كتاب الحج، فصل مقدار واجب الحلق والتقصير، ج:2، ص:141، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں