بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

حجام کو دکان کرائے پر دینے کا حکم


سوال

کیا حجام کو دکان کرائے پر دینا جائز ہے؟

جواب

حجام کو دکان کرائے پر دینے کا حکم جاننے سے پہلے حجام کی اپنی اجرت کا حکم جان لینا چاہیے، چنانچہ حجامت میں جو کام حرام ہیں، یعنی داڑھی مونڈنا یا مشت سے کم کرنا یا حُسن کی غرض سے بھنویں بنانا، ان کاموں کی اجرت بھی حرام ہے، اور جو کام جائز ہیں جیسے سر کے بال کاٹنا یا ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کو  شرعی طریقے پر درست کرنا، ان کاموں کی اجرت بھی حلال ہے، البتہ جس طرح خلافِ شرع بال (مثلاً: سر کے کچھ حصے کے بال چھوٹے اور کچھ کے بڑے) رکھنا ممنوع ہے، اسی طرح خلافِ شرع بال کاٹنے کی اجرت بھی حلال طیب نہیں۔

اب حجام کو دکان کرایہ پر دینے کا حکم یہ ہے کہ اگر حجام اس دکان میں افعالِ ممنوعہ  کرتا ہو تو اس کو کرایہ پر دکان دینا مکروہ ہو گا، مالکِ دکان کو  چاہیے کہ حجام کو اس کا پابند کرے کہ وہ اس دکان میں غیر شرعی کام نہ کرے،  ورنہ کسی اور نیک حجام کو دکان کرائے پر دے، اپنی دکان کو ناجائز کام کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

’’لابأس بأن یواجر المسلم داراً من الذمي لیسكنها، فإن شرب فیها الخمر أو عبد فیها الصلیب أو أدخل فیها الخنازیر لم یلحق للمسلم أثم في شيءٍ من ذلك؛ لأنه لم یوجرها لذلك والمعصیة في فعل المستاجر دون قصد رب الدار فلا إثم علی رب الدار في ذلك‘‘. (المبسوط ج : ۱۶ ص: ۳۰۹)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں