بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حجام کی اجرت کا حکم


سوال

 کیا حجام (بال کاٹنے والے) کی کمائی حرام ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حجام کی دکان پر کام کرنا یا اس کی کمائی کھانا حرام ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

حجام (نائی) کی کمائی کے حلال یاحرام ہونے کاتعلق اُس کے کام کی نوعیت کے ساتھ ہے۔حجام کے نہ تو سارے کام جائز ہیں اور نہ ہی سارے کام ناجائز ہیں۔جوجوکام جائز ہیں مثلاً سر کے بال شرعی طریقے کے مطابق کاٹنا،ایک مشت سے زیادہ ڈاڑھی کو شرعی طریقےکے مطابق درست کرناوغیرہ توان کاموں کی اجرت بھی حلال ہے۔اور جوجو کام ممنوع ہیں مثلاًسرکے بال خلاف شریعت کاٹنا (سر کے کچھ حصے کے بال چھوٹے اور کچھ کے بڑے کاٹنا،انگریزی کٹنگ وغیرہ)توان کاموں کی اجرت بھی حلال وطیب نہیں ہے ۔اور جو کام حرام ہیں مثلاًایک مشت سے کم ڈاڑھی کاٹنا،ڈاڑھی مونڈنا،خوب صورتی کے لیے باریک بھنویں بناناوغیرہ  تو ان کاموں کی اجرت بھی حرام ہے،لہذا جوکمائی حلال کام سے ہوئی ہے اس کا استعمال کرنا حلال ہے ،اور جوکمائی حرام کام سے ہوئی ہے اس کا صدقہ کرنا واجب ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌يحرم ‌على ‌الرجل ‌قطع لحيته...(لا) يكره (دهن شارب و) لا (كحل) إذا لم يقصد الزينة ‌أو ‌تطويل ‌اللحية إذا كانت بقدر المسنون وهو القبضة...«وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد."

(‌‌كتاب الصوم،‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:2،ص: 418،ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعلى هذا يخرج ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء."

(كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:189،ط:دار الكتب العلمية)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"لا يجوز ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصي كاستئجار الإنسان للعب واللهو المحرم وتعليم السحر والشعر المحرم وانتساخ كتب البدع المحرمة، وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح، لأنه استئجار على معصية، والمعصية لا تستحق بالعقد."

 

(‌‌القسم الثالث: العقود أو التصرفات المدنية المالية،‌‌الفصل الثالث: عقد الإيجار،أن تكون المنفعة المعقود عليها مباحة شرعا ،ج:5،ص: 3817،ط:دار الفكر - سوريَّة - دمشق)

تبیین الحقائق میں ہے:

"كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات رجل، وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذوا منه شيئا، وهو أولى لهم، ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن ‌سبيل ‌الكسب ‌الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه."

 

(كتاب الكراهية،فصل في البيع،ج:6،ص:27،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم

 


فتویٰ نمبر : 144501100508

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں