
موجودہ وقت میں اگر کسی شخص پر حج یا عمرہ کرنالازم ہو جائے تو وہ اپنے مال سے حج یا عمرہ کرے یا غزہ فلسطین میں مسلمانوں کی مالی امداد کرے؟
واضح رہے کہ صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے، حجِ فرض کی استطاعت ہو تو انسان کو اُس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، بغیر عذر کے حجِ فرض میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ حج ِفرض کی ادائیگی کے بعد جتنے حج بھی انسان کرے گا وہ نفل ہوں گے، اور نفل امور میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ کون سے نفل کام کو انجام دینا چاہتا ہے، لیکن اگر کسی جگہ حج ِنفل کے بجائے صدقہ کرنے اور کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کی ضرورت ہو تو ان امور کو احوالِ واقعی اور ضرورت کی وجہ سے مقدم رکھتے ہوئے حجٍِ نفل کے بجائے صدقات وغیرہ کی طرف جانا چاہیے۔ لیکن اگر کسی کی استطاعت اور حیثیت دونوں نوافل کو انجام دینے کی ہو تو دونوں بھی کیے جاسکتے ہیں۔ نیز چوں کہ دونوں ہی نفلی امور ہیں، لہذا کسی ایک کے کرنے پر دوسرے کے نہ کرنے کی وجہ سے اُس کو تنقید اور لعن و تشنیع کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے ، دونوں ہی مہتم بالشان اعمال ہیں، اس لیے جہاں جس کام کی وقت کے اعتبار سے ضرورت ہو اُس کو مقدم کرنا چاہیے، لہذا موجودہ احوال میں ،جب کہ اہلِ غزہ وفلسطین بھوک واِفلاس اور دیگر گوں صورت حال میں ہیں، اُنہیں ضروریات بہم پہنچانے کی کوشش کرنا اور اپنی مقدور بھر اُن کی مالی مدد و اعانت کرنا نفلی حج اور عمرے سے بڑا اجر وثواب والا کام ہوگا۔
"البحر الرائق شرح كنز الدقائق"میں ہے:
"وأمّا أبو حنيفة وأبو يوسف فقالا: الاحتياط في تعيين أوّل سني الإمكان؛ لأنّ الحجّ له وقت معيّن في السّنة، والموت في سنة غير نادر، فتأخيره بعد التمكّن في وقته تعريض له على الفوات، فلا يجوز".
(البحر الرائق، كتاب الحج، 2/333، ط: دار الكتاب الإسلامي)
"حاشية منحة الخالق عل البحر الرائق"میں ہے:
"(قوله: فقالوا: حجّ النّفل أفضل من الصّدقة) قال الرمليّ: قال المرحوم الشّيخ عبد الرحمن العِماديّ مفتي الشّام في "مناسكه": وإذا حّج حجّة الإسلام، فصدقة التّطوّع بعد ذلك أفضل من حجّ التّطوّع عند محمّد، والحجّ أفضل عند أبي يوسف، وكان أبو حنيفة -رحمه الله- يقول بقول محمّد، فلمّا حجّ ورأى ما فيه من أنواع المشقّات الموجبة لتضاعف الحسنات رجع إلى قول أبي يوسف اهـ..قلتُ: قد يُقال: إنّ صدقة التّطوّع في زماننا أفضل؛ لما يلزم الحاجّ غالباً من ارتكاب المحظورات ومشاهدته لفواحش المنكرات وشُحّ عامّة النّاس بالصدقات وتركهم الفقراء والأيتام في حسرات، ولا سِيَّما في أيام الغلاء وضيق الأوقات وبتعدّي النّفع تتضاعف الحسنات، ثُمّ رأيتُ في مُتفرِّقات "اللُّباب":الجزم بأنّ الصّدقة أفضل منه، وقال شارحه القاري: أي: على ما هو المختار كما في "التجنيس" و"مُنية المفتي" وغيرهما، ولعلّ تلك الصّدقة محمولة على إعطاء الفقير الموصوف بغاية الفاقة أو في حال المجاعة وإلّا فالحجّ مشتمل على النّفقة، بل وزاد إنّ الدّرهم الّذي ينفق في الحجّ بسبعمائة ... إلخ. قلتُ: قد يُقال: ما ورد محمول على الحجّ الفرض على أنّه لا مانع من كون الصّدقة للمحتاج أعظم أجراً من سبعمائة".
(حاشية منحة الخالق على البحر الرائق، كتاب الحج، 2/334، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100306
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن