بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 محرم 1448ھ 19 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج 2026ء کی قانونی پابندیوں کی وجہ سے رمی قربانی اور حلق یا قصر میں ترتیب کا حکم


سوال

سعودی حکومت کی جانب سے سال 2026 ء کے حج ٹور آپریٹرز کو اس بات پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے حجاج کی قربانی حکومت کے منتخب عاملین کے ذریعہ سے کروائیں گے اور اس قربانی کی تمام تر رقم NUSUK MASAR کے ذریعہ پیشگی ادا کی جائے گی۔ اب تک کی ہدایات کے مطابق منتخب عاملین کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے قربانی کرنا سخت منع اور موجبِ جرمانہ  و گرفتاری ہوگا،  سعودی حکومت کے زیرِ اہتمام یہ قربانی ایامِ نحر کے تمام دنوں میں ہوگی۔ رقم کی ادائیگی کے بعد  حج ٹور آپر یٹر ز کو وقت متعین کرکے بتادیا جائے گا کہ آپ کے حجاج کی قربانی فلاں دن فلاں وقت تک ہو جائے گی ، لہذا اس کے بعد حلق کروالیں۔ اس طریقۂ کار پر عمل کرنے میں بعض پیچیدگیاں اور شرعی قباحت کے پیدا ہونے کا امکان ہے، مثلاً:
1۔  اگر چہ اب تک کی اطلاع ہے کہ قربان گاہ میں ٹور آپریٹرز کا نمائندہ موجود ہو گا ،مگر سابقہ تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکل امر ہوگا۔ لہذا اگر قربان گاہ میں کوئی نمائندہ موجود نہ ہوا تو قربانی کی تصدیق مشکل ہوگی کہ آیا قربانی کی بھی گئی ہے یا نہیں؟
2۔ دیے گئے وقت تک رمی نہ ہو اور اس سے قبل قربانی کر دی گئی تو ترتیب ٹوٹنے پر دم لازم آئے گا۔
3۔ رمی تو اول وقت میں کر لی، لیکن قربانی کا وقت شام ، رات یا دوسرے دن کا کوئی وقت دیا گیا ہو تو حاجی  کے لیے احرام کی پابندیوں کے ساتھ انتظار کرنا ایک مشکل امر ہو گا ۔ ان تمام ممکنہ صورتوں سے نکلنے کے لیے  آپ کی شرعی راہ نمائی درکار ہے کہ ایسا کیا طریقۂ اختیار کیا جائے کہ تمام مناسک بحسن خوبی سر انجام پائیں اور کسی بھی قسم کے شرعی قواعد کی خلاف ورزی کے موجب نہ ٹھہریں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں حج قران اور تمتع کرنے والے کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان رمی، حج کی قربانی اور حلق یا قصر کے درمیان ترتیب کی رعایت رکھے، اس کے لیے وہ متعلقہ ذمہ داران سے رابطہ میں رہے، جب وہ حاجی کو یہ بتا دیں کہ آپ کی قربانی ہوگئی تو وہ حلق یا قصر کروالے۔

اور اگر  متعلقہ ذمہ داروں کو مذبح خانوں تک رسائی نہ دی جائے اور کسی بھی ذریعہ سے انہیں یہ معلوم نہ ہوسکے کہ  قربانی دیے گئے وقت پر ہوچکی ہے یا نہیں؟ تو  حکومتی اداروں پر اعتماد  کرتے ہوئے  مقررہ وقت کے بعد حلق یا قصر  کروانا جائز ہے۔

لیکن اگر قانونی پابندیوں کی وجہ سے ترتیب برقرار نہ رہ سکے، یا ترتیب کی رعایت رکھنے میں شدید حرج ہو اور اس وجہ سے ترتیب کی رعایت نہیں رکھی گئی تو  دم لازم نہیں ہوگا، اس صورت میں  قانونی پابندیوں کی وجہ سے صاحبین رحمہما اللہ کی رائے کو اختیار کیا گیا ہے، جو کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی ایک قول ہے، جسے امام محمد رحمہ اللہ نے ـ «الحجة على أھل المدينة» میں ذکر کیا ہے۔ تاہم اگر کوئی حاجی اس صورت میں احتیاطًا دم دینا چاہے تو دےسکتاہے۔

الحجۃ علی اھل المدینۃ میں ہے:

"أخبرنا محمد عن أبي حنيفة في الرجل يجهل وهو حاج فيحلق رأسه قبل أن يرمي الجمرة أنه لا شيء عليه، وقال أهل المدينة: إذا جهل الرجل فحلق رأسه قبل أن يرمي الجمرة افتدى، وقال محمد الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك مشهور بين أنه سئل يوم النحر عمن حلق رأسه قبل أن يرمي قال ارم ولا حرج، فما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء يومئذ قدم و لا أخر إلا قال افعل ولا حرج."

(الحجة على أهل المدينة لمحمد بن الحسن الشيباني 2/ 372 ط: عالم الكتب – بيروت)

فتح القدیر میں ہے:

(ومن أخر الحلق حتى مضت أيام النحر فعليه دم عند أبي حنيفة، وكذا إذا أخر طواف الزيارة) حتى مضت أيام التشريق (فعليه دم عنده وقالا: لا شيء عليه في الوجهين) وكذا الخلاف في تأخير الرمي وفي تقديم نسك على نسك كالحلق قبل الرمي ونحر القارن قبل الرمي والحلق قبل الذبح، لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء ولا يجب مع القضاء شيء آخر، وله حديث ابن مسعود - رضي الله عنه - أنه قال: " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " ولأن التأخير عن المكان يوجب الدم فيما هو موقت بالمكان كالإحرام فكذا التأخير عن الزمان فيما هو موقت بالزمان

و في الفتح: (قوله لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء إلخ) ولهما أيضا من المنقول ما في الصحيحين «أنه - عليه الصلاة والسلام - وقف في حجة الوداع فقال رجل: يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح، قال اذبح ولا حرج، وقال آخر: يا رسول الله لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي، قال: ارم ولا حرج، فما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج» . والجواب أن نفي الحرج يتحقق بنفي الإثم والفساد فيحمل عليه دون نفي الجزاء، فإن في قول القائل لم أشعر ففعلت ما يفيد أنه ظهر له بعد فعله أنه ممنوع من ذلك، فلذا قدم اعتذاره على سؤاله وإلا لم يسأل أو لم يعتذر.

لكن قد يقال: يحتمل أن الذي ظهر له مخالفة ترتيبه لترتيب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فظن أن ذلك الترتيب متعين فقدم ذلك الاعتذار وسأل عما يلزمه به، فبين - عليه الصلاة والسلام - في الجواب عدم تعينه عليه بنفي الحرج، وأن ذلك الترتيب مسنون لا واجب. والحق أنه يحتمل أن يكون كذلك، وأن يكون الذي ظهر له كان هو الواقع إلا أنه - عليه الصلاة والسلام - عذرهم للجهل وأمرهم أن يتعلموا مناسكهم، وإنما عذرهم بالجهل؛ لأن الحال كان إذ ذاك في ابتدائه، وإذا احتمل كلا منهما فالاحتياط اعتبار التعيين والأخذ به واجب في مقام الاضطراب فيتم الوجه لأبي حنيفة، ويؤيده ما نقل عن ابن مسعود - رضي الله عنه - " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " بل هو دليل مستقل عندنا

(فتح القدير، كتاب الحج، باب الجنايات 3/ 63 ط: دار الفكر، لبنان)

شرح عقود رسم المفتی میں ہے:

والحاصل أنه إذا اتفق أبو حنيفة و صاحباه على جواب لم يجز العدول عنه إلا لضرورة و كذا إذا وافقه أحدهما و أما إذا انفرد عنهما بجواب و خالفاه فيه فإن انفرد كل منهما بجواب أيضًا بأن لم يتفقا على شيءٍ واحدٍ فالظاهر عدم ترجيح قوله أيضًا و أما إذا خالفاه واتفقا على جواب واحد حتى صار هو في جانب وهما في جانب فقيل: يرجح قوله أيضًا و هذا قول الإمام عبدالله بن المبارك، و قيل: يتخير المفتي. وقال في السراجية: والأول أصح إذا لم يكن المفتي مجتهدًا، و هذا يفيد اختيار القول الثاني إن كان المفتي مجتهدًا. ومعنى تخييره أنه ينظر في الدليل فيفتي بما يظهر له و لايتعين عليه قول الإمام، و هذا الذي صححه في الحاوي أيضًا بقوله: والأصح أن العبرة لقوة الدليل؛ لأن اعتبار قوة الدليل شأن المفتي المجتهد فصار فيما إذا خالفه صاحباه ثلاثة أقوال: الأول: اتباع قول الإمام بلا تخيير. الثاني: التخيير مطلقًا. الثالث: و هو الأصح التفصيل بين المجتهد و غيره، و به جزم القاضي خان كما يأتي، و الظاهر أن هذا توفيق بين القولين بحمل القول باتباع قول الإمام على المفتي الذي هو غير مجتهد وحمل القول بالتخيير على المفتي المجتهد ... وإن خالفه صاحباه في ذلك فإن كان اختلافهم اختلاف عصر و زمان كالقضاء بظاهر العدالة يأخذ بقول صاحبيه لتغيير أحوال الناس و في المزارعة والمعاملة و نحوها يختار قولهما لإجماع المتأخرين على ذلك، و فيما سوي ذلك يخير المفتي المجتهد و يعمل بما أفضي إليه رأيه، و قال عبدالله بن المبارك: يأخذ بقول أبي حنيفة ... لايرجح قول صاحبيه أو أحدهما على قوله إلا لموجب و هو إما لضعف دليل الإمام و إما لضرورة والتعامل، كترجيح قولهما في المزارعة والمعاملة وإما لأن خلافهما له بسبب اختلاف العصر والزمان وأنه لو شاهد ما وقع في عصرهما لوافقهما كعدم القضاء بظاهر العدالة."

(شرح عقود رسم المفتي ص:38 إلى 41 ط:مكتبة البشری)

فقط و اللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101883

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں