بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج قران میں گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کا حکم


سوال

حج قران میں گرمی کی وجہ سے غسل کرنا جائز ہے؟

جواب

حالت احرام میں غسل کرنا ممنوع نہیں ہے،خواہ احرام عمرے  کا ہو یا حج کا،اور یہ حکم حج افراد،حج تمتع اور حج قران سب کو شامل ہے،البتہ احرام کی حالت میں غسل کرتے ہوئے خوشبو والا صابن استعمال کرنا ممنوع ہے۔اور ضرورت نہ ہو تو غسل کر کے میل کچیل دور نہ کرنا مستحب ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله لا يتقي الاستحمام إلخ) شروع في مباحات الإحرام وفي شرح اللباب ويستحب أن لا يزيل الوسخ بأي ماء كان بل يقصد الطهارة أو رفع الغبار والحرارة."

(كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج: 2،ص: 490، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101583

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں