
اگر کوئی حجِ قران کی نیت سے گھر سے نکلا اور پھر حرم پہنچ کر عمرہ کرنے کے بعد تمتع کا ارادہ کرے اور نیت بدل کر احرام کھولے تو کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں حج قِران شروع كرنے كے بعد حجِ تمتع میں تبدیل کرنا جائز نہیں؛ اس لئے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرہ کی نیت کرنے کے بعد تلبیہ پڑھ لیتا ہے تو تو پھر نیت کو بدلنا جائز نہیں رہتا، بلکہ اس حج یا قران کی تکمیل لازم ہوجاتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
''والثاني أنه إذا أتم الإحرام بحج أو عمرۃ لایخرج عنه إلابعمل ما أحرم به وإن أفسدہ إلا فی الفوات فبعمل العمرۃ وإلا الإحصار فبذبح الھدي۔
(قوله إلا بعمل) استثناء من مقدر والأصل لایخرج عنه في حالة من الأحوال بعمل من الأعمال إلا بعمل الخ) وقوله إلا في الفوات فبعمل العمرۃ وإلا الإحصار) استثناء من حالة القدرۃ۔''
(کتاب الحج، ج: 2،ص : 480، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101828
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن