بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج قران شروع کرنے کے بعد احرام تمتع میں تبدیل کرنے کا حکم


سوال

اگر کوئی حجِ قران کی نیت سے گھر سے نکلا اور پھر حرم پہنچ کر عمرہ کرنے کے بعد  تمتع کا ارادہ کرے اور نیت بدل  کر  احرام کھولے تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں حج قِران شروع كرنے كے بعد  حجِ تمتع میں تبدیل کرنا جائز نہیں؛ اس لئے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرہ کی نیت کرنے کے بعد تلبیہ پڑھ لیتا ہے تو تو پھر نیت کو بدلنا جائز نہیں رہتا، بلکہ اس حج یا قران کی تکمیل لازم ہوجاتی ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

''والثاني أنه إذا أتم الإحرام بحج أو عمرۃ لایخرج عنه إلابعمل ما أحرم به وإن أفسدہ إلا فی الفوات فبعمل العمرۃ وإلا الإحصار فبذبح الھدي۔
 (قوله إلا بعمل) استثناء من مقدر والأصل لایخرج عنه في حالة من الأحوال بعمل من الأعمال إلا بعمل الخ) وقوله إلا في الفوات فبعمل العمرۃ وإلا الإحصار) استثناء من حالة القدرۃ۔''

(کتاب الحج، ج: 2،ص : 480، ط: سعيد) 

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101828

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں