بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج افراد والے پر قربانی کا حکم


سوال

میں اور میرے شوہر ان شاء اللہ اس سال حج پر جا رہے ہیں اور ہمیں حجِ افراد کرنا ہے۔ کیا قربانی ہم پر فرض ہے؟ اور اگر فرض ہے تو ایک قربانی کافی ہوگی دونوں کے لیے یا دو قربانیاں دینی ہوں گی؟

جواب

حج افراد کرنے والے پر دم شکر (حج کی قربانی)  لازم نہیں، نیز اگر آپ اور آپ کے شوہر قربانی کے ایام میں مکہ میں مقیم ہوں(یعنی حج کے ایام میں منیٰ جانے سے پہلے ہی آپ مکہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام پذیر رہے ہیں) اور آپ  دونوں صاحب نصاب بھی ہیں،  تو آپ  دونوں پر عید الاضحیٰ کی قربانی واجب ہے، ورنہ (اگرقربانی کے ایام میں  مکہ میں مسافر ہوں) تو عید کی قربانی بھی واجب نہیں۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(وهي واجبة على المياسير والمقيمين عندنا). وذكر في الجامع عن أبي يوسف أنها سنة وهو قول الشافعي لقوله - عليه الصلاة والسلام - "كتبت علي الأضحية ولم تكتب عليكم".

وقال - عليه الصلاة والسلام - «خصصت بثلاث وهي لكم سنة الأضحية وصلاة الضحى والوتر». وقال - صلى الله عليه وسلم - «ضحوا فإنها سنة أبيكم إبراهيم» - عليه السلام - وعن أبي بكر وعمر - رضي الله عنهما - أنهما كانا لا يضحيان السنة والسنتين مخافة أن يراها الناس واجبة".

(كتاب الذبائح، باب الأضحية، ج:12، ص:8، ط:دار المعرفة)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله ثم اذبح) أي على وجه الأفضلية؛ لأن الكلام في المفرد وهو ليس بواجب عليه، وإنما يجب على القارن والمتمتع، وأما الأضحية فإن كان مسافرا فلا أضحية عليه، وإلا فعليه كالمكي ".

(كتاب الحج، باب الإحرام، ج:2، ص:371، ط:دار الكتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102277

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں