بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج 2026ء کی قانونی پابندیوں کی وجہ سے رمی قربانی اور حلق یا قصر میں ترتیب کا حکم


سوال

عند الاحناف چوں کہ پہلے رمی پھر قربانی پھر حلق / تقصیر کی ترتیب واجب بیان کی جاتی ہے،  جب کہ سعودیہ کے مقامی علماء کے ہاں تینوں اعمال کا مکمل ہو جانا تو ضروری ہے، صرف ترتیب بر قرار نہ رہنے کی صورت میں بھی کوئی دم واجب نہ ہونے کا بیان کیا جاتا ہے، اور سعودی بینک سسٹم کی قربانی میں وقت اور ترتیب میں اطمئنان نہ ہونے کی صورت میں گزشتہ سالوں میں جو حجاج کرام اس ترتیب واجب والے ڈسپلن کو مقدم کرتے تھے،وہ منی یا شہر مکہ کے حدود حرم کے اندر واقع قربان گاہوں میں جاکر انفرادی یا چھوٹے گروپس کی صورت میں اپنی قربانی کرتے تھے، اس سال (2026ء) کی حج تعلیمات میں ہمیں گروپ آرگنائزرز کو اتھارٹیز کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ہر قارن اور متمتع حاجی کے لئے لازم ہے کہ وہ نسک مسار پلیٹ فارم سے ہی قربانی بک کرے گا جو کہ سعودی بینک سسٹم / اضاحی پروجیکٹ کے تحت ہو گی نیز کسی حاجی یا اس کے نمائندہ کو انفرادی یا گروپ کی شکل میں مقامی کسی متبادل چینل سے قربانی کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور جو کوئی اس میں ملوث پایا گیا وہ حاجی قانونی پکڑ جرمانہ یا بلیک لسٹنگ وغیرہ کا شکار ہو سکتا ہے، وطن عزیز پاکستان سے مختلف مسالک کے عازمین سفر حج کو جاتے ہیں اور اکثریت احناف کی ہوتی ہے۔

اس تمام صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے:

اگر کوئی حاجی قربانی کے مقررہ وقت تک رمی نہ کر سکے، یا بھرپور کوشش کے باوجود مقررہ وقت سے پہلے رمی ادا نہ ہوپائے، تو کیا اس صورت میں ترتیب کی مخالفت کی وجہ سے دم لازم ہوگا؟

 چوں کہ اس کے علاوہ کوئی متبادل صورت موجود نہیں، اور ہر حاجی کے لیے دوہری فیس ادا کرنا بھی مشقت کا باعث ہے، اس لیے ایسی صورت میں ترتیب کی مخالفت کی گنجائش ہوگی اور دم لازم نہیں ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں حج قران اور تمتع کرنے والے کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان رمی، حج کی قربانی اور حلق یا قصر کے درمیان ترتیب کی رعایت رکھے، اس کے لیے وہ متعلقہ ذمہ داران سے رابطہ میں رہے، جب وہ حاجی کو یہ بتا دیں کہ آپ کی قربانی ہوگئی تو وہ حلق یا قصر کروالے۔

اور اگر  متعلقہ ذمہ داروں کو مذبح خانوں تک رسائی نہ دی جائے اور کسی بھی ذریعہ سے انہیں یہ معلوم نہ ہوسکے کہ  قربانی دیے گئے وقت پر ہوچکی ہے یا نہیں؟ تو  حکومتی اداروں پر اعتماد  کرتے ہوئے  مقررہ وقت کے بعد حلق یا قصر  کروانا جائز ہے۔

لیکن اگر قانونی پابندیوں کی وجہ سے ترتیب برقرار نہ رہ سکے، یا ترتیب کی رعایت رکھنے میں شدید حرج ہو اور اس وجہ سے ترتیب کی رعایت نہیں رکھی گئی تو  دم لازم نہیں ہوگا، اس صورت میں  قانونی پابندیوں کی وجہ سے صاحبین رحمہما اللہ کی رائے کو اختیار کیا گیا ہے، جو کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی ایک قول ہے، جسے امام محمد رحمہ اللہ نے ـ «الحجة على أھل المدينة» میں ذکر کیا ہے۔ تاہم اگر کوئی حاجی اس صورت میں احتیاطًا دم دینا چاہے تو دےسکتاہے۔

الحجة علی أھل المدینةمیں ہے:

"أخبرنا محمد عن أبي حنيفة في الرجل يجهل وهو حاج فيحلق رأسه قبل أن يرمي الجمرة أنه لا شيء عليه، وقال أهل المدينة: إذا جهل الرجل فحلق رأسه قبل أن يرمي الجمرة افتدى، وقال محمد الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك مشهور بين أنه سئل يوم النحر عمن حلق رأسه قبل أن يرمي قال ارم ولا حرج، فما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء يومئذ قدم و لا أخر إلا قال افعل ولا حرج."

(الحجة على أهل المدينة لمحمد بن الحسن الشيباني 2/ 372 ط: عالم الكتب – بيروت)

فتح القدیر میں ہے:

(ومن أخر الحلق حتى مضت أيام النحر فعليه دم عند أبي حنيفة، وكذا إذا أخر طواف الزيارة) حتى مضت أيام التشريق (فعليه دم عنده وقالا: لا شيء عليه في الوجهين) وكذا الخلاف في تأخير الرمي وفي تقديم نسك على نسك كالحلق قبل الرمي ونحر القارن قبل الرمي والحلق قبل الذبح، لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء ولا يجب مع القضاء شيء آخر، وله حديث ابن مسعود - رضي الله عنه - أنه قال: " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " ولأن التأخير عن المكان يوجب الدم فيما هو موقت بالمكان كالإحرام فكذا التأخير عن الزمان فيما هو موقت بالزمان

و في الفتح: (قوله لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء إلخ) ولهما أيضا من المنقول ما في الصحيحين «أنه - عليه الصلاة والسلام - وقف في حجة الوداع فقال رجل: يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح، قال اذبح ولا حرج، وقال آخر: يا رسول الله لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي، قال: ارم ولا حرج، فما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج» . والجواب أن نفي الحرج يتحقق بنفي الإثم والفساد فيحمل عليه دون نفي الجزاء، فإن في قول القائل لم أشعر ففعلت ما يفيد أنه ظهر له بعد فعله أنه ممنوع من ذلك، فلذا قدم اعتذاره على سؤاله وإلا لم يسأل أو لم يعتذر.

لكن قد يقال: يحتمل أن الذي ظهر له مخالفة ترتيبه لترتيب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فظن أن ذلك الترتيب متعين فقدم ذلك الاعتذار وسأل عما يلزمه به، فبين - عليه الصلاة والسلام - في الجواب عدم تعينه عليه بنفي الحرج، وأن ذلك الترتيب مسنون لا واجب. والحق أنه يحتمل أن يكون كذلك، وأن يكون الذي ظهر له كان هو الواقع إلا أنه - عليه الصلاة والسلام - عذرهم للجهل وأمرهم أن يتعلموا مناسكهم، وإنما عذرهم بالجهل؛ لأن الحال كان إذ ذاك في ابتدائه، وإذا احتمل كلا منهما فالاحتياط اعتبار التعيين والأخذ به واجب في مقام الاضطراب فيتم الوجه لأبي حنيفة، ويؤيده ما نقل عن ابن مسعود - رضي الله عنه - " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " بل هو دليل مستقل عندنا

(فتح القدير، كتاب الحج، باب الجنايات 3/ 63 ط: دار الفكر، لبنان)

شرح عقود رسم المفتی میں ہے:

والحاصل أنه إذا اتفق أبو حنيفة و صاحباه على جواب لم يجز العدول عنه إلا لضرورة و كذا إذا وافقه أحدهما و أما إذا انفرد عنهما بجواب و خالفاه فيه فإن انفرد كل منهما بجواب أيضًا بأن لم يتفقا على شيءٍ واحدٍ فالظاهر عدم ترجيح قوله أيضًا و أما إذا خالفاه واتفقا على جواب واحد حتى صار هو في جانب وهما في جانب فقيل: يرجح قوله أيضًا و هذا قول الإمام عبدالله بن المبارك، و قيل: يتخير المفتي. وقال في السراجية: والأول أصح إذا لم يكن المفتي مجتهدًا، و هذا يفيد اختيار القول الثاني إن كان المفتي مجتهدًا. ومعنى تخييره أنه ينظر في الدليل فيفتي بما يظهر له و لايتعين عليه قول الإمام، و هذا الذي صححه في الحاوي أيضًا بقوله: والأصح أن العبرة لقوة الدليل؛ لأن اعتبار قوة الدليل شأن المفتي المجتهد فصار فيما إذا خالفه صاحباه ثلاثة أقوال: الأول: اتباع قول الإمام بلا تخيير. الثاني: التخيير مطلقًا. الثالث: و هو الأصح التفصيل بين المجتهد و غيره، و به جزم القاضي خان كما يأتي، و الظاهر أن هذا توفيق بين القولين بحمل القول باتباع قول الإمام على المفتي الذي هو غير مجتهد وحمل القول بالتخيير على المفتي المجتهد ... وإن خالفه صاحباه في ذلك فإن كان اختلافهم اختلاف عصر و زمان كالقضاء بظاهر العدالة يأخذ بقول صاحبيه لتغيير أحوال الناس و في المزارعة والمعاملة و نحوها يختار قولهما لإجماع المتأخرين على ذلك، و فيما سوي ذلك يخير المفتي المجتهد و يعمل بما أفضي إليه رأيه، و قال عبدالله بن المبارك: يأخذ بقول أبي حنيفة ... لايرجح قول صاحبيه أو أحدهما على قوله إلا لموجب و هو إما لضعف دليل الإمام و إما لضرورة والتعامل، كترجيح قولهما في المزارعة والمعاملة وإما لأن خلافهما له بسبب اختلاف العصر والزمان وأنه لو شاهد ما وقع في عصرهما لوافقهما كعدم القضاء بظاهر العدالة."

(شرح عقود رسم المفتي ص:38 إلى 41 ط:مكتبة البشری)

فقط و اللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102487

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں