
حج کے دوران دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، مقیم یا مسافر، اس بارے میں علماء کی رائے مختلف ہے کہ منی مکہ کا حصہ ہے یا نہیں؟ جن کا موقف ہے کہ "منی مکہ کا حصہ ہے" ان کے نزدیک مکہ منی مزدلفہ عرفات کا قیام اگر مجموعی طور پر 15 دن یا اس سے زیادہ کا ہو تو اس صورت میں حج کرنے والا مقیم ہوگا، ورنہ مسافر، اس کے برخلاف جن کا موقف ہے کہ "منی مکہ کا حصہ نہیں ہے" ان کے نزدیک اگر منی جانے سے قبل 15 دن کا قیام مکہ میں کر چکا ہو تو صرف اس صورت میں مقیم ہوگا، ورنہ مسافر ۔
میرے سوالات جماعت کی نماز سے متعلق ہیں جو درج ذیل ہے۔
1۔ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی موقف کے ہوں اور امام مقیم ہو اور مقتدی مسافر تو اس صورت میں مسافر مقتدی کو مقیم امام کے پیچھے کتنی رکعت کی نیت کرنی ہوگی؟
2۔ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی موقف کے ہوں اور امام مسافر ہو اور مقتدی مقیم ہو تو اس صورت میں مقیم مقتدی کو مسافر امام کے پیچھے کتنی رکعت کی نیت کرنی ہوگی؟
3۔ امام اور مقتدی دونوں الگ الگ موقف کے ہوں یعنی ایک کا موقف ہو کہ "منیٰ مکہ کا حصہ ہے" جب کہ دوسرے کا موقف ہو کہ "منیٰ مکہ کا حصہ نہیں ہے" تو اس صورت میں کیا یہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟
منی، مزدلفہ اور عرفات تینوں مقاماتِ مقدسہ نصوص کی رُو سے تا قیامت مکہ مکرمہ سے خارج اور مستقل جگہیں ہیں اور کبھی بھی مکہ مکرمہ کا حصہ نہیں بن سکتے،اور منیٰ چوں کہ ایک غیر آباد علاقہ ہے تو مکہ مکرمہ کی آبادی کے منی تک پہنچ جانے کی صورت میں بھی دونوں کو موضع واحد کے حکم میں قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، نیز ترمذی شریف اور ابو داؤد شریف وغیرہ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت مطہرہ کا مقصد اور منشا بھی "منیٰ" کو قیامت تک بحیثیت "میدان" باقی رکھنا ہے، تاکہ حجاج یہاں ٹھہر کر مناسکِ حج ادا کرسکیں، چناں چہ حدیث شریف میں ہے:
"حدثنا يوسف بن عيسى، ومحمد بن أبان، قالا: حدثنا وكيع، عن إسرائيل، عن إبراهيم بن مهاجر، عن يوسف بن ماهك، عن أمه مسيكة، عن عائشة قالت: قلنا يا رسول الله، ألا نبني لك بيتا يظلك بمنى؟ قال: «لا، منى مناخ من سبق»: «هذا حديث حسن»."
(سنن الترمذي، أبواب الحج، باب ما جاء أن منى مناخ من سبق، ج:3، ص:219، ط:مصطفى البابي الحلبي - مصر)
ترجمہ:"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اپ کے لیے "منیٰ" میں کوئی گھر نہ بنوائیں جس کے سائے میں آپ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نہیں! "منیٰ" ان لوگوں کا پڑاؤ ہے جو یہاں پہلے آیا۔"
اس حدیث کی تشریح میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے "مرقاة المفاتيح" میں لکھا ہے کہ:
"(وعنها) أي: عن عائشة (قالت: قلنا) أي: معشر الصحابة (يا رسول الله، ألا نبني) : بصيغة المتكلم ( «لك بناء يظلك بمنى؟» ) أي: يوقع الظل عليك، وليكون لك أبدا، أو يظل ظلا ظليلا بالعمارة؛ لأن الخيمة ظلها ضعيف لا يمنع تأثير الشمس بالكلية. (وقال: «لا، منى مناخ من سبق» ) بضم الميم أي: موضع الإناخة، والمعنى أن الاختصاص فيه بالسبق لا بالبناء فيه، أي: هذا مقام لا اختصاص فيه لأحد، قال الطيبي رحمه الله: أي: أتأذن أن نبني لك بيتا في منى لتسكن فيه؟ فمنع، وعلل بأن منى موضع لأداء النسك من النحر، ورمي الجمار، والحلق يشرك فيه الناس، فلو بنى فيها لأدى إلى كثرة الأبنية تأسيا به، فتضيق على الناس، وكذلك حكم الشوارع، ومقاعد الأسواق."
(كتاب المناسك، باب رمي الجمار، ج:5، ص:1818، ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)
اس حدیث اور اس کی تشریح سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ "منیٰ" ہمیشہ میدان اور پڑاؤ کی جگہ کی حیثیت سے باقی رہے گا، اس کا آباد ہونا منشا نبوی ﷺ کے خلاف ہے، لہذا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر منیٰ میں کبھی آبادی ہو بھی جائے پھر بھی وہ شرعاً غیر معتبر ہوگی اور شرعی اعتبار سے اسے میدان ہی تصور کیا جائے گا۔چناں چہ جب منیٰ کا قیامت تک کے لیے ایک غیر آباد علاقہ ہونا طے پاچکا ہے تو اب منیٰ کسی بھی صورت مکہ مکرمہ کا جزء نہیں بن سکتا ہے، کیوں کہ فقہاء کرام نے جہاں اتصال کی بحث کی ہے اس سے دو آبادیوں کا اتصال مراد ہے ، نہ کہ غیر آباد علاقے کا آباد علاقے کے ساتھ اتصال، اس لیے سفر و اقامت کے احکام میں ایک غیر آباد علاقے کو آباد علاقے کا تابع اور جز بناکر اس غیر آباد علاقے پر آباد علاقے والے احکام نافذ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ویسے بھی نیت اقامت آباد علاقے میں معتبر ہوتی ہے، بیابان اور جنگل میں نیت اقامت معتبر نہیں ہوتی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر.
بخلاف البساتين، ولو متصلة بالبناء لأنها ليست من البلدة ولو سكنها أهل البلدة في جميع السنة أو بعضها، ولا يعتبر سكنى الحفظة والأكرة اتفاق إمداد ... (قوله من جانب خروجه إلخ) قال في شرح المنية: فلا يصير مسافرا قبل أن يفارق عمران ما خرج منه من الجانب الذي خرج، حتى لو كان ثمة محلة منفصلة عن المصر، وقد كانت متصلة به لا يصير مسافرا ما لم يجاوزها. ولو جاوز العمران من جهة خروجه وكان بحذائه محلة من الجانب الآخر يصير مسافرا إذ المعتبر جانب خروجه اهـ وأراد بالمحلة في المسألتين ما كان عامرا أما لو كانت المحلة خرابا ليس فيها عمارة فلا يشترط مجاوزتها في المسألة الأولى ولو متصلة بالمصر كما لا يخفى."
(کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج:2، ص:121، ط:دارالفکر)
اس ساری تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حاجی کے مکہ مکرمہ میں مقیم ہونے کے لیے مکہ مکرمہ اور منیٰ میں میں مجموعی طور پر 15 دن قیام کی نیت کافی نہیں، بلکہ مکہ مکرمہ میں مقیم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی (آٹھ ذی الحج کو) منیٰ روانگی سے قبل مکہ مکرمہ میں کم از کم 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت ہو،لہٰذا اگر کوئی حاجی منی روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ (15) دن یا اس سے زیادہ اقامت کی نیت سے ٹھہرے گا تو وہ مکہ مکرمہ میں چونکہ مقیم بن چکا ہوتا ہے، اس لیے مکہ سے جب منیٰ ، عرفہ، مزدلفہ جائے گا، تو مکہ سے وہاں تک مسافتِ سفر نہ ہونے کی وجہ سے منیٰ، عرفات اور مزدلفہ تمام مقامات میں مقیم شمار ہوگا اور ان تمام جگہوں میں اتمام کرے گا یعنی پوری نماز پڑھے گا، لیکن اگر حاجی کی منی روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ (15) دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ ہو، بلکہ منیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ (15) دن سے کم قیام ہو تو ایسی صورت میں وہ مکہ مکرمہ ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ تمام مقامات میں مسافر شمار ہوگا اور ان تمام جگہوں میں قصر کرے گا یعنی چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھے گا۔
جو شخص مقیم ہوتا ہے اس پر ہر حال میں اتمام کرنا (یعنی پوری نماز پڑھنا) لازم ہوتا ہے، خواہ وہ انفرادی نماز پڑھے یا باجماعت پڑھے، اور خواہ کسی مقیم امام کی اقتدا میں نماز پڑھے یا مسافر امام کی اقتدا میں نماز پڑھے، البتہ جو شخص مسافر ہوتا ہے اس پر لازم ہوتا ہے کہ انفرادی نماز پڑھتے ہوئے، نماز کی امامت کرواتے ہوئے اور مسافر امام کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہوئے قصر نماز پڑھے،لیکن مقیم امام کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہوئے مسافر مقتدی پر اتمام کرنا (مکمل نماز پڑھنا) لازم ہے۔اس تمہید کی روشنی میں آپ کے تینوں سوالات کے جوابات یہ ہیں:
1۔اگر مقتدی حاجی مسافر ہو یعنی اس کا منیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام پندرہ (15) دن سے کم ہو جب کہ امام حاجی مقیم ہو یعنی اس کا منیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام پندرہ (15) دن یا اس سے زیادہ ہو تو ایسی صورت میں مسافر مقتدی مقیم امام کی اقتدا میں چار رکعت والی نماز میں پوری چار رکعت پڑھے گا اور چار رکعت نماز ہی کی نیت کرے گا،کیوں کہ مسافر کے لیے قصر کا حکم اس وقت ہے جب کہ وہ اکیلا نماز پڑھ رہا ہو یا مسافر امام کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا ہو یا وہ خود امام ہو۔
2۔اگر مقتدی حاجی مقیم ہو یعنی اس کا منیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام پندرہ (15) دن یا اس سے زیادہ ہو جب کہ نماز پڑھانے والا حاجی مسافر ہو یعنی اس کا منیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام پندرہ (15) دن سے کم ہوتو ایسی صورت میں مقیم مقتدی مسافر امام کی اقتدا میں چار رکعت والی نماز پڑھتے ہوئے چار رکعت نماز ہی کی نیت کرے گا اور پوری چار رکعت پڑھے گا جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ جب مسافر امام دو رکعت پر سلام پھیر دے گا تو یہ مقیم مقتدی دو رکعت پر سلام پھیرنے کے بجائے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے گا اور لاحق کی طرح چار رکعت نماز مکمل کرے گا۔
3۔اگر امام منی کو مکہ مکرمہ کا حصہ سمجھتا ہو اور اس وجہ سے منیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام پندرہ (15) دن سے کم ہونے کے باوجود (منیٰ، عرفات اور بعد کے ایام ملانے کی وجہ سے) وہ خود کو مقیم سمجھ کر چار رکعت والی نماز (ظہر، عصر اور عشاء) مکمل نماز پڑھائے تو مسافر حاجی (یعنی جس کامنیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام پندرہ (15) دن سے کم ہو) کے لیے ظہر، عصر اور عشاء کی نماز اس امام کے پیچھے پڑھنا جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ امام پر دوسری رکعت کے آخر میں سلام پھیرنا لازم تھا، لیکن وہ دو رکعت پر سلام پھیرے بغیر مزید دو رکعت پڑھ رہا ہے جو کہ نفل شمار ہوں گی اور فرض نماز کی آخری رکعت میں قصداً سلام پھیرے بغیر نفل نماز کو اس کے ساتھ شامل کردینا جائز نہیں ہے، لہٰذا مسافر حاجی اگر ایسے امام کی اقتدا میں اتمام کرے گا یعنی پوری نماز پڑھے گا تو اسے بھی اس ناجائز فعل کا ارتکاب کرنا پڑے گا۔ اگر مسافرحاجی نے ایسے امام کی اقتدا میں ظہر، عصر یا عشاء کی چار رکعت نماز پڑھ لی تو اگرچہ فرض تو ادا ہوجائے گا لیکن واجب ترک کرنے کی وجہ سے اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوگا۔
اسی طرح مقیم حاجی (یعنی جس کامنیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام پندرہ (15) دن یا اس سے زیادہ ہو) کے لیے بھی چار رکعت والی نماز (ظہر، عصر اور عشاء) ایسے امام کے پیچھے پڑھنا جائز نہیں جو منیٰ روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ (15) دن سے کم قیام ہونے کے باوجود اتمام کرے یعنی ظہر، عصر اور عشاء میں چار رکعت پڑھائے، کیوں کہ ایسی صورت میں مقیم حاجی کی آخری دو رکعت کی حیثیت "صلاۃ المفترض خلف المتنفل" (یعنی فرض نماز پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتدا کرنے) کی ہوگی، اس لیے کہ مقیم مقتدی کے لیے تیسری اور چوتھی رکعت فرض ہے، جب کہ امام کے مسافر ہونے کی وجہ سے اس کی تیسری اور چوتھی رکعت کی حیثیت نفل کی ہے ، لہٰذا چوں کہ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے ادا نہیں ہوتی، اس لیے مقیم حاجی کے لیے ایسے امام کی اقتدا میں ظہر، عصر اور عشاءکی چار رکعت پڑھنا جائز نہیں ہے، اگر مقیم حاجی نے ایسے امام کی اقتدا میں ظہر، عصر اور عشاءکی چار رکعت نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ادا نہیں ہوگی اور اس نماز کا اعادہ کرنا فرض ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان ما يصير المسافر به مقيما: فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة،واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة ... (وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنىٰأو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما، ألا ترى أنه لو خرج إليه المسافر يقصر فلم يوجد الشرط " وهو نية الإقامة في موضع واحد خمسة عشر يوما " فلغت نيته ... وذكر في كتاب المناسك أن الحاج إذا دخل مكة في أيام العشر ونوى الإقامة خمسة عشر يوما أو دخل قبل أيام العشر لكن بقي إلى يوم التروية أقل من خمسة عشر يوما ونوى الإقامة لا يصح؛ لأنه لا بد له من الخروج إلى عرفات فلا تتحقق نية إقامته خمسة عشر يوما فلا يصح، وقيل: كان سبب تفقه عيسى بن أبان هذه المسألة وذلك أنه كان مشغولا بطلب الحديث، قال: فدخلت مكة في أول العشر من ذي الحجة مع صاحب لي، وعزمت على الإقامة شهرا فجعلت أتم الصلاة فلقيني بعض أصحاب أبي حنيفة فقال: أخطأت فإنك تخرج إلى منى وعرفات فلما رجعت من منى بدا لصاحبي أن يخرج وعزمت على أن أصاحبه وجعلت أقصر الصلاة فقال لي صاحب أبي حنيفة: أخطأت فإنك مقيم بمكة فما لم تخرج منها لا تصير مسافرا فقلت: أخطأت في مسألة في موضعين فدخلت مجلس محمد واشتغلت بالفقه وإنما أوردنا هذه الحكاية ليعلم مبلغ علم الفقه فيصير مبعثة للطلبة على طلبه."
(کتاب الصلوۃ، فصل بیان ما یصیر المسافر به مقیما ،ج1، ص97، ط : دار الکتب العلمیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى) فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته لأنه يخرج إلى منى وعرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها وبعد عوده من منى تصح.
(قوله بموضعين مستقلين) لا فرق بين المصرين والقريتين والمصر والقرية بحر. (قوله فلو دخل إلخ) هو ضد مسألة دخول الحاج الشام فإنه يصير مقيما حكما وإن لم ينو الإقامة وهذا مسافر حكما وإن نوى الإقامة لعدم انقضاء سفره ما دام عازما على الخروج قبل خمسة عشر يوما أفاده الرحمتي. قيل: هذه المسألة كانت سببا لتفقه عيسى بن أبان ... قال في البدائع: وإنما أوردنا هذه الحكاية ليعلم مبلغ العلم فيصير مبعثة للطلبة على طلبه. اهـ. بحر.
أقول: ويظهر من هذه الحكاية أن نيته الإقامة لم تعمل عملها إلا بعد رجوعه لوجود خمسة عشر يوما بلا نية خروج في أثنائها، بخلاف ما قبل خروجه إلى عرفات لأنه لما كان عازما على الخروج قبل تمام نصف شهر لم يصر مقيما، ويحتمل أن يكون جدد نية الإقامة بعد رجوعه وبهذا سقط ما أورده العلامة القاري في شرح اللباب من أن في كلام صاحب الإمام تعارضا حيث حكم أولا بأنه مسافر وثانيا بأنه مقيم مع أن المسألة بحالها، والمفهوم من المتون أنه لو نوى في إحداهما نصف شهر صح فحينئذ لا يضره خروجه إلى عرفات إذ لا يشترط كونه نصف شهر متواليا بحيث لا يخرج فيه اهـ ملخصا. ووجه السقوط أن التوالي لا يشترط إذا لم يكن من عزمه الخروج إلى موضع آخر لأنه يكون ناويا الإقامة في موضعين، نعم بعد رجوعه من منى صحت نيته لعزمه على الإقامة نصف شهر في مكان واحد، والله أعلم."
(کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج:2، ص:126، ط:دارالفکر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل كما حرره القهستاني بعد أن فسر أساء بأثم واستحق النار (وما زاد نفل) كمصلي الفجر أربعا (وإن لم يقعد بطل فرضه) وصار الكل نفلا لترك القعدة المفروضة.
(قوله لتأخير السلام) مقتضى ما قدمه في سجود السهو أن يقول لتركه السلام فإنه ذكر أنه إذا صلى خامسة بعد القعود الأخير يضم إليها سادسة ويسجد للسهو لتركه السلام، وإن تذكر وعاد قبل أن يقيد الخامسة بسجدة يسجد للسهو لتأخيره السلام أي سلام الفرض ومسألتنا نظير الأولى لا الثانية أفاده الرحمتي قلت: لكن ما هنا أظهر.
(قوله وترك واجب القصر) الإضافة بيانية أي واجب هو القصر أو من إضافة الصفة للموصوف كجرد قطيفة أي القصر الواجب وفيه التصريح بأنه غير فرض كما قدمنا ما يفيده عن شرح المنية، ولو كان الواجب هنا بمعنى الفرض لما صح وإن قعد فافهم ثم إن ترك واجب القصر مستلزم لترك السلام وتكبيرة النفل وخلط النفل بالفرض وظاهر كلامه أنه يأثم بتركه زيادة على إثمه بهذه اللوازم تأمل.
(قوله وواجب تكبيرة إلخ) لأن بناء النفل على الفرض مكروه وهذا هو خلط النفل بالفرض رحمتي لكن قول الشارح وخلط النفل بالفرض يقتضي أنه غير ما قبله ويلزمه أن افتتاح النفل بتكبيرة مستأنفة واجب مع أن بناء النفل على النفل غير مكروه أفاده ط (قوله وهذا) أي ما ذكر من اللوازم الأربعة ط (قوله بعد أن فسر أساء بأثم) وكذا صرح في البحر بتأثيمه، فعلم أن الإساءة هنا كراهة التحريم رحمتي (قوله واستحق النار) أي إذا لم يتب أو يعف عنه العزيز الغفار ط."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:128،ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) لا (مسافر بمقيم بعد الوقت فيما يتغير بالسفر) كالظهر، سواء أحرم المقيم بعد الوقت أو فيه فخرج فاقتدي المسافر (بل) إن أحرم (في الوقت) فخرج صح (وأتم) تبعاً لإمامه. أما بعد الوقت فلا يتغير فرضه فيكون اقتداء بمتنفل في حق قعدة أو قراءة باقتدائه في شفع أول أو ثان.
(قوله: ولا مسافر بمقيم إلخ) أي ولايصح اقتداء مسافر بمقيم إلخ. وبيان ذلك أن صلاة المسافر قابلة للإتمام ما دام الوقت باقياً، بأن ينوي الإقامة، أو بأن يقتدي بمقيم فيصير تبعاً لإمامه ويتم لبقاء السبب وهو الوقت. أما إذا خرج الوقت فقد تقررت في ذمته ركعتين فلا يمكن إتمامها بإقامة أو غيرها، حتى إنه يقضيها في بلده ركعتين، فإذا اقتدي بعد الوقت بمقيم أحرم بعد الوقت أو فيه لا يصح، لما قلنا ولما يأتي، بخلاف ما إذا اقتدى به في الوقت فإنه يتم لما قلنا. (قوله فيما يتغير بالسفر) احتراز عن الفجر والمغرب فإنه يصح في الوقت وبعده لعدم تغيره ... يؤخذ من هذا أنه لو اقتدى مقيمون بمسافر وأتم بهم بلا نية إقامة وتابعوه فسدت صلاتهم لكونه متنفلا في الأخريين، نبه على ذلك العلامة الشرنبلالي في رسالته في المسائل الاثني عشرية؛ وذكر أنها وقعت له ولم يرها في كتاب. قلت: وقد نقلها الرملي في باب المسافر عن الظهيرية، وسنذكرها هناك أيضا."
(کتاب الصلوۃ، باب الإمامة، ج:1، ص:581، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصح اقتداء المقيم بالمسافر في الوقت وبعده فإذا قام) المقيم (إلى الإتمام لا يقرأ) ولا يسجد للسهو (في الأصح) لأنه كاللاحق والقعدتان فرض عليه وقيل لا قنية (وندب للإمام) ... (أن يقول) بعد التسليمتين في الأصح «أتموا صلاتكم فإني مسافر» ) لدفع توهم أنه سها، ولو نوى الإقامة لا لتحقيقها بل ليتم صلاة المقيمين لم يصر مقيما. وأما اقتداء المسافر بالمقيم فيصح في الوقت ويتم لا بعده فيما يتغير لأنه اقتداء المفترض بالمتنفل في حق القعدة لو اقتدى في الأوليين أو القراءة لو في الأخريين.
(قوله: لم يصر مقيما) فلو أتم المقيمون صلاتهم معه فسدت لأنه اقتداء المفترض بالمتنفل ظهيرية أي إذا قصدوا متابعته أما لو نووا مفارقته ووافقوه صورة فلا فساد. أفاده الخير الرملي. (قوله وأما اقتداء المسافر بالمقيم) هذا عكس مسألة المتن وقد ذكره في الكنز وغيره لكن استغنى المصنف عنه لذكره إياه في باب الإمامة (قوله فيصح في الوقت ويتم) أي سواء بقي الوقت أو خرج قبل إتمامها لتغير فرضه بالتبعية لاتصال المغير بالسبب وهو الوقت، ولو أفسده صلى ركعتين لزوال المغير ... وتصير القعدة الأولى واجبة في حق المقتدي المسافر أيضا، حتى لو تركها الإمام ولو عامدا وتابعه المسافر لا تفسد صلاته على ما عليه الفتوى، وقيل تفسد كذا في السراج ولا وجه له يظهر نهر.
(كتاب الصلاة،باب صلاة المسافر، ج:2، ص:129،ط:سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وإذا ظهر حدث إمامه) وكذا كل مفسد في رأي مقتد.
(قوله وكذا كل مفسد في رأي مقتد) أشار إلى أن الحدث ليس بقيد؛ فلو قال المصنف كما في النهر: ولو ظهر أن بإمامه ما يمنع صحة الصلاة لكان أولى، ليشمل ما لو أخل بشرط أو ركن،وإلى أن العبرة برأي المقتدي حتى لو علم من إمامه ما يعتقد أنه مانع والإمام خلافه أعاد، وفي عكسه لا إذا كان الإمام لا يعلم ذلك؛ ولو اقتدى بآخر فإذا قطرة دم وكل منهما يزعم أنها من صاحبه أعاد المقتدي لفساد صلاته على كل حال كما في النهر عن البزازية."
(کتاب الصلوۃ، باب الإمامة، فروع اقتداء متنفل بمتنفل ومن يرى الوتر واجبا بمن يراه سنة، ج:1، ص: 591، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100291
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن