بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج میں مسنون اذکار کون کون سے ہیں؟ حج قران افضل ہے یا حج تمتع افضل ہے؟ حج قران کا طریقہ کیا ہے؟


سوال

1۔حج میں مسنون اذکار کون کون سے ہیں؟

2۔حج تمتع افضل ہے یا حج قران افضل ہے؟

3۔حج قران کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

1۔حج کے مسنون اذکار مندرجہ ذیل ہیں:

۱:جب کعبہ شریف پر نظر پڑھے تو رفع یدین کر کے تکبیر پڑھے اور یہ دعا پڑھے:

''اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ فَحَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ اَللّٰهُمَّ زِدْ هٰذَا الْبَيْتَ تَشْرِيْفًا وَّتَعْظِيْمًا وَّمَهَابَةً وَّزِدْ مَنْ حَجَّهٗ أَوِ اعْتَمَرَهٗ تَكْرِيْمًا وَّتَشْرِيْفًا وَّتَعْظِيْمًا وَّبِرًّا''

ترجمہ:”اے اللہ! تو سلامت رہنے والا ہے، اور تجھ ہی سے سلامتی مل سکتی ہے، پس ہمیں زندہ رکھ اے ہمارے پروردگار! سلامتی کے ساتھ۔ اے اللہ! اپنے اس گھر کی شرافت، تعظیم و تکریم اور بھلائی اور ہیبت میں خوب زیادتی فرمائیے اور جو اس کی زیارت کرے خواہ حج کرنے والا یا عمرہ کرنے والا ہو اس کی عظمت، شرافت، نیکی اور ہیبت میں اضافہ فرمائیے۔“

(السنن الكبرى للبيهقي، كتا ب الحج باب القول عن رؤية البيت، ج:5، ص: 118، ط: دار الكتب العلمية - بیروت)

۲:یوم عرفہ (9 ذی الحج) کو یہ دعا  پڑھی جائے:

''لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ''

ترجمہ:”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ایک معبود ہے، کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں، اسی کی فرمانروائی ہے، صرف اسی کے لیے حمد و ستائش سزاوار ہے اور ہر چیز اس کے زیر قدرت ہے۔“

(سنن الترمذي، ج:5،ص:572 ط: مصر)

۳:حجر اسود کے استلام اور طواف کی ابتداء میں یہ پڑھے:

''بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أكْبَرُ اَللّٰهُمَّ إيْمَانًا بِكَ وَتَصْدِيْقًا بِكِتابِكَ وَوَفَاءً بِعَهْدِكَ وَاتِّباعًا لِّسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ''

ترجمہ:”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! آپ پر ایمان لاتے ہوئے آپ کی کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور آپ کے نبی علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے۔“

(الأذكار للنووي،كتاب اذكار الحج ، فصل في اذكار الطواف ،ص:336، ط :دار ابن حزم)

۴:دوران طواف رکن یمانی سے حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے:

''رَبَّنَا اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ''

ترجمہ:”اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور دوزخ کے عذاب سے بچا“

(السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الحج ، باب القول  في الطواف، ج:5،ص:137 ،ط: دار الكتب العلمية)

۵:دوران طواف یہ بھی پڑھتا رہے:

''سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ''

ترجمہ:”اللہ کی ذات پاک ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور نہیں ہے کسی قسم کی قوت اور طاقت مگر اللہ کی مدد سے۔“

(سنن ابن ماجه، ابواب المناسك، باب فضل الطواف،ج:4 ، ص:182،ط: دار الرسالة العالمية)

۶:دوران طواف رمل کرتے وقت یہ پڑھے:

''اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ ‌حَجًّا ‌مَّبْرُوْرًا وَّذَنْبًا مَّغْفُوْرًا وَّسَعْيًا مَّشْكُوْرًا''

ترجمہ:”اے اللہ! حج کو قبول فرما اور گناہوں کو معاف فرما اور محنت( سعی) کا بہترین بدلہ عطا فرما۔“

(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج ، باب القول في الطواف،ج:5،ص:137 ،ط:دار الكتب العلمية)

۷:صفا پہاڑی پر پڑھی جانے والی دعا:

سعی شروع کرتے وقت جب صفا پہاڑی پہ چڑھے تو بیت اللہ شریف کی طرف نظر کرتے ہوئے تکبیر وتہلیل کہے اور یہ دعا پڑھے۔

''لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ‌أَنْجَزَ ‌وَعْدَهٗ وَنَصَرَ عَبْدَهٗ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهٗ''

ترجمہ:”کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے تمام تعریفات ہیں، وہ ہر شئی پہ قادر ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا لشکر کفار کو شکست دی۔“

(السنن الكبرى للنسائي، ابواب المناسك، كم التهليل علي الصفاء، ج: 4، ص: 142، ط: مؤسسة الرسالة)

۸:مروہ پہاڑی پر پڑھی جانے والی دعا:

دوران سعی جب مروہ پہاڑی پہ چڑھے تو بیت اللہ شریف کی طرف نظر کرتے ہوئے تکبیر وتہلیل کہے اور یہ دعا پڑھے۔

''لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ‌أَنْجَزَ ‌وَعْدَهٗ وَنَصَرَ عَبْدَهٗ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهٗ''

ترجمہ:”کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے تمام تعریفات ہیں، وہ ہر شئی پہ قادر ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا لشکر کفار کو شکست دی۔“

(السنن الكبرى للنسائي، كتاب المناسك، الدعاء علي الصفاء، ج:4، ص:142، ط:مؤسسة الرسالة)

۹:مقام عرفہ میں عصر کے بعد یہ پڑھے۔

''اَللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ اَللّٰهُمَّ ‌اهْدِنِيْ ‌بِالْهُدٰى وَوَفِّقْنِيْ بِالتَّقْوٰى وَاغْفِرْ لِيْ فِي الْاٰخِرَةِ وَالْأُوْلٰي''

ترجمہ:'اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ ہی کے لیے تمام تعریفات ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے تمام تعریفات ہیں، اے اللہ! سیدھے راستے کی طرف میری رہنمائی فرما، اور مجھے تقوی کی توفیق عطا فرما، اور میری مغفرت فرما دنیا اور آخرت میں۔“

(مصنف ابن أبي شيبة، كتاب الحج، من كان يأمر بتعليم المناسك، ج:3، ص:333، ط: دار التاج )

2۔حج تمتع اور قران میں سے افضل :

حجِ تمتع اور حجِ قران دونوں  میں سے افضل حجِ قران  ہے۔

”حج قران

”قران“ یعنی حج اور عمرہ کو ایک ساتھ کرنا۔ ”قران“ کے معنی لغت میں دو چیزوں کو باہم ملانے کے ہیں، اور شریعت کی اصطلاح میں حج اور عمرہ کا احرام دونوں ایک ساتھ باندھ کر ایک ساتھ حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے کو قرآن کہتے ہیں، کیونکہ اس صورت میں حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔“

3۔حج قران کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے:

حج اور عمرہ دونوں  کو ایک احرام میں اس طور پر ادا کرنا کہ پہلے عمرہ کرنا اور احرام میں رہتے ہوئے  پھر حج کرنا ”قران“کہلاتا ہے۔ اور یہ سب سے افضل حج ہے۔

”  قران“ کا طریقہ یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں میقات پہنچ کر یا اس سے پہلے یا گھر  سےغسل وغیرہ سے فارغ ہوکر احرام کے کپڑے پہنے  ، پھردو رکعت نماز ادا کرے، میقات سے پہلے پہلے عمرہ اور حج دونوں کی نیت کرکے تلبیہ پڑھے، جب مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو  مسجدِ حرام میں مسجد کے آداب کے مطابق داخل ہوکر پہلے  عمرہ کا طواف "اضطباع" (یعنی احرام کی چادر کو داہنے بازو کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال کر) اور ” رمل“ (یعنی مرد  طواف کے شروع  کے تین چکروں میں اکڑ کر شانہ ہلاتے ہوئے قریب قریب قدم رکھ کر  ، بھیڑ نہ ہو تو تیزی سے چلنے)  کرے، اور طواف سے فارغ ہوکر دو رکعت مقامِ ابراہیم  کے قریب  پڑھے، اگر یہاں جگہ نہ ہوتو مسجدِ حرام میں جہاں کہیں بھی جگہ ملے وہیں  ادا کرے،  پھر زمزم پی کر فارغ ہونے کے بعد حجر اسود کا استلام کرکے ، عمرہ کی سعی کرے ، سعی کے بعد عمرہ کے افعال پورے ہوجائیں گے ، عمرہ کی سعی کے بعد حلق نہ کرے، کیوں کہ حج کا احرام باقی ہے۔

 سعی کے فوراً بعد یا کچھ  ٹھہر کر طوافِ قدوم جلدی کرلے ورنہ وقوف عرفہ سے پہلے پہلے طوافِ قدوم سے فارغ ہوجائے،اور چاہے تو طوافِ قدوم کے بعد حج کی سعی کرلے۔  عمرہ اور طوافِ قدوم سے فارغ ہونے کے بعد احرام کی حالت میں احرام کی پابندی کرتے ہوئے  مکہ مکرمہ میں قیام کرے اور اس کے بعد آٹھ ذی الحجہ یا اس سے پہلے منی چلے جائے، اور نویں ذی الحجہ کو وہاں سے عرفات جائے، منی ، عرفات اور مزدلفہ کے احکام میں حج قران اور حج افراد میں کوئی فرق نہیں ہے۔

دسویں ذی الحجہ کو  منی میں جمرہ عقبہ بڑے شیطان کی   رمی کرنے کے بعد قران کے شکریہ میں منی یا حدود حرم میں ” دمِ شکر“(حج کی قربانی) ادا کرے اور اس کے بعد سر کے بال منڈوا کر یا ایک پورے کے برابر کترواکر حلال ہوجائے، اور عام سلے ہوئے کپڑے پہن لے ، اب احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوگئیں سوائے  بیوی سے بوس وکنار اور صحبت کرنے کے  اور جب طوافِ زیارت کر لے تو  یہ پابندی ختم ہوجائے گی، اگر طوافِ قدوم کے بعد حج کی سعی نہ کی ہو تو طوافِ زیارت کے بعد حج کی سعی کرے،  پھر واپس آتے وقت طواف وداع بھی کرے، اب حج کے تمام اعمال مکمل ہوگئے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

''[باب القران]

أخره عن الإفراد وإن كان أفضل لتوقف معرفته على معرفة الإفراد (قوله هو أفضل) أي من التمتع وكذا من الإفراد بالأولى،''

(کتاب الحج، باب القران، ج:2، ص:529، ط:دارا لفکر -بیروت)

وفيه ايضاً:

"باب التمتع (هو) لغةً من المتاع والمتعة، وشرعاً: (أن يفعل العمرة أو أكثر أشواطها في أشهر الحج)، فلو طاف الأقل في رمضان مثلاً ثم طاف الباقي في شوال، ثم حج من عامه كان متمتعاً، فتح، قال المصنف: فلتغير النسخ إلى هذا التعريف (ويطوف ويسعى) كما مر (ويحلق أو يقصر) إن شاء (ويقطع التلبية في أول طوافه) للعمرة وأقام بمكة حلالاً (ثم يحرم للحج) في سفر واحد حقيقةً أو حكماً بأن يلم بأهله إلماماً غير صحيح (يوم التروية، وقبله أفضل، ويحج كالمفرد) لكنه يرمل في طواف الزيارة ويسعى بعده إن لم يكن قدمهما بعد الإحرام (وذبح) كالقارن (ولم تنب الأضحية عنه، فإن عجز) عن دم (صار كالقران، وجاز صوم الثلاثة بعد إحرامها) أي العمرة، لكن في أشهر الحج (لا قبله) أي الإحرام (وتأخيره أفضل) رجاء وجود الهدي كما مر (وإن أراد المتمتع السوق) للهدي (وهو أفضل) أحرم ثم (ساق هديه) معه (وهو أولى من قوده إلا إذا كانت لاتنساق) فيقودها (وقلد بدنته وهو أولى من التجليل، وكره الإشعار، وهو شق سنامها من الأيسر) أو الأيمن؛ لأن كل أحد لا يحسنه، فأما من أحسنه بأن قطع الجلد فقط فلا بأس به، (واعتمر، ولا يتحلل منها) حتى ينحر، (ثم أحرم للحج كما مر) فيمن لم يسق (وحلق يوم النحر و) إذا حلق (حل من إحراميه) على الظاهر (والمكي ومن في حكمه يفرد فقط) ولو قرن أو تمتع جاز وأساء، وعليه دم جبر.

(كتاب الحج، باب التمتع، ج:2، ص:535، ط: دار  الفكر- بيروت)

وفيه ايضاً:

''قوله معا حقيقة) بأن يجمع بينهما إحراما في زمان واحد، أو حكما بأن يؤخر إحرام إحداهما عن إحرام الأخرى ويجمع بينهما أفعالا، فهو قران بين الإحرامين حكما.

وقد عد في اللباب للقران سبعة شروط.

الأول: أن يحرم بالحج قبل طواف العمرة كله أو أكثره، فلو أحرم به بعد أكثر طوافها لم يكن قارنا.

الثاني: أن يحرم بالحج قبل إفساد العمرة.

الثالث: أن يطوف للعمرة كله أو أكثره قبل الوقوف بعرفة، فلو لم يطف لها حتى وقف بعرفة بعد الزوال ارتفعت عمرته وبطل قرانه وسقط عنه دمه، ولو طاف أكثره ثم وقف أتم الباقي منه قبل طواف الزيارة.

الرابع: أن يصونهما عن الفساد، فلو جامع قبل الوقوف وقبل أكثر طواف العمرة بطل قرانه وسقط عنه الدم، وإن ساقه معه يصنع به ما شاء.

الخامس: أن يطوف للعمرة كله أو أكثره في أشهر الحج، فإن طاف الأكثر قبل الأشهر لم يصر قارنا.

السادس: أن يكون آفاقيا ولو حكما، فلا قران لمكي إلا إذا خرج إلى الآفاق قبل أشهر الحج.

السابع عدم فوات الحج، فلو فاته لم يكن قارنا وسقط الدم، ولا يشترط لصحة القران عدم الإلمام بأهله، فيصح من كوفي رجع إلى أهله بعد طواف العمرة، وتمامه فيه (قوله قبل أن يطوف لها أربعة أشواط) فلو طاف''

(كتاب الحج، باب القران، ج:2، ص: 530، ط: دار الفكر- بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101896

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں