
مفتی صاحب میں گزشتہ سال حج ادا کرنے چلا گیا تھا، ہمارا دورانیہ 48 دن کا تھا ، چوں کہ جوانی تھی اس وجہ سے آخری ایام میں، جب میں وھیل چیئر میں طواف شروع کرتا تھا تو خوامخواہ یعنی نہ چاہتے ہوئے بغیر شہوت کے میرے ذکر (آلہ تناسل) میں تناؤ آتا تھا، میں شروع ہی سے بہت کوشش کرتا تھا کہ مجھے تناؤ نہ ہو جائے، لیکن باوجود کوشش کے مجھے تناؤ رہتا تھا اور یہ تناؤ وھیل چئیر اور ذکر کے رگڑنے سے ہوتا تھا اور کوئی وجہ نہیں تھی یعنی بدنظری کی وجہ سے بالکل نہیں تھا ، میں ہر روز وھیل چئیر میں 2 طواف کرتا تھا ، لیکن اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ تناؤ کی وجہ سے مجھ سے مذی خارج ہو جاتی تھی کہ نہیں؟ لیکن صبح صادق کے وقت جنسی لحاظ سے ہر صحت مند مرد کو بہت سخت تناؤ رہتا ہے، لیکن اس سے کوئی مذی وغیرہ خارج نہیں ہوتی ہے، کیوں کہ یہ تناؤ بغیر شہوت کے ہوتا ہے ، اسی نظریے کے پیشِ نظر میں یہ گمان کر رہا تھا کہ چوں کہ یہ مجھ کو بغیر شہوت کے ہو رہی ہے اس وجہ سے مجھے مذی کے خارج ہونے کا یقین بھی نہیں ہو رہا تھا اور میں حرم شریف میں اپنے آپ چیک بھی نہیں کرسکتا تھا ، لیکن یہ احتمال ضرور موجود ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مذی خارج ہو گئی ہو۔ طوافوں کی تعداد بھی صحیح طرح معلوم نہیں ہے کہ ایسی حالت میں، میں نے کتنے طواف کر لیے ہیں؟
اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ میرے ذمے دم واجب ہو گئے ہیں کہ نہیں؟ اگر واجب ہو گئے ہیں تو کتنے دم واجب ہو گئے ہیں؟ مفتی صاحب یہ بھی بتائیں کہ اگر کسی پر اتنے زیادہ دم واجب ہو گئے ہو تو کیا دوبارہ عمرے پر جانے کے بعد اگر وہ ان طوافوں کا اعادہ کر لے تو کیا اس صورت میں تلافی ممکن ہے کہ نہیں یا ضرور دم دینے پڑیں گے؟
مفتی صاحب یہ بھی بتائیں کہ جب میں پہلی دفعہ حرم شریف پہنچ گیا تو ہم سب وضو بنا رہے تھے تو چوں کہ گروپ والے دوست بہت جلدی کر رہے تھے اس وجہ سے استنجاء سے جلدی جلدی اٹھ گئے، دل کا اطمینان کر لیا تھا کہ باقی پیشاب کے قطرے مزید نہیں آئیں گے، لیکن دل میں اتنا اطمینان بھی نہیں تھا کہ واقعی 100 فی صد قطرے نہیں آئیں گے، لیکن بس اسی حال میں میں نے وضو کیا اور عمرہ ادا کیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ عمرہ ادا ہوا ہے کہ نہیں؟ اگر عمرہ ادا نہیں ہوا ہے تو پھر دم دینا ہوگا یا دوسرا بھی کوئی حل ہے؟
ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ جب میں طواف وداع کرنے چلا گیا تو میں نے حرم شریف میں ایک دفعہ وضو کیا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ مجھ سے مرغن قطرہ خارج ہو رہا ہے پھر میں نے کچھ دیر بعد وضو کیا لیکن پھر بھی مجھے معلوم ہوا کہ مرغن قطرہ اب بھی آرہا ہے، پھر تیسری دفعہ وضو کیا اور پھر تیسری دفعہ وضو کرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو معذور سمجھ کر طواف وداع کر لیا، لیکن مجھے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ میں نے پھر دوسرے دن طواف وداع کا اعادہ کر لیا تھا اور مجھے پھر مرغن قطرہ بھی نہیں آ رہا تھا اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ ایسی حالت میں طواف وداع ادا کرنے کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ مفتی صاحب تفصیل سے سمجھائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کو دورانِ حج عذر کی وجہ سے وھیل چیئر پر طواف کرتے وقت بلا اختیار تناؤ ہو جاتا تھا،لیکن مذی خارج نہ ہوتی تھی تو اس سے شرعاً نہ آپ کا طواف فاسد ہوا اور نہ ہی آپ پر کوئی دم واجب ہے۔ فقہی قاعدہ یہ ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا، یعنی جب تک کسی بات کا یقین نہ ہو، اس پر شرعی حکم لاگو نہیں ہوتا۔ صرف گمان، وسوسہ یا شک کی بنیاد پر عبادت باطل نہیں ہوتی۔اگر آپ کو یہ یقین نہیں کہ مذی خارج ہوئی تھی، تو طواف اور عمرہ دونوں صحیح ہیں۔ نیز مذی (پتلا شفاف مادہ) کے خارج ہونے سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، غسل واجب نہیں ہوتا، البتہ اگر کبھی واضح طور پر مذی خارج ہوئی ہو، تو وضو لازم ہے، اور اسی حالت میں کیا گیا طواف دوبارہ کرنا ہوگا۔ اگر آپ کو یقین نہیں کہ ایسا ہوا، تو تکرار کی ضرورت نہیں۔
نیز استنجاء کے وقت اگر غالب گمان تھا کہ قطرے رک گئے ہیں تو وضو درست تھا اور عمرہ ادا ہوگیا، وسوسے کی بنیاد پر عبادت فاسد نہیں ہوتی۔
طوافِ وداع کے وقت اگر آپ نے معذور سمجھ کر طواف کیا، تو معذور کا حکم یہ ہے کہ شرعاً "معذور " ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کو وضو توڑنے کے اسباب میں سے کوئی سبب (مثلاً: ریح،خون ، قطرہ وغیرہ) مسلسل پیش آتا رہتا ہو اور ایک نماز کے مکمل وقت میں اس کو اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ وہ کپڑے پاک کرکے با وضو ہو کر وقتی فرض ادا کر سکے، کسی بھی ایک نماز کا مکمل وقت اس طرح گزر جائے تو یہ شخص شرعاً معذور بن جاتاہے، اور معذور بننے کے بعد کی نمازوں کے اوقات میں اگر ایک مرتبہ بھی وہ عذر پایا جائے تو یہ معذور رہے گا، البتہ کسی بھی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر گزر گیا تو وہ شرعی معذور نہیں رہے گا، دوبارہ معذور شمار ہونے کے لیے مذکورہ معیار دیکھا جائے گا۔
اور معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرلیا کرے اور پھر اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہے فرائض اور نوافل ادا کرلے اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرے، (اس ایک وقت کے درمیان میں جتنی بار بھی وہ عذر لاحق ہو وہ باوضو ہی سمجھا جائے گا، بشرطیکہ کوئی اور سبب وضو کوتوڑنے کانہ پایا جائے) یہاں تک کہ وقت ختم ہوجائے، یعنی جیسے ہی اس فرض نماز کا وقت ختم ہوگا تو اس کا وضو بھی ختم ہوجائے گا اور پھر اگلی نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ اور بظاہر اگر آپ کی کیفیت نہ تھی لیکن بعد میں نجاست رک گئی اور آپنے بعد میں بھی ایک طواف کیا تو طواف وداع درست ہوگیا۔ البتہ اگر ایک طواف ناپاکی میں کرنے کا یقین ہو تو ایک دم ادا کرنا ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصاحب عذر من به سلس) بول لايمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لايجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً)؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرةً (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة)؛ لأنه الانقطاع الكامل. ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في: {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]، (ثم يصلي) به (فيه فرضاً ونفلاً) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر. (وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لايغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى، وكذا مريض لا يبسط ثوبه إلا تنجس فوراً له تركه (و) المعذور (إنما تبقى طهارته في الوقت) بشرطين (إذا) توضأ لعذره و (لم يطرأ عليه حدث آخر، أما إذا) توضأ لحدث آخر وعذره منقطع ثم سال أو توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته".
(کتاب الطهارۃ 1/ 305 ط: سعید)
غنية الناسك ميں ہے:
"ولو خرج من الطواف إلی تجدید وضوء ثم عاد بنی لو کان ذلك بعد إتیان أکثره، …ویستحب الاستیناف في الطواف إذا کان ذلك قبل إتیان أکثره،…وصاحب العذر الدائم إذا طاف أربعة أشواط ثم خرج الوقت توضأ وبنی ولا شیٴ علیه، وکذا إذا طاف أقل منها إلا أن الإعادة حینئذ أفضل".
( قبیل باب السعي بین الصفا والمروة، ص:48)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101318
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن