
ایک عورت نے حج کیا، لیکن شرعی عذر (حیض) کی وجہ سے طواف زیارت نہ کر سکی اور واپسی کی تاریخ آ جانے کی وجہ سے مزید ٹھہرنا ممکن نہ تھا، اس لیے طواف زیارت کیے بغیر لوٹ گئی، سفر سے لوٹنے کے بعد اسے مسئلے کا علم ہوا کہ طواف زیارت کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا، لیکن اب اس عورت کا انتقال ہو چکا ہے تو اب ان کے حج کو مکمل اور مقبول کرنے کے لیے تلافی کی کیا صورت ہے؟
واضح رہے کہ طوافِ زیارت حج کا رکن اور فرض ہے جس کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا، اس لیے اگر کوئی خاتون شرعی عذر (حیض) کی وجہ سے طوافِ زیارت نہ کرسکی اور اپنے وطن واپسی کا وقت آجائے تو اس خاتون پر لازم ہوتا ہے کہ دوبارہ مکہ مکرمہ آکر پاکی کی حالت میں طوافِ زیارت کرے، اور اگر کوئی اپنی موت تک طواف زیارت نہیں کرسکی تو اس پر ایک بدنہ (اونٹ یا گائے)کی وصیت کرنا لازم ہو تا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون طوافِ زیارت کیے بغیر ہی اپنے ملک واپس آ گئی تھیں، اور موت تک دوبارہ واپس جا کر طواف زیارت نہیں کیا تھا،تو موت سے پہلے ایک بدنہ کی وصیت کرنا لازم تھی، البتہ جب اس نے وصیت نہیں کی تو ورثاء پر اس کی طرف سے حرم کی حدود میں بدنہ ذبح کرنا لازم تو نہیں ہے، لیکن وہ اپنی خوشی سے خاتون کے طوافِ زیارت کی تلافی کے لیے خاتون کی طرف سے ایک بدنہ (بڑا جانور یعنی اونٹ/گائے/ بھینس) حدودِ حرم میں ذبح کروادیں تو یہ ان کا خاتون کے ساتھ بڑا احسان ہوگا۔
غنیۃ الناسک میں ہے :
"و لو ترك طواف الزيارة كله أو أكثره فهو محرم أبدًا في حق النساء، حتي يطوف ... فعليه حتمًا أن يعود بذالك الإحرام و يطوفه و لايجزئ عنه البدل أصلًا."
(باب الجنایات،الفصل السابع فی ترک الواجب فی افعال الحج ،ص:273،ادارۃ القرآن)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) طواف الزيارة (أول وقته بعد طلوع الفجر يوم النحر وهو فيه) أي الطواف في يوم النحر الأول (أفضل ويمتد) وقته إلى آخر العمر (وحل له النساء) بالحلق السابق، حتى لو طاف قبل الحلق لم يحل له شيء.
(قوله ويمتد وقته) أي وقت صحته إلى آخر العمر، فلو مات قبل فعله فقد ذكر بعض المحشين عن شرح اللباب للقاضي محمد عيد عن البحر العميق أنهم قالوا إن عليه الوصية ببدنة لأنه جاء العذر من قبل من له الحق وإن كان آثما بالتأخير اهـ تأمل (قوله وحل له النساء) أي بعد الركن منه وهو أربعة أشواط بحر ولو لم يطف أصلا لا يحل له النساء وإن طال ومضت سنون بإجماع كذا في الهندية ط."
(کتاب الحج، مطلب فی طواف الزیارۃ، ج:2، ص:518، ط:ایچ ایم سعید)
ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری میں ہے :
"(و لو ترك الطواف كله أو طاف أقله وترك أكثره) أي رجع إلي أهله (فعليه حتمًا) أي وجوبًا اتفاقًا (أن يعود بذلك الإحرام و يطوفه) أي لأنه محرم في حق النساء، و لايجوز إحرام العمرة على بعض أفعال الحج من الطواف و السعي و لو بعد الحلق من التحلل الأول (و لايجزئ عنه) عن ترك الطواف الذي هو ركن الحج كله أو أكثره (البدل) و هو البدنة؛ لأنه ترك ركنًا، فلايقوم مقامه غيره، بل يجب الإتيان بعينه، و لايجزئ عنه البدل (أصلًا) أي سواء عاد إلى اهله أولم يعد."
(فصل فی حکم الجنایات فی طواف الزیارۃ،ص:490،المکتبۃ الامدادیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101064
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن