بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حفظ کرنے والی طالبہ کے لیے حالت حیض میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا


سوال

ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ یہاں سعودی عرب میں علماء نے تحفیظِ قرآن کی طالبات کو قرآن کی تلاوت اور مسجد میں آنے جانے کی اجازت دی ہوئی ہے،  مجھے حلقات من المسجد النبوی شریف سے تحفیظ کا شوق ہے، لیکن وہاں ایامِ حیض میں چھٹی نہیں دی جاتی،  معلمات ان ایام میں بھی سبق یاد کرنے اور سنانے پر سختی سے زور دیتی ہیں،  یہ بھی واضح رہے کہ یہاں کی تجوید اور طریقۂ تحفیظ منفرد ہے، اور تحفیظ مکمل ہونے کے بعد سند بھی دی جاتی ہے، جس کی مجھے خواہش ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب کی نسبت کی سند حاصل ہو،  ایسی صورت میں میرا سوال یہ ہے کہ: کیا میرے لیے ایامِ حیض میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جائز ہوگا، جب کہ معلمات ان دنوں میں بھی سبق یاد کرنے اور سنانے پر زور دیتی ہیں؟ براہِ کرم اس مسئلے کا جواب عنایت فرمائیں!

جواب

ایامِ حیض کے دوران خواتین کے لیے مسجد میں داخل ہونا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا اور بلا حائل قرآنِ پاک کو چھونا شرعاً ممنوع ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے لیے ایامِ حیض میں حفظِ قرآن کی غرض سے مسجدِ نبوی شریف میں داخل ہونا جائز نہیں، اور نہ ہی ان دنوں میں قرآن پڑھنے یا چھونے کی اجازت ہے،  اس لیے بہتر یہی ہے کہ طالبات اپنی معلمات کو حقیقتِ حال سے آگاہ کر کے رخصت لے لیں۔

البتہ اگر معلمہ کے پڑھانے کی وجہ سے یا بھول جانے کے اندیشے کے سبب پڑھنا ناگزیر ہو، تو کلمہ کلمہ اور لفظ لفظ الگ الگ کر کے ہجے کی صورت میں پڑھے، مثلاً:الحمد … للّٰہ … ربّ … العالمین۔اسی طرح کسی پاک کپڑے کے ذریعے قرآنِ مجید کو پکڑ کر اس میں دیکھتے ہوئے زبان سے تلفظ کیے بغیر دل ہی دل میں آیات دہرانے کی بھی اجازت ہے، تاہم حیض کی حالت میں عام حالات کی طرح زبان سے ملا کر قرآنِ کریم پڑھنا جائز نہیں۔

سنن ترمذی میں ہے:

131 - "حدثنا علي بن حجر، والحسن بن عرفة، قالا: حدثنا إسماعيل بن عياش، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌لا ‌تقرأ ‌الحائض، ‌ولا ‌الجنب شيئا من القرآن".

(أبواب الطهارة، ‌‌باب ما جاء في الجنب والحائض أنهما لا يقرآن القرآن، ج:1، ص:236، ط: مصطفي البابي الحلبي)

ترجمہ:” حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حیض والی عورت اور جنبی قرآن کریم کا کوئی حصہ بھی تلاوت نہیں کرسکتے۔“(مظاہر حق)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ومنها أنها لا تمس المصحف۔۔۔۔۔۔ومنها ‌أنها ‌لا ‌تقرأ ‌القرآن".

(كتاب الحىض والنفاس، ‌‌فصل الأحكام التي تتعلق بالحيض، ج:3، ص:152، ط: دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يحرم به (تلاوة القرآن) ولو دون آية على المختار (بقصده) فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعليم ولقن كلمة كلمة حل في الأصح".

"(قوله: ولو دون آية) أي من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمة كلمة".

(كتاب الطهارة، ج:1، ص:172، ط: سعيد)

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"واختلف التصحيح فيما دون الآية وإطلاق المنع هو المختار لقوله صلى الله عليه وسلم: "لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن والنفساء كالحائض".

قوله: "لقوله صلى الله عليه وسلم: "لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن" أي وشيئا نكرة في سياق النفي فيعم ويؤيده ما أخرجه الدارقطني عن علي رضي الله عنه قال اقرؤا القرآن ما لم يصب أحدكم جنابة فإذا أصابته فلا ولا حرفا واحدا والأصح أنه لا بأس بتعليم الحائض والجنب القرآن إذا كان يلقن كلمة كلمة لا على قصد قراءة القرآن كذا في الخلاصة والبزازية أي على قول الكرخي لأنه وإن منع ما دون الآية لكن ما به يسمى قارئا لا مطلقا ولهذا قالوا بعدم كراهة التهجي بالقرآن".

(كتاب الطهارة، باب الحيض والنفاس والاستحاضة، ص:143، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها) أنه يحرم عليهما وعلى ‌الجنب الدخول في ‌المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور. هكذا في منية المصلي وفي التهذيب لا تدخل الحائض مسجدا لجماعة وفي الحجة إلا إذا كان في ‌المسجد ماء ولا تجد في غيره وكذا الحكم إذا خاف ‌الجنب أو الحائض سبعا أو لصا أو بردا فلا بأس بالمقام فيه والأولى أن يتيمم تعظيما للمسجد. هكذا في التتارخانية".

(كتاب الطهارة، الباب السادس الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، ‌‌الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج:1، ص:38، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100738

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں