بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض کی حالت میں حرم شریف میں بیٹھنا اور دیکھنا حدیث کی روشنی میں


سوال

حیض کی حالت میں حرم شریف میں بیٹھنا اور دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ جس طرح حالتِ حیض میں عام مساجد میں داخل ہونا جائز نہیں، اسی طرح مسجدِ حرام میں بھی داخل ہونا جائز نہیں۔ البتہ حرمِ شریف میں مسجدِ حرام کی حدود سے باہر واقع صحن میں عورت کے لیے حالت حیض  میں کسی بھی جگہ بیٹھ کر ذکر و اذکار کرنا جائز ہے، اور اگر وہاں سے کعبہ کی زیارت ہو رہی ہو تو وہ بھی کر سکتی ہے۔

چنانچہ   حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:

”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔ جب ہم مقامِ سَرِف پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اور میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’تمہیں کیا ہوا، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟‘میں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا:’یہ وہ معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تم وہ سب کچھ کرو جو حاجی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا‘۔“

اس حدیث سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ حائضہ عورت مسجدِ حرام میں داخل ہو نے اورطواف  کرنےکے علاوہ باقی  تمام اعمال انجام دے سکتی ہے۔

صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا سفيان قال: سمعت عبد الرحمن بن القاسم قال: سمعت القاسم يقول: سمعت عائشة تقول:خرجنا لا نرى إلا الحج، فلما كنا ‌بسرف ‌حضت، فدخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي، قال: ”ما لك أنفست“. قلت: نعم، قال: ”إن هذا أمر كتبه الله على بنات آدم، فاقضي ما يقضي الحاج، غير أن لا تطوفي بالبيت“.

(كتاب الحيض،باب كيف كان بدء الحيض،ج:1،ص:113،ط:دار ابن كثير)

فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ میں ہے:

"(وحيضها) وكذا نفاسها (لا يمنع) شيئا من أفعال الحج (إلا الطواف) لما روى البخاري في حديث جابر: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعائشة حين حاضت بسرف:"تنسكي المناسك كلها غير أن لا تطوفي ولا تصلي حتى تطهري". وسرف ـ بكسر الراء ـ: موضع قرب مكة فويق التنعيم. ولما في الصحيحين عن عائشة قالت: خرجنا لا نرى إلا الحج فلما كنا بسرف حضت، فدخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي فقال: "ما لك أنفست"؟ قلت: نعم، قال: "إن هذا أمر كتبه الله على بنات آدم، فاقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري".

(‌‌كتاب الحج،أحكام خاصة بالمرأة،ج:1،ص:672،ط:دار الأرقم)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100247

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں