بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض کے شبہ میں روزہ توڑدیا تو کیا قضا و کفارہ دونوں لازم ہوں گے یا صرف قضا لازم ہوگی؟


سوال

اگر عورت کو حیض کے اثرات ظاہر ہوجائیں اور وہ روزہ توڑدے لیکن بعد میں پتا چلا کہ باقاعدہ حیض نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی عورت حیض کے شبہے میں روزہ توڑدے جبکہ حقیقت میں حیض نہ شروع ہوا ہو تو ایسی صورت میں ایک روزے کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

نیز اس معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے، جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، جب تک باقاعدہ حیض شروع نہ ہوجائے تب تک کچھ کھانے سے گزیر کرنا چاہیے، اگر محض شک و شبہے کی بنیاد پر روزہ توڑا ہےتو اس پر اللہ تعالی سے صدق دل سے توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے : 

"(ومنها المرض) ۔۔۔۔۔ وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير."

(کتاب الصوم ، ج : 1 ، ص : 207 ، ط : دارالكتب الاسلامي)

فتاوی شامي ميں هے : 

"(أو أكل) أو جامع (ناسيا) أو احتلم أو أنزل بنظر أو ذرعه القيء (فظن أنه أفطر فأكل عمدا) للشبهة۔۔۔۔(قوله: فأكل عمدا) وكذا لو جامع عمدا كما في نور الإيضاح فالمراد بالأكل الإفطار (قوله: للشبهة) علة للكل قال في البحر: وإنما لم تجب الكفارة بإفطاره عمدا بعد أكله أو شربه أو جماعه ناسيا؛ لأنه ظن في موضع الاشتباه بالنظير، وهو الأكل عمدا۔۔۔ وكذا لو ذرعه القيء وظن أنه يفطره فأفطر، فلا كفارة عليه لوجود شبهة الاشتباه بالنظير فإن القيء والاستقاء متشابهان."

(كتاب الصوم ، ج : 2 ، ص : 402 ، ط : دارالفكر بيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101118

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں