
حیاتی اور مماتی کسے کہتے ہیں؟
نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام والتسلیمات کے متعلق اہل سنت والجماعت(علمائے دیوبند) کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام والتسلیمات وفات کے بعد اپنی قبروں میں زندہ ہیں،اور ان کے ابدان مقدسہ بعینہا محفوظ ہیں،اور جسد عنصری کے ساتھ عالم برزخ میں ان کو حیات حاصل ہے،اور یہ حیات "حیات دنیوی" کے مماثل ہے۔
صرف یہ ہے کہ احکام شرعیہ کے وہ مکلف نہیں ہے،لیکن وہ نماز بھی پڑھتے ہیں،اور روضہ اقدس میں جو درود پڑھا جائے بلا واسطہ سنتے ہیں۔ اس عقیدہ کے حامل حضرات کو آج کل کے عرف میں "حیاتی" کہتے ہیں۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام والتسلیمات کے لیے حیات جسمانی کے قائل نہیں ہے،یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ قبروں میں صرف انبیاء کرام علیہم السلام کے ارواح مبارکہ کو حیات حاصل ہے،اور انبیاء کرام علیہم السلام کے اجساد مطہرہ کا ارواح سے کوئی تعلق قائم نہیں رہتا،اور اسی طرح ان کایہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ پر جو سلام پیش کیا جاتا ہے، وہ بھی آپ علیہ السلام براہ راست سماعت نہیں فرماتے، اس عقیدے کے حامل حضرات کو آج کل کے عرف میں "مماتی" کہتے ہیں۔
حیات انبیاء کرام علیہم السلام کے اس اجماعی عقیدےسے انکار کی بناء پر یہ دوسرا طبقہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہے۔
تفصیل کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ فرمائیں:
1- تسکین الصدور فی تحقیق احوال الموتیٰ فی البرزخ والقبور،مؤلف: امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ۔
2- مقام حیات،مؤلف: علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ۔
3- آب حیات،مؤلف: حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100574
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن