بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حیض ونفاس کی مدت میں گھنٹوں اور منٹوں کا حساب ہوگا؟


سوال

کیا عورت پر سابقہ حیض، نفاس اور طہر کی ابتداء اور انتہاء کو دنوں، گھنٹوں اور منٹوں کے حساب سے یاد رکھنا واجب ہے؟اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ عورت پر واجب ہے کہ وہ سابقہ حیض و نفاس کی ابتداء اور انتہاء کو دنوں، گھنٹوں اور منٹوں کے حساب سے یاد رکھے، اسی طرح طہر کے دنوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور اس کی مدت بھی یاد رکھنا واجب ہے،اب ذہن میں یہ اشکال ہے کہ:

جب اس قدر باریک حساب کتاب کو خود علماء تک حل نہیں کر سکتے تو خواتین بےچاری کیسے ان کو حل کر پائیں گی؟بعض اوقات حساب کرتے ہوئے دماغ بالکل ماؤف ہو جاتا ہے، خصوصاً منٹوں کے حساب میں۔

کیا شریعت کا یہ حکم قطعی ہے؟

کیا یہ حکم ائمۂ احناف عليهم الرحمة سے منقول ہے؟

یہ حکم کب سے ہے؟

کیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے مبارک زمانے میں اس طرح کی تفصیلات ملتی ہیں، یا وہ خواتين سیدھا سادہ حساب کرتی تھیں؟

پہلے دور میں گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں، تو اس دور میں گھنٹوں بلکہ خصوصاً منٹوں کا حساب کیسے ہوتا تھا؟

بالجملہ اب پوچھنا یہ ہے کہ:

(الف) حیض، نفاس اور طہر،تینوں کا حساب یاد رکھنا واجب ہے؟

(ب) دن، گھنٹہ اور منٹ،تینوں کا حساب یاد رکھنا واجب ہے؟

(ج) کیا منٹوں کے حساب میں خواتین پر حرج نہیں ہوگا؟

(د) کیا صحابہ رضي الله عنهم کے دور، اس کے بعد تابعین عليهم الرحمة اور بعد والی امت پر بھی یہ واجب تھا؟ اگر تھا تو وہ منٹوں کا حساب کیسے کرتی تھیں؟

(ہ)اب موجودہ دور میں وہ خواتین جن کے گھروں میں نہ موبائل ہے، نہ گھڑی اور نہ کوئی تیسرا ذریعہ جس سے وقت کا علم ہو، تو کیا ایسی خواتین پر موبائل یا گھڑی وغیرہ خریدنا واجب ہے؟

جواب ارشاد فرمائیں۔

جواب

خواتین کے لیے حیض ونفاس کے مسائل جاننا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کا تعلق عبادات، طلاق اور عدت وغیرہ سے ہے،لیکن شریعت نے ان کی ابتداء اور انتہاء کے تعین میں ایسی سختی لازم نہیں کی جو عورت کی طاقت سے باہر ہو یا جس میں شدید مشقت ہو۔

پس اقل حیض یعنی حیض کی کم از کم مدت کے ثبوت کے لیے گھنٹوں کا اعتبار کیا جائے گا؛ یعنی اگر بہتر (72) گھنٹے خون آیا تو وہ حیض ہوگا، اور اگر اس سے کم آیا تو حیض نہیں استحاضہ ہوگا، اور ان دنوں کی نمازوں کی قضا لازم ہوگی، اقل مدتِ حیض کے علاوہ باقی ایام میں گھنٹوں اور منٹوں کا اعتبار نہیں بلکہ جس لمحہ حیض بند ہو اس لمحہ غسل طہارت لازم ہوگا، اور یہی حکم نفاس کا ہے، یعنی بچہ کی پیدائش کے بعد جس لمحہ خون بند ہو، اسی لمحہ غسل طہارت لازم ہوگا۔

منٹوں کے حساب کا کوئی حکم نہیں، اور نہ ہی ان حسابات کے لیے عورت پر گھڑی یا موبائل خریدنا واجب ہے، پہلے زمانے میں جب گھڑیاں نہیں تھیں تو وقت کا اندازہ سورج کی حرکات،طلوع و غروب، دن اور رات کی پہچان، عمومی عرف، دن کے حصے مثلاً صبح، دوپہر، عصر، شام، رات، قدرتی علامات اور عام مشاہدے سے کیا جاتا تھا،رفتہ رفتہ جدید آلات کے استعمال کرنے کی وجہ سے اوقات کی فطری پہچان کی صلاحیت مفقود ہوگئی، اور انسان گھڑی کا محتاج ہوگیا، لہٰذا جس وقت کسی خاتون کی ماہواری شروع ہو، وہ گھڑی کے ذریعہ وقت نوٹ کرلیا کرے تاکہ حیض کی اقل مدت کا تعین ممکن ہوسکے۔

البنایۃ فی شرح الھدایۃ میں ہے:

"ثم اعلم أن هذه الأيام والليالي المقدرة في أقل الحيض ‌للمرأة ‌تعتبر ‌بالساعات ‌حتى ‌لو ‌رأت وقد طلع نصف قرص الشمس وانقطع في الرابع وقد طلع دون نصفه فليس بحيض فتتوضأ وتقضي الصلوات، ولو طلع تمام القرص تغتسل ولا تقضي، وكذا لو رأت معتادة بخمسة وقد طلع نصف الشمس وانقطع في الحادي عشر وقد طلع أكثرها اغتسلت وقضت صلوات خمسة أيام وإلا فلا.

وقال أبو إسحاق الحفاظ: هذا في أقل الحيض وأقل الطهر، وفيما سواها إن كانت المرأة أنها طهرت في الحادي عشر حد بها بعشرة وفي العاشرة سبعة وفي الطهر مثله،وما كان يتعرض للساعات وعليه الفتوى."

(كتاب الطهارات، باب الحيض والاستحاضة، أكثر الحيض، ج: 1، ص: 631، ط:دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"ومعرفة مسائل الحيض من أعظم المهمات لما يترتب عليها ما لا يحصى من الأحكام كالطهارة والصلاة وقراءة القرآن والصوم والاعتكاف والحج والبلوغ والوطء والطلاق والعدة والاستبراء وغير ذلك من الأحكام وكان من أعظم الواجبات؛ لأن عظم منزلة العلم بالشيء بحسب منزلة ضرر الجهل به ‌وضرر ‌الجهل ‌بمسائل ‌الحيض ‌أشد من ضرر الجهل بغيرها فيجب الاعتناء بمعرفتها."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج: 1، ص: 199، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100379

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں