
1۔ آپ حضرات کے مطابق کیا مندرجہ ذیل احادیث میں بتلایا گیا وقت اب آ گیا ہے ؟ کیا اب وہ وقت ہے کہ تبلیغ ترک کر دینی چاہیے؟ کیا ان احادیث میں بتلائی گئی نشانیاں اب ظہور پذیر ہیں؟
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الآيَةِ { عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ } قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْىٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ - يَعْنِي بِنَفْسِكَ - وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلاً يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ " . وَزَادَنِي غَيْرُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالَ " أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ "
(سنن أبی داود، حدیث 4341)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ تَصْنَعُ فِي هَذِهِ الآيَةِ قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} قَالَ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْىٍ بِرَأْيِهِ وَرَأَيْتَ أَمْرًا لاَ يَدَانِ لَكَ بِهِ فَعَلَيْكَ خُوَيْصَّةَ نَفْسِكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلاً يَعْمَلُونَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ " .
(جامع الترمذی، حدیث 4014)
2۔ مندرجہ بالا احادیث کی مفصل تشریح مطلوب ہے؟
3۔ نیز (دَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ) اور (دَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ) میںأَمْرَ الْعَوَامِّسے مراد کون کون سی چیزیں ہیں؟
4۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے آج سے تقریبا 95 سال پہلے 29 جمادی الاول 1348ھ بمطابق2 نومبر1929 کو ایک وعظ(المرابطہ)میں اس وقت کو اس حدیث کا مصداق قرار دیا تھا۔ حکیم الامتؒ کےاس وعظ سے مذکورہ اقتباس پیش خدمت ہے:
"۔۔۔صاحبو! میرے نزدیک تو اس وقت میدان میں نکلنے کا وقت نہیں ،کیوں کہ حدیث میں ہے: إذا رأیت شحا مطاعا و دنیا موثرة وهوى متبعا و إعجاب کل ذي رأي برأیه فعليك بخاصة نفسك ودع عنك أمر العامةاور میرے نزدیک آج کل یہ سب علامات موجود ہیں، اس لیے آج کل گوشہ نشینی لازم ہے ،مگر میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا، اگر کسی عالی ہمت کے نزدیک ابھی ان علامات کے ظہور کا وقت نہ ہو تو بسم اللہ وہ میدان میں نکلیں، مگر اپاہجوں کو کیوں اپنے ساتھ کھینچتے ہیں؟ آخر ایک کام یہ بھی تو ہے کہ خدا سے دعا کریں تو ان کو اس کام کے واسطے رہنے دیں ،ایک جماعت اس کے واسطے بھی تو ہونا چاہیے، یہ تقسیم عمل اچھی ہے، مگر افسوس آج کل دعا کو لوگ عمل ہی نہیں سمجھتے۔۔۔ "
(خطبات حکیم الامت ، ج 11 ، ص 68-69،ط ۔ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ،1428ھ)
۱) امت کے علماء، صلحاء اور اہل اللہ کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور اپنی صلاحیت کو اس پر صرف کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس حدیث میں جس وقت کی نشان دہی کی جارہی ہے وہ وقت ابھی نہیں آیا ہے۔ موجود دور اور حالات میں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مؤثر ہے ، علماء ، صلحاء اور اہل اللہ کی محنت اور سعی سے بہت سوں کی زندگیاں بدل رہی ہیں، یہ حدیث تو اس وقت کے حالات کو بتا رہی ہے جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مؤثر ہی نہیں رہے گی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں کا از خود گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔
۲) مذکورہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت "عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم" کے متعلق سوال کیا ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ہرگز نہیں ) تم اس فریضہ کی ادائیگی سے باز نہ رہو، بلکہ نیکیوں کا حکم دیتے رہو یہاں تک کہ جب تم بخل کو دیکھو کہ لوگ اس کی اتباع کرنے لگے ہیں، جب تم خواہشاتِ نفس کو دیکھو کہ لوگ اس کے غلام بن گئے ہیں، جب دنیا کو دیکھو کہ لوگ اس کے غلام بن گئے ہیں اور اسے آخرت پر ترجیح دینے لگے ہیں، جب تم دیکھو کہ ہر عقل مند اور کسی مسلک کا پیرو اپنی ہی عقل اپنے ہی مسلک کو سب سے اچھا اور پسندیدہ سمجھنے لگا ہے ( کہ نہ تو وہ کتاب و سنت اور اجماع امت اور قیاس کی طرف نظر کرتا ہےاور نہ علماء اور اہل حق کی طرف رجوع کرتا ہے، بلکہ محض اپنے نفس ہی کو سب سے بڑا حاکم اور مفتی سمجھنے لگا ہے) اور جب تم کسی ایسی چیز کو دیکھو کہ جس کے علاوہ تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہ ہو تو (ان سب صورتوں میں ) اپنے آپ کو لازم پکڑ لو (یعنی اپنی ذات کو گناہوں سے محفوظ رکھو ) اور عوام کے معاملات سے کوئی تعلق نہ رکھو، ( بلکہ اب سب گوشہ نشینی اختیار کرو) ، کیوں کہ تمہارے سامنے آخر زمانہ میں ایسے دن آنے والے ہیں جن میں صبر کرنا ضرور ہوگا(اور ان ایام کی ابتداء خلفاء راشدین کے بعد ہی ہوگئی ہے اور تا حال ان کا سلسلہ جاری ہے)،لہذا جس شخص نے ان دنوں میں صبر کر لیا ( یعنی اس سخت زمانہ میں دین پر عمل پیرا رہنے کی کلفت و مشقت کو برداشت کر لیا) اس کی حالت یہ ہوگی کہ گویا اس نے اپنے پاتھ میں انگارا لے لیا ہے اور ان دنوں میں جو شخص دین و شریعت کے احکام پر عمل کرے گا اس کو ان پچاس لوگوں کے عمل کے برابر ثواب ملے گا جو اس شخص جیسے عمل کریں (اور ان کا تعلق نہ ان سخت ایام سے ہو اور نہ ان کو دین پر عمل کرنے کے سلسلہ میں وہ تکالیف و مصائب برداشت کرنا پڑے جو اس شخص کو برداشت کرنا پڑیں گے)، صحابہ رضی اللہ عنہ (یہ سن کر) عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ان پچاس لوگوں کے عمل کا اعتبار ہوگا جو تمہارے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے پچاس آدمیوں کا اجر و ثواب ۔(مظاہر حق ، ج نمبر ۴، ص نمبر ۶۱۳،دار الاشاعت)
۳) (دَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ) اور (دَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ) سے مراد یہ ہے کہ اس فتنہ کے زمانے میں جو عام لوگ معاصی میں مبتلا ہوگئے ہوں ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کردیا جائے اور نیک لوگ اس فتنہ کے زمانے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مکلف نہیں ہوں گے۔"امر العوام" سے کچھ خاص چیزیں مراد نہیں ، بلکہ عام لوگوں کے جملہ معاصی مراد ہیں ۔
۴) خطبات حکیم الامت کا جو اقتباس جو سائل نے نقل کیا ہے، اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث پر عمل کا وقت آگیا ہے اور اب مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مکلف نہیں ہیں ، جب کہ اوپر بیان کردیا گیا کہ فی الحال امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مفید اورمؤثر ہے اس لیے اسے ترک نہیں کرنا چاہیے،حکیم الامت رحمہ اللہ کے اقتباس کے متعلق مندرجہ ذیل امور قابل ذکر ہیں:
۱) انہوں نے اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا ،بلکہ ساتھ یہ فرمایا کہ "اگر کسی عالی ہمت کے نزدیک ابھی ان علامات کے ظہور کا وقت نہ ہو تو بسم اللہ وہ میدان میں نکلیں " یعنی اس کا نکلنا مستحسن ہے۔
۲) پھر آگے یہ بھی فرمایا کہ دین کی حفاظت اور سربلندی کے لیے جس طرح میدان میں نکلنا مفید ہے، اسی طرح گوشہ نشینی میں بیٹھ کر دعا بھی مفید ہے، حضرت کے الفاظ یہ ہیں"آخر ایک کام یہ بھی تو ہے کہ خدا سے دعا کریں تو ان کو اس کام کے واسطے رہنے دیں ایک جماعت اس کے واسطے بھی تو ہونا چاہیے یہ تقسیم عمل اچھی ہے ،مگر افسوس آج کل دعا کو لوگ عمل ہی نہیں سمجھتے" ، گویا کہ حضرت نے کہا کہ گوشہ نشین لوگ بھی میدان میں ہیں کیونکہ ان کی یہ دعائیں میدان میں موجود لوگوں کی معاون ہیں۔
۳) سائل نے حضرت کے مکمل بات کا ایک جزء نقل کیا ہے، نقل کردہ اقتباس سے پہلے حضرت نے یہ بھی فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ گوشہ نشین لوگ اس وقت کے حالات (جو حضرت کے زمانے میں تھے) میدان میں نکلیں گے تو ان سے کام ہوگا نہیں اور اس میدان میں نکلنے کی وجہ سے گوشہ نشینی کے اعمال سے بھی رہ جائیں گے تو اس سے بہتر ان کا گوشہ نشینی میں رہنا اور یہ گوشہ نشینی میں بیٹھے ہوئے لوگ معاون ہیں ان لوگوں کے جو میدان میں نکلے ہوئے ہیں، حضرت کے الفاظ یہ ہیں"اب میدان میں نکل کر نہ ان سے میدان کا کام ہوگا نہ خلوت کا ، دونوں سے گئے گزرے ہوئے ، اس سے تو ان کا خلوت ہی میں رہنا اچھا(ہے) اور تم کو خبر بھی ہے جو لوگ میدان میں نکلے ہوئے ہیں وہ حجرہ نشینوں ہی کی برکت سے کام کررہے ہیں، کیوں کہ حجرہ والے ہر وقت مسلمانوں کی کامیابی اور اصلاح کی دعا فرماتے ہیں"۔
لہذا حضرت کے اقتباس کا ظاہری معنی جو سائل نے سمجھا ہے وہ حضرت کا مقصود نہیں ہے ، بلکہ حضرت کی بات سے یہ امر واضح ہے کہ میدان میں نکل کر لوگوں میں کام کرنا فی نفسہ اس زمانے میں بھی مفید تھا گو کہ مشکل تھا ، ساتھ ساتھ حضرت نے اس امر کو بھی واضح کیا کہ اگر کوئی میدان میں نہیں نکلتا اور وہ گوشہ نشینی میں بیٹھ کر اعمال کے ذریعہ ان میدان والے لوگوں کی دعا وغیرہ سے معاونت کرتا ہے تو وہ شخص بھی قابل مذمت نہیں ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وعنه أبي ثعلبة رضي الله عنه «في قوله تعالى: {عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم} [المائدة: 105] . فقال: أما والله لقد سألت عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " بل ائتمروا بالمعروف، وتناهوا عن المنكر، حتى إذا رأيت شحا مطاعا، وهوى متبعا، ودنيا مؤثرة، وإعجاب كل ذي رأي برأيه، ورأيت أمرا لا بد لك منه فعليك نفسك، ودع أمر العوام، فإن وراءكم أيام الصبر، فمن صبر فيهن قبض على الجمر، للعامل فيهن أجر خمسين رجلا يعملون مثل عمله ". قالوا: يا رسول الله! أجر خمسين منهم؟ قال: أجر خمسين منكم» ". رواه الترمذي، وابن ماجه
(شحا مطاعا) : أو إذا عرفت شحا أي: بخلا مطاعا بأن أطاعته نفسك وطاوعه غيرك (وهوى متبعا) : بصيغة المفعول أي: وهوى للنفس متبوعا، وطريق الهدى مدفوعا، وحاصله أن كلا يتبع هواه وما تأمره نفسه الأمارة وما تتمناه (ودنيا) : بالقصر، وفي نسخة بالتنوين وهي عبارة عن المال والجاه في الدار الدنية (مؤثرة) أي: مختارة على أمور الدين ودرجات الآخرة ( «وإعجاب كل ذي رأي برأيه» ) أي: من غير نظر إلى الكتاب والسنة وإجماع الأمة، والقياس على أقوى الأدلة وترك الاقتداء بنحو الأئمة الأربعة، والإعجاب بكسر الهمز هو وجدان الشيء حسنا، ورؤيته مستحسنا بحيث يصير صاحبه به معجبا، وعن قبول كلام الغير مجنبا وإن كان قبيحا في نفس الأمر، (ورأيت أمرا لا بد لك منه) : بضم الموحدة وتشديد المهملة في جميع النسخ المصححة والأصول المعتمدة. وقال الطيبي رحمه الله: يحتمل أن يكون بالباء الموحدة بمعنى لا فراق لك منه، والمعنى رأيت أمرا يميل إليه هواك ونفسك من الصفات الذميمة، حتى إذا قمت بين الناس لا محالة أن تقع فيها (فعليك نفسك) : واعتزل عن الناس حذرا من الوقوع، وأن يكون بالياء المثناة كما في بعض نسخ المصابيح، والمعنى، فإن رأيت أمرا لا طاقة لك من دفعه فعليك نفسك اهـ. ونفسك منصوب، وقيل مرفوع أي: فالواجب أو فيجب عليك حفظها من المعاصي، لكن يؤيد الأول وهو أن يكون للإغراء بمعنى الزم خاصة نفسك. قوله: (ودع أمر العوام) أي: واترك أمر عامة الناس الخارجين عن طريق الخواص، وحاصله أنه إذا رأيت بعض الناس يعملون المعاصي، ولا بد لك من السكوت لعجزك فاحفظ نفسك عن المعاصي، واترك الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، واشتغل بنفسك، ودع أمر الناس إلى الله، فإنه تعالى لا يكلف نفسا إلا وسعها (فإن وراءكم) أي: قدامكم من الأزمان الآتية، أو خلفكم من الأمور الهاوية (أيام الصبر) أي: أياما لا طريق لكم فيها إلا الصبر، أو أياما يحمد فيها الصبر وهو الحبس على خلاف النفس من اختيار العزلة وترك الخلطة والخلوة، (فمن صبر فيهن) أي: في تلك الأيام (قبض على الجمر) : يرى يلحقه المشقة بالصبر كمشقة الصابر على قبض الجمر بيده، وقد أشار إليه الشاطبي بقوله: وهذا زمان الصبر من لك بالتي … كقبص على جمر فتنجو من البلا (للعامل) أي: الكامل، ولو لم يكن مكملا لغيره. (أجر خمسين رجلا يعملون مثل عمله) أي: في غير زمانه (قالوا: يا رسول الله! أجر خمسين) : بتقدير الاستفهام (منهم) : فيه تأويلان أحدها: أن يكون أجر كل واحد منهم على تقدير أنه غير مبتلى ولم يضاعف أجره، وثانيهما: أن يراد أجر خمسين منهم أجمعين لم يبتلوا ببلائه (قال: " أجر خمسين منكم."
(کتاب الآداب، باب الامر بالمعروف، ج نمبر ۸، ص نمبر ۳۲۱۴، دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144509100826
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن