
حدیث کے مطابق عورت سے نکاح کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی ہو۔
میرا سوال یہ ہے کہ زوجین کے درمیان محبت تو دو طرفہ تعلق ہوتا ہے۔ حدیث میں اسے صرف عورت کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے؟ مردوں کا اپنی بیویوں سے محبت کرنے کا ذکر کیوں نہیں آیا؟ حالانکہ عورت اپنی نازک مزاجی اور کمزور طبیعت کی وجہ سے مرد کے مقابلے میں زیادہ محبت کیے جانے کے قابل ہے۔
زیرِ نظر سوال میں جس حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ حدیث یہ ہے: "«تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم»" یعنی ”ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی ہوں، کیونکہ میں قیامت کے دن تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔“
اس حدیث میں اور اس جیسی دیگر احادیث جن میں یہ وصف بیان ہوا ہے کہ ”وہ شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی ہو“، اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد گھریلو زندگی میں عموماً جذباتی وابستگی، انس اور قربت کی فضا قائم رکھنے میں عورت کا کردار نمایاں ہوتا ہے، خصوصاً اولاد کے حصول اور اس کی کثرت جوکہ شریعت میں مطلوب ہے اس میں میاں بیوی کی باہمی انس و قربت ساتھ ساتھ عورت کی طرف سے محبت و ذہنی آمادگی کا کردار نہایت مؤثر ہوتا ہے اور یہی اولاد کے حصول کا سبب ہوتا ہے ؛ اس لیے اس وصف کو بطورِ خاص بیان کیا گیا۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مرد پر محبت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ مرد کو اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک، شفقت اور محبت کا حکم متعدد نصوص میں دیا گیا ہے، اور شریعت میں زوجین کے درمیان محبت اور رحمت کو باہمی بنیاد پر مطلوب قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں مودّت و رحمت کا ذکر آیا ہے۔
علاوہ ازیں یہ حدیث بابِ نکاح کے اس ترغیبی پہلو سے متعلق ہے جہاں ایک مرد اپنے لیے رفیقِ حیات کی تلاش میں ہوتا ہے، اور ظاہر ہے کہ اس تلاش میں محبت کی موجودگی لازمی امر ہے۔ اس سے مرد کی طرف سے محبت کا وجود ظاہر ہوتا ہے، اور دوسری طرف سے محبت کے حصول کے لیے حدیث میں عورت کی اپنے شوہر سے محبت کرنے والی ہونے کی صفت بیان کی گئی ہے، تاکہ ازدواجی زندگی پر سکون اور اس میں ہم آہنگی قائم رہے۔
غرض شریعت کی نظر میں محبت زوجین کے درمیان دو طرفہ تعلق ہے، اور احادیث میں عورت کے ساتھ اس وصف کی خصوصی نسبت حکمتِ تشریع اور غلبۂ حال کے پیشِ نظر کی گئی ہے، اس لیے نہیں کہ مرد محبت اور حسنِ معاشرت کے تقاضوں سے مستثنیٰ ہیں۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَمِنْ آياتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْها وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ."(سورة الروم، آية:21)
ترجمہ: ”اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس کی بیبیاں بنائيں تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بیوی میں محبت اور ہمدردی پیدا کی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو فکر سے کام لیتے ہیں ۔“
حدیث شریف میں ہے:
"عنها (أي عائشة) قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وإذا مات صاحبكم فدعوه». رواه الترمذي والدارمي."
(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء، الفصل الثاني، رقم الحديث:3252، ج:2، ص:971، ط:المكتب الإسلامي بيروت)
ترجمہ: ”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب میں سب سے بہتر ہوں۔“
فتح القريب المجيب على الترغيب والترہيب ميں ہے:
"قوله: «تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم» رواه أبو داود والنسائي ا. هـ وفي حديث آخر قال: صلى الله عليه وسلم«والمولود من أمتي خير من الدنيا وما فيها» وقال: «إني مكاثر بكم الأمم» وفي الحديث «لا تزوجن عاقرا فإني مكاثر بكم» العاقر المرأة التي لا تحمل والودود هي التي لم تخالط بردها غيرك وهي البكر التي لم تعرف غيرك من الود والمحبة يقال: وددت الرجل أوده إذا أحببته فعول بمعنى مفعول أو التي يكثر منها الود وكذلك الولود في الولادة وهو إشارة إلى التسبب بذلك في كثرة النسل ولهذا قال: صلى الله عليه وسلم «فإني مكاثر بكم الأمم يوم القيامة» فإن بعض الأنبياء يأتي ومعه الرجل والرجلان وبعضهم أكثر تابعا وأكثرهم موسى عليه السلام إلا ما كان من نبينا فإنه أكثرهم تابعا حتى إن أهل الجنة مائة وعشرون صفا هذه الأمة منها ثمانون كما رواه ابن حبان في صحيحه."
(کتاب النکاح، الترغيب في النكاح سيما بذات الدين الولود، ج:8، ص:618، ط:مكتبة دار السلام، الرياض)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"«قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تزوجوا الودود» التي تحب زوجها «الولود» أي: التي تكثر ولادتها، وقيد بهذين لأن الولود إذا لم تكن ودودا لم يرغب الزوج فيها، والودود إذا لم تكن ولودا لم يحصل المطلوب وهو تكثير الأمة بكثرة التوالد، ويعرف هذان الوصفان في الأبكار من أقاربهن، إذ الغالب سراية طباع الأقارب بعضهن إلى بعض، ويحتمل والله تعالى أعلم أن يكون معنى تزوجوا اثبتوا على زواجها وبقاء نكاحها إذا كانت موصوفة بهذين الوصفين. «فإني مكاثر بكم الأمم» أي: مفاخر بسببكم سائر الأمم لكثرة أتباعي (رواه أبو داود، والنسائي)."
(کتاب النکاح، رقم الحدیث:3091، ج:5، ص:2047، ط:دار الفكر، بيروت)
فتح الودود فى شرح ابى داؤد میں ہے:
"«الودود» أي كثرة المحبة للزوج كأن المراد بها: البكر أو يعرف ذلك بحال قرابتها وكذا معرفة «الولود» أي كثيرة الولادة يعرف بذلك في البكر واعتبار كونها ودودًا مع أن المطلوب كثرة الأولاد كما يدل عليه التعليل؛ لأن المحبة هي الوسيلة إلى ما يكون سببًا للأولاد، «مكاثر بكم» أي الأنبياء «يوم القيامة» كما في رواية ابن حبان."
(كتاب النكاح، باب النهي عن تزويج من لم يلد من النساء، رقم الحديث: 2050، ج: 2، ص: 455، ط: مكتبة أضواء المنار، المدينة المنورة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611101286
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن