بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیث الراشی والمرتشی سے متعلق راہ نمائی


سوال

 درج ذیل روایت سے متعلق رہنمائی مطلوب ہے:

1- روایت "الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ" (المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2026) کی اسنادی حیثیت کیا ہے؟ محدثین کے نزدیک یہ روایت کس درجے کی ہے؟

2۔ ہمارے ہاں یہ روایت عموماً اس اضافے کے ساتھ مشہور ہے "الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي كِلَاهُمَا فِي النَّارِ" براہِ کرم واضح فرمائیں کہ لفظ "كِلَاهُمَا" کیا حدیث کے اصل مرفوع متن میں ثابت ہے یا بعد کا اضافہ ہے؟ 

جواب

(۱)سوال میں مذکور حدیث محدثین کی تصریح کے مطابق ثقہ روات سے منقول ہے۔
(۲) البتہ اس میں لفظ "کلاھما" کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لہٰذا جب تک کسی معتبر سند کے ساتھ یہ الفاظ کسی حدیث میں ثابت نہ ہو جائیں، انہیں حدیث کے طور پر بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ تاہم معنی کے اعتبار سے "کلاھما"  درست ہے۔

الترغیب والترہیب میں ہے:

"وعنه رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الراشي والمرتشي في النار. رواه الطبراني ورواته ثقات معروفون".

(الترغیب والترہیب)، كتاب القضاء وغيره الترهيب من تولي السلطنة والقضاء والإمارة سيما

لمن لا يثق بنفسه،(3/125) برقم (3348 )، ط: دار الكتب العلمية)

مجمع الزوائد میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «الراشي والمرتشي في النار» .

رواه الطبراني في الصغير، ورجاله ثقات".

(مجمع الزوائد، كتاب الأحكام، باب في الرشا، (4/199)، برقم (7027 )، ط:  مكتبة القدسي)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100233

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں