بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک قول کی تخریج اور مطلب


سوال

کیا یہ  حضرت  عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے ؟ رہنمائی فرمائیں:

ہمارے لیے قرآن حفظ کرنا مشکل ، اور اس پر عمل کرنا آسان تھا، ہمارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن کے لیے قرآن حفظ کرنا آسان اور اس پر عمل کرنا مشکل ہوگا۔

جواب

مذکورہ قول  حضرت  عبداللہ بن مسعود رضی اللہ  تعالی عنہ کے حوالہ سےامام قرطبی نے "جامع احکام القرآن" میں ذکر کیا ہے۔ امام قرطبی نے اس اثر کو ابو بکر الانباری کے حوالہ سے ذکر کیا ہے ۔ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  سے بھی اس مضمون  کے اقوال منقول ہیں۔    اس كو بيان كرسكتے ہیں۔

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں عمل کی طرف  توجہ کم ہوگی، الفاظ کی طرف توجہ زیادہ ہوگی، یہ مطلب نہیں کہ   قرآن کریم حفظ  کرنے کی فضیلت  نہیں، قرآن کریم حفظ  کرنے  کی فضیلت اپنی جگہ ثابت ہے،حدیث شریف میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اور اس کے علاوہ متعدد احادیث میں حفظ کی فضیلت ملتی ہے،  اس حوالے سے شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کا رسالہ فضائل قرآن ملاحظہ فرمائیے۔ 

"ذكر أبو بكر الأنباري: حدثني محمد بن شهريار حدثنا حسين بن الأسود حدثنا عبيد الله بن موسى عن زياد بن أبي مسلم أبي عمرو عن زياد بن مخراق قال: قال ‌عبد ‌الله ‌بن ‌مسعود: إنا صعب علينا ‌حفظ ألفاظ ‌القرآن، وسهل علينا العمل به، وإن من بعدنا يسهل عليهم ‌حفظ ‌القرآن، ويصعب عليهم العمل به.

حدثنا إبراهيم بن موسى حدثنا يوسف بن موسى حدثنا الفضل بن دكين حدثنا إسماعيل ابن إبراهيم بن المهاجر عن أبيه عن مجاهد عن ابن عمر قال: كان الفضل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في صدر هذه الأمة لا يحفظ من القرآن إلا السورة أو نحوها، ورزقوا العمل بالقران، وان أخر هذه الامة يقرءون القرآن منهم الصبي والأعمى ولا يرزقون العمل به.

حدثني حسن بن عبد الوهاب أبو محمد بن أبي العنبر حدثنا أبو بكر بن حماد المقرئ قال: سمعت خلف بن هشام البزار يقول: ما أظن القرآن إلا عارية في أيدينا، وذلك إنا روينا أن عمر بن الخطاب حفظ البقرة في بضع عشرة سنة، فلما حفظها نحر جزورا شكرا لله، وإن الغلام في دهرنا هذا يجلس بين يدي فيقرأ ثلث القرآن لا يسقط منه حرفا، فما أحسب القرآن إلا عارية في أيدينا".

(تفسير القرطبي: باب كيفية التعلم والفقه لكتاب الله تعالى (1/ 40)،ط دار الكتب المصرية - القاهرة، الطبعة الثانية: 1384هـ =1964 م)

بخاری شریف میں ہے:

"عن عثمان -رضي الله عنه- عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:  خيركم من تعلم القرآن وعلمه ".

(أخرجه البخاري في باب خيركم من تعلم القرآن وعلمه (4/ 1919) برقم (4739)، ط. دار ابن كثير، بيروت، الطبعة الثالثة:1407 =1987)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144503101559

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں