
حدیثِ عمار کی وضاحت درکار ہے، کیا یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں؟ بعض لوگ اس حدیث کا حوالہ دے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تبرا کرتے ہیں۔
سوال میں جس حدیث کی تشریح کے متعلق دریافت کیاگیا ہے،یہ روایت ’’صحيح البخاری‘‘، ’’مسند أحمد‘‘، ’’المستدرك على الصحيحين‘‘، ’’صحيح ابن حبان‘‘ اوردیگر کتبِ احادیث میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مذکور ہے۔
’’صحيح بخاری‘‘میں یہ حدیث دوجگہ (1۔’’كتابُ الصلاة‘‘ کے تحت ’’بابُ التعاون في بناء المسجد‘‘ میں اور2۔’’كتابُ الجهاد والسِير‘‘ کے تحت’’ بابُ مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله)میں مذکور ہے۔
’’بخاری شریف ‘‘میں ’’بابُ مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله‘‘ کی حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"حدّثنا إبراهيم بنُ موسى، أخبرنا عبدُ الوهاب، حدّثنا خالدٌ عَن عِكرِمة أنّ ابنَ عباسٍ-رضي الله عنهما- قال له ولعليِّ بنِ عبد الله: ائتِيا أبا سعيدٍ فَاسمَعا مِن حديثِه، فأتيناه وهو وأخُوه في حائطٍ لهما يَسقِيانه، فلمّا رآنا جاء فاحتبَى وجلسَ، فقال: كنّا ننقُل لبِن المسجد لبِنةً لبِنةً، وكان عَمّارٌ يَنقلُ لبِنتين لبِنتين، فمرَّ به النبيُّ صلّى الله عليه وسلّم ومسحَ عن رأسه الغُبار، وقال: ويحَ عَمّارٍ! تَقتلُه الفئةُ الباغيةُ، عَمّارٌ يدعُوهم إلى الله، ويَدعونَه إلى النار."
ترجمہ:’’(حضرت) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (حضرت) ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اور(اپنے صاحبزادےحضرت)علی بن عبد اللہ رحمہ اللہ کوکہا :(حضرت) ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤاوراُن سے اُن کی حدیث سنو، ہم اُن کے پاس آ ئےتو وہ اور اُن کے بھائی(رضاعی/اسلامی بھائی مراد ہیں، اس لیے کہ اُس وقت اُن کے کوئی بھائی حیات نہیں تھے) اپنے ایک باغ میں تھے ، وہ اُسے پانی دےرہے تھے،جب اُنہوں نے ہمیں دیکھاتووہ (ہمارے پاس) آئے اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے،اورفرمانے لگے:مسجدِ نبوی کی تعمیر کے لیےہم ایک ایک اینٹ اُٹھارہے تھے اورعمار دو دواینٹیں اٹھارہے تھے، (اسی دوران) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُن پرگزر ہواتو اُن کے سر سے غبار صاف کیااورفرمایا:عمار کی بے کسی قابل افسوس ہے، اسے ایک باغی جماعت قتل کرےگی،عمار اُن کو اللہ کی طرف بلارہا ہوگا،وہ اسے دوزخ کی طرف بلارہے ہوں گے‘‘۔
(صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسير، باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله، (4/ 21) برقم (2812)، ط/ دا رطوق النجاة)
’كتابُ الصلاة‘‘ کے تحت ’’بابُ التعاون في بناء المسجد‘‘ میں روايت کے الفاظ’’يدعُوهم إلى الله، ويَدعونَه إلى النار‘‘ کی جگہ’’يدعُوهم إلى الجنة، ويَدعونَه إلى النار‘‘وارد ہوئے ہیں۔
(صحيح البخاري،كتاب الصلاة، باب التعاون في بناء المسجد، (1/ 97) برقم (447)، ط/ دار طوق النجاة)
مذكوره تفصيل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت سند کے اعتبار سےصحیح ہے ۔
حدیث کے مذکورہ الفاظ کے مصداق کی تعیین میں محدثین کرام رحمہم اللہ کے مختلف اقوال درج ذیل ہیں:
علامہ ابنِ بطالؒ(المتوفى: 449ھ) فرماتے ہیں کہ ’’الفئة الباغية‘‘سےاہلِ مکہ مراد ہیں، جنہوں نےحضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہما کو مکہ سے نکال دیاتھا اور شدید اذیت سے دوچارکیاتھا، اور ’’يدعُوهم إلى الله، ويَدعونَه إلى النار‘‘ سے مراد بھی کفار مکہ ہی ہیں ۔
ابن ِ بطالؒ اپنی’’شرح صحيح البخاری‘‘میں لکھتے ہیں:
" وقوله: (يَدعُوهم إلى الله) فَيُريد -واللهُ أعلم- أهلُ مكّة الذين أخرجُوه مِن ديارِه وعذّبُوه فى ذاتِ الله لِدُعائِه لهم إلى الله. ولا يُمكن أنْ يُتأوَّل هذا الحديثُ فى المسلمين البتةَ؛ لأنَّهم قد دخلُوا دَعوةَ الله، وإنّما يُدعى إلى الله مَن كان خارجاً مِن الإسلام. وقولُه: (ويَدعونَه إلى النار) دليلٌ أيضاً على ذلك؛ لأنّ المشركين أهلَ مكّة إنما فتنُوه وطالبُوه أنْ يرجعَ إلى دِينِهم، فَهو النارُ.
فإنْ قِيلَ: إنَّ فتنة عمَّار قد كانتْ بِمكَّة فى أوَّل الإسلام، وإنّما قال: (يَدعُوهم) بِلفظِ المستقبل، وهَذا (أي: ماقبلَه) لفظُ الماضي.
قِيلَ: العربُ قد تُخبِر بِالفعلِ المستقبل عَن الماضى إذا عُرف المعنَى، كما تُخبِر بِالماضى عَن المستقبل، فقولُه: (يَدعُوهم إلى الله) بِمعنَى دَعاهم إلى الله؛ لأنّ مِحنةَ عمَّار كانتْ بِمكّة مشهورةٌ، فأشار -صلّى الله عليه وسلّم- إلى ذِكرِها لمّا طَابقتْ شِدّتُه فى نَقلِه لَبِنتين شِدّتَه فى صَبرهِ بِمكَّة عَلى عذابِ الله، فَضيلةً لِعمَّار وتَنبِيهاً عَلى ثَباتِه وقُوّتِه فى أمرِ الله تعالى. "
ترجمہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: "يَدعُوهم إلى الله" (حضرت عمار رضی اللہ عنہ اُن لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں گے) سے۔ واللہ اعلم۔اہلِ مکہ مراد ہیں،جنہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اُن کے وطن سے نکال دیاتھااور اُنہیں اس وجہ سے تکالیف دی تھیں کہ وہ اُنہیں اللہ کی طرف بلاتے تھے،مسلمانوں کے بارے میں اس حدیث کی تاویل کرنابالکل ممکن نہیں( یعنی اس حدیث سے مسلمانوں کو مراد لیناممکن نہیں) ؛ اس لیے کہ وہ تو اللہ کی طرف دعوت (یعنی اسلام) میں داخل ہوچکے تھے، اللہ کی طرف دعوت تواُن کو دی جاتی ہےجو اسلام سے باہر ہوں(یعنی غیر مسلم ہوں)،نبی کریم صلی اللہ کےارشاد: "ويَدعونَه إلى النار" (وہ لوگ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دوزخ کی طرف بلائیں گے)بھی اس بات کی دلیل ہے؛ اس لیے کہ مشرکینِ مکہ نے ہی اُنہیں آزمائشوں سے دوچارکیاتھا،اوراُن سے یہ مطالبہ کیاتھاکہ وہ اُن کے دین کی طرف واپس لوٹ آئیں، (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سےجس دین کی طرف واپس لوٹنے کا وہ لوگ مطالبہ کررہے تھے)،وہی تودوزخ ہے۔
ایک اشکال :گر یہ اشکال ہوکہ (اسلام لانے اور اُس کی طرف دعوت دینے کی وجہ سے) حضرت عماررضی اللہ عنہ پر آزمائشیں تو ابتداء ِ اسلام میں مکہ میں آئیں تھیں،جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل کے الفاظ: ’’يَدعُوهم‘‘ (یعنی حضرت عمار رضی اللہ عنہ اُن کو دعوت دیں گے) ارشاد فرمائے ہیں،اور یہ(یعنی ماقبل میں مذکور ) الفاظ تو ماضی کے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہےکہ جب معنی ومراد مشہور ہو توعرب کبھی فعلِ مستقبل کے ذریعے بھی فعلِ ماضی کی خبر دیتے ہیں،جیسےکہ وہ فعل ِ ماضی کے ذریعے فعلِ مستقل کی خبردیتے ہیں،چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کے ارشاد: "يَدعُوهم إلى الله" کے معنی : "دَعاهم إلى الله" ہیں (یعنی حضرت عماررضی اللہ عنہ نے اُن کو اللہ کی طرف دعوت دی )؛ اس لیے کہ (اسلام لانے اور اُس کی طرف دعوت دینے کی وجہ سے) مکہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی آزمائشیں مشہور تھیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حضرت) عمار رضی اللہ عنہ کی فضیلت (بیان کرنے )کے لیے اور اللہ کے معاملے میں اُن کی ثابت قدمی اورقوت وطاقت پر متنبہ کرنے کے لیے اس موقع پراسی طرف اشارکیاجب (مسجدِ نبوی کی تعمیر کے لیے حضرت ) عمار رضی اللہ عنہ کی دودواینٹیں اٹھانے کی مشقت میں ( اور) مکہ میں اللہ کی طرف سے آئی ہوئی تکلیفوں پر صبر اوربرداشت کرنےمیں مطابقت ہوگئی ‘‘۔
(شرح صحيح البخاري لابن بطال ؒ، كتاب الجهاد، باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله، (5/ 27)، ط/ مكتبة الرشد، الرياض)
لیکن علامہ بدر الدین عینی ؒ(المتوفى: 855ھ) اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔
’’عمدۃ القاری‘‘ میں ہے:
"وأجابَ بعضُهم بِأنّ المرادَ بِالذين يَدعونَه إلى النار كفارُ قُريشٍ، وهَذا أيضاً لا يصحُّ؛ لأنّه وقعَ في رواية ابنِ السَكَن وكريمة وغيرِهما زيادةُ توضيحٍ بِأنّ الضميرَ يَعودُ عَلى قَتَلة عمَّار، وهُم أهلُ الشَّام. وقال الحُميديُّ: لعلَّ هَذه الزيادةَ لم تقعْ لِلبُخاريِّ، أوْ وقعتْ فَحذفَها عمداً ولم يذكُرْها في الجَمْع. قال: وقَد أخرجَها الإسماعيليُّ والبُرقانيُّ في هذا الحديث."
ترجمہ:’’بعض حضرات نے اس کایہ جواب دیا ہے کہ جو لوگ حضرت عماررضی اللہ عنہ کو دوزخ کی طرف بلائیں گے اُن سے مراد کفارِ قریش ہیں،یہ قول بھی صحیح نہیں؛اس لیے کہ ابن السکن اورکریمہ وغیرہ کی روایت میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ )"يَدعُونَ"کی) ضمیر قاتلینِ عمار کی طرف لوٹ رہی ہے،اوروہ اہلِ شام ہیں۔حمیدی کہتے ہیں:شاید یہ اضافہ (امام ) بخاری رحمہ اللہ کے سامنےظاہر نہ ہواہو،یاظاہر توہواہو مگر انہوں نے عمداًاسے حذف کردیاہواور پوری حدیث میں اسے ذکر نہ کیاہو،حمیدی کا کہنا ہے:اسماعیلی اوربرقانی نے اس حدیث میں اس (اضافہ ) کی تخریج کی ہے(یعنی اسے ذکرکیا ہے)‘‘۔
(عمدة القاري، كتاب الصلاة، باب التعاون في بناء المسجد، 4/209، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)
ابن بطال ؒ(المتوفى: 449ھ)اپنی ’’شرح بخاری‘‘ میں دوسری جگہ’’يدعُوهم إلى الله، ويَدعونَه إلى النار‘‘سے ’’خوارج‘‘ کو مراد لیتے ہیں کہ اس (’’الفئة الباغية ‘‘) کا صحیح مصداق يهي خوارج ہيں۔
ابن ِ بطالؒ اپنی’’شرح صحيح البخاری‘‘میں لکھتے ہیں:
"وقوله: (يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار) ، إنما يصح ذلك فى الخوارج الذين بعث إليهم على عمارًا ليدعوهم إلى الجماعة، وليس يصح فى أحد من الصحابة؛ لأنه لا يجوز لأحد من المسلمين أن يتأول عليهم إلا أفضل التأويل؛ لأنهم أصحاب رسول الله (صلى الله عليه وسلم) الذين أثنى الله عليهم وشهد لهم بالفضل، فقال تعالى: (كنتم خير أمةٍ أخرجت للناس) [آل عمران: 110] . قال المفسرون: هم أصحاب رسول الله، وقد صح أن عمارًا بعثه على إلى الخوارج يدعوهم إلى الجماعة التى فيها العصمة بشهادة الرسول (لا تجتمع أمتى على ضلال). "
(شرح صحيح البخاري لابن بطال ؒ، كتاب الصلاة، باب التَّعَاوُنِ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ وقول الله: (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ)، (2/ 99)، ط/ مكتبة الرشد، الرياض)
علامہ عينی ؒ(المتوفى: 855ھ) اور قسطلانی ؒ(المتوفى: 923ھ) نے اس قول کی تردید فرمائی ہے ، اختصار کے پیش نظر علامہ قسطلانی ؒ کی عبارت ذیل میں درج کی جاتی ہے :
" ولا يصحُّ أنْ يُقال: إنّ مُرادَه الخوارجُ الذِين بعثَ عليٌّ عمَّاراً يَدعُوهم إلى الجماعة؛ لأنّ الخوارجَ إنّما خرجُوا عَلى عليٍّ بَعد قتلِ عمَّاٍر بِلا خِلافٍ؛ فإنّ ابتداءَ أمرِ الخوارجِ كان عقبَ التحكيم، وكان عقبَ انتهاءِ القتال بِصِفِّين، وكان قتلُ عمَّارٍ قبلَ ذلك قَطعاً."
ترجمہ: ’’یہ کہناصحیح نہیں کہ اس سے مرادوہ خوارج ہیں،جن کے پاس (حضرت ) علی رضی اللہ عنہ نے (حضرت) عمار رضی اللہ عنہ کو بھیجاتھا کہ اُنہیں جماعت کی طرف بلائیں؛ اس لیے کہ بالاتفاق( حضرت) علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خوارج کا خروج ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہوا تھا؛ اس لیے کہ خوارج کے معاملہ کی ابتداء تحکیم کے بعد(ہوئی)ہے،اورتحکیم جنگ ِ صفین کے بعدہوئی ہے،جب کہ (حضرت) عمار رضی اللہ عنہ یقیناً اس سے قبل شہید ہوچکے تھے‘‘۔
(إرشاد الساري، كتاب الجهاد والسير، باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله، (5/ 50) تحت رقم (2812)، ط/ المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)
(عمدة القاري، كتاب الصلاة، باب التعاون في بناء المسجد، (4/ 209) ط/ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
علامہ کرمانی ؒ (المتوفى: 786ھـ) اپنی شرح بخاری’’الكواكب الدراري‘‘ میں فرماتے ہیں :
" و(يدعوهم) أي في الزمان المستقبل وقد وقع ذلك في يوم صفين معجزة لرسول الله صلى الله عليه وسلم حيث دعا الفئة الباغية إلى الحق وكانوا يدعونه إلى البغي."
ترجمہ:’’(علامہ ) کرمانی فرماتے ہیں: ’’ويَدعُوهم‘‘ سے (نبی کریم ﷺ کی) مراد (زمانہ ماضی کاکوئی واقعہ نہیں، جیساکہ علامہ ابن ِ بطال رحمہ اللہ نے فرمایا ہے،بلکہ اس سے مراد) زمانہ مستقبل(کاکوئی واقعہ) ہے،اور وہ واقعہ جنگِ صفین کے روز رسول اللہ ﷺ کے معجزے کے طورپرپیش آیاتھاکہ (حضرت) عماررضی اللہ عنہ نے’’الفِئة الباغية‘‘(باغی جماعت) کو حق کی طرف بلایاتھا،اور اُنہوں نے حضرت عماررضی اللہ عنہ کو بغاوت کی طرف بلایاتھا‘‘۔
(الكواكب الدراري،باب مسح الغبار عن الراس في سبيل الله، (12/ 114) تحت رقم (2618)، ط/ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
1۔علامہ عینی ؒ اس حدیث کی تشریح نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"وقال الكرماني: ويدعوهم، أي: في الزمان المستقبل، وقد وقع ذلك يوم صفين معجزة لرسول الله، صلى الله عليه وسلم حيث دعا الفئة الباغية إلى الحق وكانوا يدعونه إلى الباطل البغي، انتهى.
قلتُ: ظاهر الكلام يساعد الكرماني، ولكن ابن بطال تأدب حيث لم يتعرض إلى ذكر صفين إبعادا لأهلها عن نسبة البغي إليهم، والله أعلم. "
ترجمہ:’’(علامہ ) کرمانی فرماتے ہیں: ’’ويَدعُوهم‘‘ سے (نبی کریم ﷺ کی) مراد (زمانہ ماضی کاکوئی واقعہ نہیں، جیساکہ علامہ ابن ِ بطال رحمہ اللہ نے فرمایا ہے،بلکہ اس سے مراد) زمانہ مستقبل(کاکوئی واقعہ) ہے،اور وہ واقعہ جنگِ صفین کے روز رسول اللہ ﷺ کے معجزے کے طورپرپیش آیاتھاکہ (حضرت) عماررضی اللہ عنہ نے"الفِئة الباغية" (باغی جماعت) کو حق کی طرف بلایاتھا،اور اُنہوں نے حضرت عماررضی اللہ عنہ کو "الباطل البَغْي"(باطل بغاوت) کی طرف بلایاتھا۔
علامہ عينی ؒ فرماتے ہیں کہ کلام(حدیث ) کا ظاہر بھی علامہ کرمانی ؒ کی بات کی تائید کرتا ہے، البتہ ابن بطال ؒ نےادب کو ملحوظ رکھتےہوئے اہل ِ صفین کی طرف بغاوت کی نسبت سے احتراز کیاہے، واللہ اعلم‘‘۔
(عمدة القاري، كتاب الجهاد والسير، باب مسح الغبار عن الناس في السبيل، (14/ 110)، ط/ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
2۔علامہ قسطلانی ؒ (المتوفى: 923ھ) اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"(عمار يدعوهم) أي يدعو عمار الفئة الباغية وهم أصحاب معاوية الذين قتلوه في وقعة صفين (إلى) طاعة (الله) إذ طاعة عليّ الإمام إذ ذاك من طاعة الله ... والأول هو ظاهر السياق لا سيما مع قوله: تقتله الفئة الباغية،لكن ابن بطال تأدب حيث لم يتعرض لذكر صفين إبعادًا لأهلها عن نسبة البغي إليهم وفيما تقدم من الاعتذار عنهم بكونهم مجتهدين والمجتهد إذا أخطأ له أجر ما يكفي عن هذا التأويل البعيد."
ترجمہ: ’’پہلاقول(یعنی ہمارے ذکر کردہ ترتیب کے مطابق تیسراقول) ہی حدیث کے ظاہرسیاق(کے موافق )ہے،خاص طورپر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول(تَقتلُه الفِئةُ الباغيةُ)(حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی جماعت شہید کرےگی )کے موافق ہے)۔۔۔لیکن (علامہ) ابنِ بطال رحمہ اللہ نے ادب کو ملحوظ رکھاکہ اہل ِ صفین کی طرف بغاوت کی نسبت سے احتراز کرتے ہوئے جنگ ِ صفین کا ذکر نہیں کیا،(لیکن اس نسبت میں کوئی حرج نہیں، اس لیےکہ)پہلے ان حضرات کی طرف سے جواعتذار گزرچکا (کہ وہ مجتہدین تھے، اور مجتہد سے جب خطاء سرزد ہوجائےتو اس کے لیے ایک اجرہے)، وہ اس دور کی تاویل سے کفایت کرجاتا ہے ‘‘۔
(إرشاد الساري، كتاب الجهاد والسير، باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله، (5/ 49 و50) تحت رقم (2812)، ط/ المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)
’’كشف الباري عما في صحيح البخاري‘‘ میں ہے:
’’"الفئةُ الباغيةُ"سے کونسی جماعت مراد ہے؟
حدیثِ باب میں آیا ہے:’’ حضرت عماررضی اللہ عنہ کوباغی جماعت قتل کرے گی کہ یہ اُن کو اللہ کی طرف بلائیں گےاوروہ اُن کو جہنم کی آگ کی طرف‘‘۔اب سوال یہ ہے کہ" الفئةُ الباغيةُ"سے کونسی جماعت مراد ہے؟
۱۔علامہ ابنِ بطال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "الفئةُ الباغيةُ"سےاہلِ مکہ مراد ہیں، جنہوں نےحضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہما کو مکہ سے نکال دیاتھا اور شدید اذیت سے دوچارکیاتھا۔
رہایہ سوال کہ حدیث میں فعل تو مضارع کے استعمال کیے گئےہیں، یعنی "تَقتلُه"، "يَدعُوهم" اور"يَدعُونَه"جو مستقبل میں ان تمام حالات کے وقوع پر دلالت کررہے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ فعلِ مضارع یہاں ماضی کے معنی میں مستعمل ہے،اوریہ استعمال اہلِ عرب کے ہاں شائع و ذائع ہے۔
۲۔جب کہ علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے ایک واقعے کی طرف اشارہ کیاگیا ہے، چنانچہ وہ واقعہ جنگ ِ صفین میں پیش آیا،جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا،اس لیے"الفِئةُ الباغيةُ"کے معنی:"الجماعةُ المُخطِئةُ"کے ہوں گےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھےاورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتہادی غلطی صادر ہوئی تھی،اسی جنگ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوئےجوحضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سےتھے۔
۳۔ اوربعض حضرات نے کہاہے کہ "الفِئةُ الباغيةُ"سے خوارج مرادہیں،لیکن یہ توجیہ ہراعتبارسے بدیہی طور پر باطل ہے؛کیوں کہ خوارج کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج بالاتفاق حضرت عماررضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعدہوا ہے۔علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ولا يصحُّ أنْ يُقال: إنّ مُرادَه الخوارجُ الذِين بعثَ عليٌّ عمَّاراً يَدعُوهم إلى الجماعة؛ لأنّ الخوارجَ إنّما خرجُوا عَلى عليٍّ بَعد قتلِ عمَّاٍر بِلا خِلافٍ؛ فإنّ ابتداءَ أمرِ الخوارجِ كان عقبَ التحكيم، وكان عقبَ انتهاءِ القتال بِصِفِّين، وكان قتلُ عمَّارٍ قبلَ ذلك قَطعاً."
پھر علامہ عینی اور علامہ قسطلانی رحمہمااللہ فرماتے ہیں کہ یہاں راجح جواب علامہ کرمانی کا ہے؛کیوں کہ حدیث کا ظاہر سیاق اُن کی موافقت کررہا ہے، جب کہ علامہ ابن بطال رحمۃ اللہ کا قول مبنی براَدب ہےکہ انہوں نے بطورِ اَدب اہلِ صفین کی طرف بغاوت کی نسبت سے احتراز کیا ہے‘‘۔
(کشف الباری، کتاب الجہاد،(1/ 185 و186) ط/مکتبہ فاروقیہ کراچی)
علامہ کشمیری ؒ (المتوفى: 1352ھ) فرماتے ہیں کہ :میرا خیا ل یہ ہے کہ یہاں فقرہ ’’عَمّارٌ يدعُوهم إلى الجنة، ويَدعونَه إلى النار‘‘ کا تعلق فئہ باغیہ سے نہیں ہے ، بلکہ اس کا تعلق ان مشرکین سے ہے جنہوں نے ابتدا ء اسلام میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اذیت پہنچائی تھی، گویا حضور ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھ کر دو جملے ارشاد فرمائے ، ایک تو آئندہ سے متعلق کہ آئندہ ایسا ہوگا کہ ان کو ’’فئة باغية‘‘قتل کرے گا، اور دوسرا فقرہ ان کی ماضی سے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان کی ماضی اس حالت میں گزری ہے کہ مشرکین مکہ نے ان کو صرف کلمہ پڑھنے کی وجہ سی اذیتیں پہنچائیں، یہ ان کو جنت کی دعوت دے رہے تھے اور وہ مشرکین ان کو جہنم کی دعوت دے رہے تھے ، تو اس کا تعلق ماضی کی زندگی سے ہے، جو انہوں نے مشرکین کے ہاتھ سے اسلام میں اذیتیں اٹھائیں ۔
’’ فيض الباری‘‘ میں ہے :
" قال الحافظ رحمه الله تعالى ما حاصله: أنَّ عمارًا قُتِل بصفين، ومَنْ قتلوه مِنْ أصحابِ معاوية رضي الله عنه كانوا من الصحابة رضي الله عنهم، فكيف يَصدُقُ في حقهم أنَّهم دعَوْهُ إلى النَّار وإنْ صَدَق عليهم أنَّهم كانوا الفئة الباغية.فالجواب: أنَّهم كانوا ظانِّين أنَّهم يَدْعون إلى الجنَّة وإنْ لم يكونوا كذلك بحسب الواقع، لكنَّهم مَعْذُورون للتَّأول الذي ظَهَرَ لهم لكونِهم مُجْتَهِدين لا لَوْمَ عليهم، فدعاؤُهم إلى مخالفة علي رضي الله عنه وإنْ كان سببًا للنارِ، لكنَّه لم يترتب عليه النَّار لِكَوْنِهِمْ مجتهدين، والمُسَبِّب قد يتخلف عن السبب إذا لم تُوْجَد شرائطه، ولا يجبُ تحققه عند وجودِ السبب مطلقًا.
قلتُ: ولا أَرْضَى بهذا الجواب، لأنَّ هذا العنوان مأخوذ من القرآن، وهو هناك في حق الكفار، ولا أحب أنْ يكون العنوان الذي ورد فيهم صادقًا على الصحابة رضي الله عنهم بعينه، فقال تعالى: {مَا لِى أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَوةِ وَتَدْعُونَنِى إِلَى النَّارِ} وقال تعالى: {أُوْلَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُواْ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ} فالوجه عندي أنَّ الكلامَ في حق الأمير معاوية رضي الله عنه، ثم إلى قوله: «تقتله الفئة الباغية»، وصرَّح صاحب «الهداية» في كتاب القضاء: أنَّ الأميرَ معاويةَ رضي الله عنه كان بَغَى على عليَ رضي الله عنه. أما قوله: «يدعوهم إلى الجنة» فاستئْنَاف لحالِهِ مَعَ المشرِكين وقريش العرب، وإشارةٌ إلى المصائبِ التي أتت عليه مِنْ جهةِ قريش، وتعذيبهم، وإلجائهم إياه على أَنْ يَكْفُر بربه فأبَى إلا أنْ يَقُول: الله أحد.
وفيه قلت: باده نوشان غمت داود ومعروف وجنيد جان فروشان درت عمار وسلمان وبلال. فهذه حكاية للقِصةِ الماضيةِ ومنقطعة عما قبلها لا إخبار عن حال قائليه. "
(فيض البارى، (2/ 72)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ کشمیری ؒ کی اس رائے کو مولانا احمد رضا بجنوری ؒ (المتوفی: 1418ھ) نے’’انوار الباری‘‘میں کچھ ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے :
’’حضرت شاہ صاحب ؒ نے فرمایا کہ دوسرا جواب جو مجھے زیادہ پسند ہے ،وہ یہ ہے کہ فئۃ باغیہ تک کلام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں ہے کہ صاحب ہدایہ نے بھی ’’کتاب القضاء‘‘ میں تصریح کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےبغاوت کی تھی ، پھر’’يدعُوهم إلى الجنة‘‘سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی منقبت اور مکی زندگی کا حال بیان ہوا ہےکہ مکہ معظمہ میں یہ قریش کو جنت کی طرف بلاتے تھے ، اور وہ ان کو طرح طرح کے عذاب دے کر حالتِ کفر کی طرف لوٹنے کی فکر وسعی کرتے تھے‘‘۔
(انوار الباری ، (14/ 55)، ط/ ادارہ تالیفات اشرفیہ، پاکستان)
اس صورت میں جملہ ’’ يدعُوهم إلى الجنة، ويَدعونَه إلى النار‘‘ کو ’’الفئة الباغية‘‘ سے متعلق کرنے کی صورت میں جنت کنایہ حق سے اور نار کنایہ ہے باطل سے ، کیونکہ حق کا اصل تقاضا یہ ہے کہ وہ جنت تک لے جانے والا ہو اور باطل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نار تک لے جانا والا ہو، لیکن حق کا موجب جنت ہونا اور باطل کا موجب نار ہونا یہ اس وقت ہوتا جبکہ کوئی مانع نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ ’’ من قال لا إله إلا الله دخل الجنة‘‘ تو’’لا إله إلا الله‘‘ کا تقاضا یہ ہے کہ جنت کا موجب ہو لیکن اس کے جنت کے موجب ہونے کے لیے شرط ہے کہ موانع مرتفع ہوں ، اور موانع کیا ہیں ؟ معصیتوں کا ارتکاب نہ ہو، اگر معصیتوں کا ارتکاب بھی ہوا تو ’’لا إله إلا الله‘‘ موجب جنت ہونے کے باوجود جنت تک نہیں لے جاسکتا ، یعنی جنت میں دخولِ اوّلی نہیں ہوسکتا، مثلاً فرمایا کہ ’’ الراشي والمرتشي كلاهما في النار‘‘ کہ رشوت لینے والا ار دینے والا دونوں نار میں ہیں، تو اس کا تقاضا ہے کہ دونوں فورا جہنم میں جائیں لیکن یہ جہنم میں جانا ارتفاع موانع پر موقف ہے، اور مانع کیا ہے؟ کہ توبہ کر لی ، اور حق جو ہے وہ حق دار کو دے دیا، یا اللہ نے مغفرت فرما دی، ورنہ ہر گناہ موجب نار ہوتا، شرط یہ ہے کہ موانع نہ ہوں تو ہر باطل موجب نار ہے۔لہذا جو حضرات اجتہادی غلطی میں مبتلا تھے تو اس اجتہادی غلطی میں مبتلا ہونے کا معنی کیا ہے کہ ان کا مؤقف حق نہیں تھا، باطل تھا، تو باطل اپنے باطل ہونے کی حیثیت سے نار تھا، اگرچہ ایک مانع کی وجہ سے ا ن کے حق میں موجبِ نار نہ ہوا، اور وہ مانع کیا ہے ؟ ان کا اجتہاد، کہ انہوں نے اجتہاد کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا اگرچہ وہ مؤقف باطل تھا اور باطل ہونے کی حیثیت سے موجبِ نار تھا، لیکن چونکہ انہوں نے اجتہاد کی وجہ سے یہ مؤقف اختیار کیا ہوا تھا، اس لیے ان کے حق میں موجبِ نار نہ ہوا، لیکن جو شخص اپنے اجتہاد سے اس کو باطل سمجھتا ہے اس کے حق میں اب بھی موجبِ نار ہے، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء نے جو مؤقف اختیار کیا تھاوہ باطل ہونے کی وجہ سے اصلا موجبِ نار تھا، کیونکہ بغاوت موجبِ نار ہے ، لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں مانع پیش آگیا جو کہ ان کا اجتہاد تھا، لہذا ان کے حق میں ان شاء الله موجبِ نار نہیں ہوگا ، لیکن جو لوگ ان کے مؤقف کے قائل نہیں اور ان کے اجتہاد کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد درست نہیں ، جیسا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ، ان کے حق میں وہ کیا مؤقف ہے؟ ان کے حق میں وہ مؤقف نار ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ ان کو بلا رہے تھے ایک ایسے مؤقف کی طرف جو عمار رضی اللہ عنہ کے لیے نار ہوتا اگر حضرت عمار رضی اللہ عنہ اس مؤقف کو اس حالت میں قبول کرلیتے جبکہ وہ خود اپنے اجتہاد سے اس کے قائل نہیں تھے، ’’يدعونهم إلى النار‘‘ کا یہ معني ہے ۔ لہذا یہ جملہ اگر اپنی جگہ پر اسی طرح ’’الفئة الباغية‘‘ سے متعلق ہو تب بھی اس سے یہ مطلب نکالنا درست نہیں کہ العیاذ باللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء جہنمی تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ عمل فی نفسہ باطل ہونے کی وجہ سے موجبِ نار تھا، جسے یہاں ’’يدعونهم إلى النار‘‘ سے تعبیر کیا گیا۔
’’الکواکب الدراری‘‘ میں ہے :
" قوله (إلى الجنة) أي إلى سببها وهي الطاعة كما أن سبب النار هو المعصية. فإن قلت عمار قتله أهل الشام يوم صفين وفيهم الصحابة الكبار فكيف جاز عليهم الدعاء إلى النار. قلت إنهم كانوا ظانين أنهم يدعونه إلى الجنة وإن كان في الواقع دعاء إلى النار وهم يجتهدون يجب عليهم متابعة ظنونهم. "
(الكواكب الدراري، باب التعاون فی بناء المسجد،(4/ 107) تحت رقم (438)، ط/ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
’’عمدۃ القاری ‘‘ میں ہے:
والجواب الصحيح في هذا أنهم كانوا مجتهدين ظانين أنهم يدعونه إلى الجنة، وإن كان في نفس الأمر خلاف ذلك، فلا لوم عليهم في اتباع ظنونهم، فإن قلت: المجتهد إذا أصاب فله أجران، وإذا أخطأ فله أجر، فكيف الأمر ههنا. قلت: الذي قلنا جواب إقناعي فلا يليق أن يذكر في حق الصحابة خلاف ذلك، لأن اتعالى أثنى عليهم وشهد لهم بالفضل، بقوله: {كنتم خير أمة أخرجت للناس}، قال المفسرون: هم أصحاب محمد.
(عمدة القارى، باب التعاون في بناء المسجد، (4/ 209) ط/ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
’’ارشاد الساری‘‘ میں ہے :
" (عمار يدعوهم) أي يدعو عمار الفئة الباغية وهم أصحاب معاوية الذين قتلوه في وقعة صفين (إلى) طاعة (الله) إذ طاعة عليّ الإمام إذ ذاك من طاعة الله ... والأول هو ظاهر السياق لا سيما مع قوله: تقتله الفئة الباغية، لكن ابن بطال تأدب حيث لم يتعرض لذكر صفين إبعادًا لأهلها عن نسبة البغي إليهم وفيما تقدم من الاعتذار عنهم بكونهم مجتهدين والمجتهد إذا أخطأ له أجر ما يكفي عن هذا التأويل البعيد. "
(إرشاد الساري، كتاب الجهاد والسير، باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله، (5/ 49 و50) تحت رقم (2812)، ط/ المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)
’’انوار الباری شرح صحیح البخاری‘‘ میں ہے :
’’حضرت شاہ صاحب (علامہ کشمیریؒ) نے فرمایا ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی حکم باعتبار جنس کے ہوتا ہے ، اگرچہ اس کا تحقق بعض انواع میں نہ ہوتا ہو، لہذا مطلب یہ ہوگا کہ اس قسم کی دعوت جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ او ران کے ساتھیوں کی طرف سے دی گئی اگرچہ وہ سببِ نار تھی، مگر وہ حضرات صحابہ کے حق میں سببِ نار نہ بن سکی کیونکہ وہ لوگ مجتہد تھے، اور ان کی نیت حق وصواب ہی کی تھی، جس طرح علامہ تورپشتی ؒ نے اپنی ’’کتاب عقائد‘‘ میں لکھا ہے کہ بہت سی احادیث میں معاصی پر وعیدِنار آئی ہے ، لیکن وہ معاصی سببِ نار ہو کر بھی ترتب مسبب سے خالی ہوسکتے ہیں ، کیونکہ مسببات کا ترتب جوسرے امور ارتفاع ِ موانع ووجودِ شر ائط وغیرہ پر موقوف ہوتا ہے، او ربسا اوقات غیر ظاہری ومخفی ہوتا ہے ، اور شریعت کسی حسی پر نار کا حکم کردیتی ہے ۔ واللہ اعلم‘‘۔
(انوار الباری ، (14/ 55)، ط/ ادارہ تالیفات اشرفیہ، پاکستان)
’’تحفۃ القار ی شرح صحیح البخاری‘‘ میں ہے :
’’اس جملہ( ’’يدعوهم إلى الجنة، ويدعونهم إلى النار‘‘) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک فریق کے مقتول جنت میں جائیں گے اور دوسرے فریق کے مقتول جہنم میں، صفین کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’قتلانا وقتلاهم في الجنة‘‘ ہمارے مقتول امر ان کے مقتول سب جنت میں جائیں گے، پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ جس جماعت کے ساتھ ہوں گے وہ حق پر ہوگی، جنت کی طرف بلانے کا یہی مطلب ہے، اور دوسری جماعت جو ان کو قتل کرے گی وہ حق پر نہیں ہوگی ، جہنم کی طرف بلانے کا یہی مطلب ہے ‘‘۔
(تحقۃ القاری، باب التعاون فی بناء المسجد، (2/ 296)، ط/زمزم پبلشرز، کراچی)
مولانا محمد نافع ؒ(المتوفی 1436ھ)’’سیرتِ سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’فائدہ: مسئلہ ہذا کے آخر میں یہ ذکر کردینافائدہ سے خالی نہیں ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پرباغی کا اطلاق (بروایت :"الفئة الباغية") اُس دور تک ہے جب تک کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کی مصالحت علاقائی تقسیم کے اعتبار سے نہیں ہوئی تھی۔
یہ امر تاریخی مسلمات میں سے ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ او رحضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین سن۴۰ھ میں مصالحت ہوگئی تھی اور یہ طے ہوگیا تھا کہ عراق کاتمام ملک حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے لیے ہے او ر شام کا تمام ملک حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہےاور اُن میں سے کوئی فریق دوسرے پر حملہ اور غارت گری نہیں کرے گااورنہ ہی ایک دوسرے کے خلاف قتال کریں گے۔(۱۔تاریخ لابن جریر الطبری، ج:۶، ص:۸۱،تحت سنۃ اربعین۔۲۔الکامل لابنِ اثیر الجزری ،ج:۳، ص:۹۳، تحت سنۃ اربعین۔۳۔البدایہ لابن کثیر،ج:۷، ص:۳۲۲،تحت سنۃ اربعین)
نیز حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ربیع الآخر ،یا جمادی الاولی سن۴۱ھ میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح اور مصالحت کرکے اُن کی بیعت کرلی تھی۔ (تاریخ خلیفہ بن خیاط، جلداول، ص:۱۸۷، طبعِ اول، تحت سنۃ۴۱ھ)۔
مصالحت وبیعت ِ ہذا کے بعد حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تمام اہلِ اسلام کے لیے ایک صحیح اورمسلم خلیفہ منتخب ہوگئے تھے، اوراسی بناپر اس سال کو ’’عام الجماعت‘‘ کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے۔۔۔اندریں حالات (یعنی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلیفہ برحق اور امام ِصادق منتخب ہوجانے کے بعد)اُن کے حق میں ’’طاغی وباغی ‘‘ ہونے کاقول کرنا حقیقتِ واقعہ کے خلاف ہے اور اس دور کے تمام صحابہ کرام اور تمام ہاشمی حضرات کے متفقہ فیصلہ کی تغلیط کرنا ہے۔۔۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ صلح ومصالحت کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نہ باغی ہیں،نہ طاغی ہیں،نہ فاسق ہیں،نہ جائر ہیں،نہ ظالم ہیں،بلکہ اہلِ اسلام کے لیے برحق خلیفۃ المسلمین اورامیرالمؤمنین ہیں اورامامِ صادق ہیں‘‘۔
(سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ ،(ص:364 تا 366)،ط/تخلیقات، لاہور)
مزید تفصیل کے لیےملاحظہ ہو:سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ،مؤلفہ: مولانا محمد نافع رحمہ االلہ، عنوان: ’’روایت: "الفئة الباغية" کے متعلق ایک اشتباہ پھر اس کاازالہ‘‘،( ص: 357 تا 366)، ط/ تخلیقات، لاہور۔
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد:’’ويحَ عَمّارٍ! تَقتلُه الفئةُ الباغيةُ‘‘(عمار کی بے کسی قابل افسوس ہے، اسے ایک باغی جماعت قتل کرےگی)کی تشریح میں محدثین کرام رحمہم اللہ مختلف اقوال ذکر کیے ہیں:
1۔علامہ ابنِ بطال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’الفئةُ الباغيةُ‘‘سےاہلِ مکہ مراد ہیں، جنہوں نےحضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہما کو مکہ سے نکال دیاتھا اوراُنہیں شدید اذیت سے دوچار کیا تھا،لیکن علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول صحیح نہیں ہے۔
2۔بعض حضرات کاکہنا ہے: ’’الفِئةُ الباغيةُ‘‘سے خوارج مرادہیں، تاہم علامہ قسطلانی اور علامہ بدرالدین عینی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بھی صحیح نہیں ہے؛کیوں کہ خوارج کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج بالاتفاق حضرت عماررضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعدہوا ہے۔
3۔ علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے ایک واقعے کی طرف اشارہ کیاگیا ہے، چنانچہ وہ واقعہ جنگ ِ صفین میں پیش آیا، جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا، اس لیے ’’الفِئةُ الباغيةُ‘‘ کے معنی: ’’الجماعةُ المُخطِئةُ‘‘ (یعنی ایسی جماعت جس سے اجتہادی خطاء صادر ہوئی ہے) کے ہوں گےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھےاورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتہادی غلطی صادر ہوئی تھی،اسی جنگ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سےتھے۔
4-علامہ محمد انور شاہ کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ فئۃ باغیہ تک کلام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں ہےاور پھر ’’يدعُوهم إلى الجنة‘‘ سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی منقبت اور مکی زندگی کا حال بیان ہوا ہےکہ مکہ معظمہ میں یہ قریش کو جنت کی طرف بلاتے تھے ، اور وہ ان کو طرح طرح کے عذاب دے کر حالتِ کفر کی طرف لوٹنے کی فکر وسعی کرتے تھے۔
علامہ عینی اور علامہ قسطلانی رحمہمااللہ کی تصریح کے مطابق علامہ کرمانی ؒ کا قول(حدیث میں مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے ایک واقعے کی طرف اشارہ کیاگیا ہے، چنانچہ وہ واقعہ جنگ ِ صفین میں پیش آیا، جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا) راجح ہے؛کیوں کہ حدیث کا ظاہرِ اس قول کی موافقت کررہا ہے،علامہ ابنِ بطال رحمہ اللہ نے ادب کو ملحوظ رکھتےہوئے اہل ِ صفین کی طرف بغاوت کی نسبت سے احتراز کیاہے،لیکن اہلِ صفین کی طرف بغاوت کی نسبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ وہ حضرات (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) اس سلسلے میں مجتہدین تھے، اور مجتہد سے جب خطاء سرزد ہوجائےتو اس کے لیے ایک اجرہے۔
فقط والله تعالي أعلم
فتویٰ نمبر : 144602100270
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن