بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیث قرآن کریم کی تلاوت کرو یہ تمہارے لیے دنیا میں نور ہو گا اور آسمان میں تمہارے لیے بے شمار نیکیوں کا ذخیرہ ہو گا کا حوالہ وتحقیق


سوال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن کریم کی تلاوت کرو یہ تمہارے لیے دنیا میں نور ہو گا اور آسمان میں تمہارے لیے بے شمار نیکیوں کا ذخیرہ ہو گا۔

کیا یہ حدیث ، احادیث کی کتابوں میں موجود ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ 

جواب

مذکورہ الفاظ ابن حبان رحمہ اللہ  (المتوفى: 739 ھـ) نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت کے ضمن میں ’’صحیح ابن حبان ‘‘ میں نقل فرمائے ہیں ،    روایت  کے متعلقہ  الفاظ درج ذیل ہیں:

"عليك بتلاوة القرآن وذكر الله؛ فإنه نور لك في الأرض وذخر لك في السماء."

(صحيح ابن حبان، ذكر الاستحباب للمرء أن يكون له من كل خير حظ رجاء التخلص في العقبى بشيء منها، (2/ 78) برقم (361 )، ط/ مؤسسة الرسالة، بيروت، 1408هـ)

البتہ مذكوره روايت   میں سند کے اعتبار سے کچھ کلام  ہے، کیوں کہ اس میں  إبراہيم بن ہشام بن يحیی الغسانی ایک  راوی ہیں ، جن کے بارے میں  ابن حبان رحمہ اللہ سے تو توثیقی کلمات  ملتے ہیں، لیکن  ابو زرعہ رازی  ، ابو حاتم  رازی، اور ذہبی رحمہم اللہ تعالي سے ان کا  کذاب ومتروک ہونا منقول ہے، اور ذهبي رحمه الله نے ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق کی تردید بھی فرمائی ہے ۔

ابن حبان رحمہ اللہ کی جانب سے مذکورہ راوی کی توثیق کا حوالہ :  

"قال الهيثمي: وفيه إبراهيم بن هشام بن يحيى الغساني، وثقه ابن حبان، وضعفه أبو حاتم، وأبو زرعة."

(مجمع الزوائد، باب وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم، (4/ 216) برقم (7113 )، ط/ مكتبة القدسي، القاهرة)

ابو حاتم رحمہ اللہ کی جانب سے مذکورہ راوی کے کذاب ہونے کا حوالہ : 

"قال أبو حاتم: وهو كذاب."

(الجرح والتعديل، إبراهيم بن هشام بن يحيى بن يحيى الغساني، (2/ 143)، ط/ مجلس دائرة المعارف العثمانية - بحيدر آباد الدكن - الهند سنة 1271ه 1952م)

ابو زرعہ   رحمہ اللہ سے مذکورہ راوی کے کذاب  ہونے کا حوالہ: 

"قال الذهبي: وقال ابن الجوزي قال أبو زرعة كذاب."

(ميزان الاعتدال، حرف الألف، (1/ 201)، رقم  الترجمة (243)، ط/ دار الكتب العلمية)

ذہبی رحمہ اللہ سے مذکورہ راوی کے متروک  ہونے اور ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق کی تردید کا حوالہ: 

" وقال الذهبي: والصواب إبراهيم بن هشام أحد المتروكين الذين مشاهم ابن حبان فلم يصب."

(ميزان الاعتدال، حرف الياء، يحيى بن سعيد القرشي العبشمي، (4/ 179)، تحت رقم الترجمة (952)، ط/ دار الكتب العلمية)

خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ، حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، البتہ ضعیف ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144502100085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں