بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں سحری کرکے روزہ رکھ لینا درست ہے


سوال

میرا غسل نہیں تھا اور میں نے روزہ رکھ لیا،کیامیرا روزہ ہوگیا یا نہیں ؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں آپ پر غسل واجب  تھا اور وہ صبح صاد ق سے پہلے غسل نہ کرسکی  اور سحری کرکے روزہ  رکھ لیا تو اس کا روزہ درست ہے،   ناپاک ہونے کی وجہ سے  روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

الدرالمختار  مع رد المحتارمیں ہے:

"(أو أصبح جنبًا و) إن بقي كل اليوم ... (لم يفطر)"

(كتاب الصوم، باب مايفسدالصوم ومالايفسده، ج: 2، ص: 400، ط: ايچ ايم سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم. كذا في المحيط.قد نقل الشيخ سراج الدين الهندي الإجماع على أنه لا يجب الوضوء على المحدث والغسل على الجنب والحائض والنفساء قبل وجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل إلا به. كذا في البحر الرائق كالصلاة وسجدة التلاوة ومس المصحف ونحوه. كذا في محيط السرخسي ولا بأس للجنب....قبل أن يتوضأ وإن توضأ فحسن وإن أراد أن يأكل أو يشرب فينبغي أن يتمضمض ويغسل يديه."

( كتاب الطھارت، باب الثالث، ج: 1، ص: 19، ط: قديمي كتب خانه)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100277

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں