
رسولِ اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم جب خوابِ ناز سے بیدار ہوتے تو سورۂ آلِ عمران کی اختتامی آیات کی تلاوت فرمایا کرتے، جیسا کہ اہلِ علم و عرفان سے منقول ہے۔
استفسار یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حالتِ جنابت میں بیدار ہو تو کیا اس کے لیے ان آیا ت کا ورد کرنا جائز ہے؟ اور اسی طرح اگر کوئی خاتون ایامِ حیض میں ہو تو کیا وہ 33 آیات یعنی منزل کا وہ مخصوص ورد و عمل انجام دے سکتی ہے؟
واضح رہے کہ سورۂ آلِ عمران کے آخری رکوع کی تمام آیات دعائیہ نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے چند آیات ہی میں دعا کا مفہوم موجود ہے، اسی طرح ”منزل“ قرآنِ کریم کی مختلف سورتوں اور آیات کے مجموعے کا نام ہے، جن میں سب کی سب آیات دعائیہ نہیں ہیں۔
لہٰذاصورتِ مسئولہ میں نیند سے بیدار ہونے کے بعد حالتِ جنابت میں سورۂ آلِ عمران کے آخری رکوع کی تلاوت کرنا، اور خواتین کے لیے مخصوص ایام میں منزل پڑھنا جائز نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويحرم بالحدث الأكبر تلاوة القرآن) ولو دون آية على المختار (بقصده) فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعليم ولقن كلمة كلمة حل في الأصح.
(قوله: فلو قصد الدعاء) قال في العيون لأبي الليث: قرأ الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم يرد القراءة لا بأس به. وفي الغاية: أنه المختار واختاره الحلواني، لكن قال الهندواني: لا أفتي به وإن روي عن الإمام واستظهره في البحر تبعا للحلية في نحو الفاتحة؛ لأنه لم يزل قرآنا لفظا ومعنى معجزا متحدى به، بخلاف نحو - الحمد لله - ونازعه في النهر بأن كونه قرآنا في الأصل لا يمنع من إخراجه عن القرآنية بالقصد، نعم ظاهر التقييد بالآيات التي فيها معنى الدعاء يفهم أن ما ليس كذلك كسورة أبي لهب لا يؤثر فيها قصد غير القرآنية، لكن لم أر التصريح به في كلامهم. اهـ.
"مطلب يطلق الدعاء على ما يشمل الثناء"
أقول: وقد صرحوا بأن مفاهيم الكتب حجة، والظاهر أن المراد بالدعاء ما يشمل الثناء؛ لأن الفاتحة نصفها ثناء ونصفها الآخر دعاء، فقول الشارح أو الثناء من عطف الخاص على العام.
(قوله: أو افتتاح أمر) كقوله بسم الله لافتتاح العمل تبركا بدائع.
(قوله: أو التعليم) فرق بعضهم بين الحائض والجنب بأن الحائض مضطرة؛ لأنها لا تقدر على رفع حدثها بخلاف الجنب والمختار لأنه لا فرق نوح."
(كتاب الطهارة، سنن الغسل، مطلب يطلق الدعاء على ما يشمل الثناء، ج: 1، ص:172، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101101
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن