بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ احرام میں فلیور یا ایسنس پر مشتمل مشروبات پینے کا حکم


سوال

آج کل مشروبات میں خوشبو پیدا کرنے کے لئے ایسنس وغیرہ شامل کئے جاتے ہیں۔ حالتِ احرام میں ایسے مشروبات پینے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر احرام کی حالت میں یہ مشروبات جسم یا کپڑوں پر گر جائیں تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ جبکہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک فتویٰ میں ان کے جواز کا حکم دیا گیا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر پینے کی کسی چیز میں خوشبو ملائی گئی ہو تو وہ بہر صورت خوشبو کے حکم میں ہے، البتہ تفصیل یہ ہے کہ اگر خوشبو اجزاء کے اعتبار سے غالب ہو تو دم واجب ہوگا، اور اگر خوشبو اجزاء کے اعتبار سے مغلوب ہو تو صدقہ واجب ہوگا، تاہم  یہ حکم اس صورت میں ہے جب پینے کی چیز میں حقیقی خوشبو شامل کی گئی ہو۔ حقیقی خوشبو سے مراد وہ چیز ہے جس سے اچھی بو آتی ہو، جسے خوشبو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو، جس سے خوشبو تیار کی جاتی ہو، اور اہلِ عقل جسے  خوشبو شمار کرتے ہوں، جیسے: مشک، کافور، عنبر، عود اور غالیہ۔

البتہ اگر پینے کی چیز میں ایسی چیز شامل کی جائے جو حقیقی خوشبو میں داخل نہ ہو (یعنی وہ چیز جس سے اچھی بُو تو آتی ہو، لیکن اسے خوشبو کے طور پر استعمال نہ کیا جاتا ہو، یا اس سے خوشبو تیار نہ کی جاتی ہو اور یا اہلِ عقل اسے خوشبو شمار نہ کرتے ہوں) تو احرام کی حالت میں ایسا مشروب پینے سے کوئی کفارہ  لازم نہیں ہوتا۔

لہٰذا آج کل جن مشروبات میں فلیور یا ایسنس شامل کیا جاتا ہے، حالتِ احرام میں ان کا پینا جائز ہے۔ ان کو پینے یا ان کے جسم یا  کپڑوں پر گرنے کی صورت میں کوئی کفارہ (دم یا صدقہ)  لازم نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فلیور یا ایسنس حقیقی خوشبو میں شامل نہیں، اگرچہ اس سے اچھی بُو آتی ہے، مگر نہ اس سے خوشبو تیار کی جاتی ہے اور نہ اہلِ عقل اسے خوشبو میں شمار کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مشروبات میں فلیور یا ایسنس شامل کرنے کا مقصد خوشبو کا حصول نہیں ہوتا، بلکہ اصل مقصد  ذائقہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ہاں، اس کے نتیجہ  میں ہلکی سی مہک پیدا ہوجاتی ہے جو حقیقت میں ذائقے ہی کا حصہ ہوتی ہے۔ پھر یہ اتنی قلیل مقدار میں ملایا جاتاہے کہ مشروب اجزاء اور بُو ہر لحاظ سے اس پر غالب رہتا ہے اور فلیور یا ایسنس مغلوب ہوکر تابع بن جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی بُو بھی مشروب پیتے وقت بمشکل محسوس ہوتی ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"الطيب كل شيء له رائحة مستلذة ويعده العقلاء طيبا كذا في السراج الوهاج قال أصحابنا الأشياء التي تستعمل في البدن على ثلاثة أنواع نوع هو طيب محض معد للتطيب به كالمسك والكافور والعنبر وغير ذلك تجب به الكفارة على أي وجه استعمل حتى قالوا الوادي عينه بطيب تجب عليه الكفارة ونوع ليس بطيب بنفسه ولا فيه معنى الطيب ولا يصير طيبا بوجه ما كالشحم فسواء أكل أو دهن أو جعل في شقاق الرجل لا تجب الكفارة ونوع ليس بطيب بنفسه ولكنه أصل للطيب يستعمل على وجه التطيب ويستعمل على وجه الدواء كالزيت والشيرج ويعتبر فيه الاستعمال فإن استعمل استعمال الأدهان في البدن يعطى له حكم الطيب، وإن استعمل في مأكول أو شقاق رجل لا يعطى له حكم الطيب كذا في البدائع."

(كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الأول فيما يجب بالتطيب والتدهن، ج:1، ص:240، ط:دار الفكر بيروت)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"والطيب كل جسم له رائحة طيبة مستلذة ويتخذ منه الطيب كالمسك والكافور والعنبر والعود والغالية."

(كتاب الحج، باب الجنايات، ص:742، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(الواجب دم على محرم بالغ)....(إن طيب عضوا) كاملا....(أو ادهن بزيت أو حل) بفتح المهملة الشيرج (ولو) كانا (خالصين) لأنهما أصل الطيب، بخلاف بقية الأدهان (فلو أكله) أو استعطه (أو داوى به) جراحه أو (شقوق رجليه أو أقطر في أذنيه لا يجب دم ولا صدقة) اتفاقا (بخلاف المسك والعنبر والغالية والكافور ونحوها) مما هو طيب بنفسه (فإنه يلزمه الجزاء بالاستعمال) ولو (على وجه التداوي) ولو جعله في طعام قد طبخ فلا شيء فيه وإن لم يطبخ وكان مغلوبا كره أكله كشم طيب وتفاح.

(قوله فلو أكله) أي دهن الزيت أو الحل، وأفرد الضمير لمكان أو هذا تفريع على مفهوم قوله ادهن (قوله أو استعطه) أي استنشقه بأنفه (قوله اتفاقا) لأنه ليس بطيب من كل وجه، فإذا لم يستعمل على وجه التطيب لم يظهر حكم الطيب فيه (قوله ولو على وجه التداوي) لكنه يتخير بين الدم والصوم والإطعام على ما سيأتي نهر (قوله ولو جعله) أي الطيب في طعام إلخ."

(كتاب الحج، باب الجنايات فى الحج، ج:2، ص:543، 544، 546، ط:سعيد)

البحر العمیق میں ہے:

"قال فى"المحيط"(كذا فى الطرابلسي وغيره): ليس للمحرم شرب دواء فيه طيب كأكل دواء فيه طيب، لأن من الطيب ما يقصد شربه، فإذا خلطه بمشروب لم يصر تبعا لمشروب مثله،إلا أن يكون المشروب غالبا، كما لو خلط اللبن بالماء تصير حرمة الرضاع، إلا أن يكون الماء غالبا.انتهى."

(الباب الثامن: فى الجنايات و كفاراتها، الفصل الثاني: التطيب و التدهن، ص:842، ط:المكتبة المكية، حي الهجرة، مكة المكرمة)

عمدۃ الفقہ میں ہے:

”خوشبو ہر وہ چیز ہے جس سے اچھی بو آتی ہو، اس کو خوشبو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو، اس سے خوشبو تیار کی جاتی ہو اور اہلِ عقل اس کو خوشبو شمار کرتے ہوں جیسا کہ مشک، کافور، عنبر، عود، غالیہ الخ“

(کتاب الحج، جنایات، ج:4، ص: 474، ط:زوار اکیڈمی پبلی کیشنز)

امداد الفتاویٰ(جدید) میں ہے:

”سوال (1008): قدیم 2/ 161ـــ- احرام کی حالت میں معتاد شخص کو پان کھانا کیسا ہے؟ پان سے لبوں کی زینت ہو جاتی ہے اور پان میں ایک قسم کی خوشبو بھی ہے۔۔۔الخ

جواب:فى العالمگرية: الطيب كل شيء له رائحة مستلذة ويعده العقلاء طيبا كذا في السراج الوهاج......  روایت بالا سے معلوم ہوا کہ پان چونکہ داخلِ طیب نہیں، گو موجبِ زینت ہے منافی احرام نہیں۔۔۔الخ“

ـ(کتاب الحج، باب الاحرام و ارکان الحج، ج:4، ص:329، ط: زکریا بک ڈپو انڈیا الہند)

زبدۃ المناسک مع عمدۃ المناسک میں ہے:

”مسئلہ: جو چیزیں بدن پر لگائی جاتی ہیں، وہ تین قسم کی ہیں: ایک قسم میں وہ ہے جو نری خوشبو ہے اور خوشبو میں گنی بھی جاتی ہے، جیسے: مشک اور کافور اور اسی طرح کی اور چیزیں(صندل، گل گلاب، زعفران، حنا، ریحان خطمی، زنجبیل، دارچینی، الائچی، لونگ، بنفشہ) ان کا استعمال کسی طرح سے کرے، کفارہ واجب ہوگا، یہاں تک فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر ان چیزوں کو بطور دوا کے آنکھ میں لگایا تو بھی کفارہ واجب ہوگا۔ (ہندیہ یا غنیہ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسئلہ: تیسری قسم وہ ہے جو اپنی ذات(کے اعتبار) سے تو خوشبو نہیں ہے لیکن اس میں خوشبو بنائی جاتی ہے اور پھر خوشبو کے طور پر بھی کام میں آتی ہے اور دوا کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے، جیسے: زیتون اور تل کا تیل، تو اس میں استعمال کا اعتبار ہوگا، پس اگر اس کو تیل کے لگانے کے طور پر استعمال کیا ہے، تو خوشبو کا حکم ہوگا اور اگر کھانے میں یا بوائی کے اندر بھرنے میں استعمال کیا ہے، تو اس کے واسطے خوشبو کا حکم نہ ہوگا۔(ہندیہ)“

(جنایات کا بیان، ج:2، ص:347، ط:مکتبہ اشرفیہ بمبئی3)

وفیہ ایضاً:

”مسئلہ:اور جو (خوشبوئیں خود حقیقی کہلائی جاتی ہیں، جیسے مشک، عنبر، زعفران، اگر) پکے کھانے میں ملا ہوا(جیسے زردہ، پلاؤ وغیرہ میں ملا کر پکاتے ہیں) کھایا، تو کچھ نہیں، اگرچہ غالب ہو، اور جو پکا ہوا نہ ہو، یعنی جو طعام پکایا ہی نہیں جاتا تو ا گر خوشبو کی چیز غالب ہے اگرچہ خوشبو نہ دے، تو دم واجب ہے اور جو مغلوب ہو اگرچہ خوشبو خوب دے، تو کچھ نہیں نہ دم نہ صدقہ مگر مکروہ ہے۔“

(جنایات کا بیان، خوشبو کی چیزوں کو طعام وغیرہ میں ملا کر کھانے کا بیان، ج:2، ص:355، ط: مکتبہ اشرفیہ بمبئی3)

U.S. FOOD & DRAG ADMINISTRATION کی آفیشل ویب سائٹ سے ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:

Improve Taste and Texture: Spices, natural and artificial flavors, and sweeteners are" added to" enhance the taste of foods."

ترجمہ:” ذائقہ اور ساخت بہتر بنانا:مصالحے، قدرتی و مصنوعی فلیورز اور میٹھے اجزاء ذائقہ بڑھانے کے لئے شامل کئے جاتے ہیں۔“

https://www.fda.gov/food/food-ingredients-packaging/food-additives-and-gras-ingredients-information-consumers

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100412

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں