
عمرہ کرنے والا یا حاجی جب حالتِ احرام میں ہو، تو سر ڈھانپنا (تغطیۃ الرأس) مکروہ ہے، اگر معتمر یا حاجی وضو یا غسل کے بعد اپنا چہرہ یا سر خشک کرنے کے لیے تولیہ استعمال کرنا چاہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اس مسئلے میں دونوں طرف کے فتاویٰ موجود ہیں،اگرچہ وہ عمومی طور پر جلدی جواب دیتے ہیں، لیکن کسی وجہ سے اب تین ماہ ہوگئے ہیں کہ اُن کے جواب کا انتظار ہے کہ دونوں فتاویٰ میں سے راجح قول کون سا ہے۔
ایک دارالافتاء نے اسے مکروہِ تحریمی قرار دیا ہے، لیکن مجھے اس بات کو سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے، کیونکہ تولیہ عام طور پر سر ڈھانپنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، نہ ہی اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے، حالتِ احرام میں کوئی اسے تغطیہ کی نیت سے استعمال نہیں کرتا، بلکہ صرف چہرہ یا سر خشک کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، اس مسئلے میں عمومِ بلویٰ بھی پائی جاتی ہے، کیونکہ وضو یا غسل کے بعد ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اپنا چہرہ اور سر تولیہ یا احرام سے خشک کر لے۔
واضح رہے کہ ہمارے دارالافتاء کی تحقیق کے مطابق احرام کی حالت میں چہرہ یا سر کو خشک کرنے کے لیے تولیہ استعمال کرنا مکروہ ہے،باقی جس ادارے کے فتاویٰ میں اختلاف یا تضاد پایا جائے، تو ترجیح کے لیے اسی ادارے کی طرف رجوع کرنا مناسب ہے۔
" لو دخل تحت ستر الكعبة فأصاب رأسه أو وجهه كره وإلا فلا بأس به . . . . . . . . . لو حمل المحرم على رأسه شيئا يلبسه الناس يكون لابسا، وإن كان لا يلبسه الناس كالإجانة ونحوها فلا، ويكره له تعصيب رأسه ولو فعل يوما وليلة كان عليه صدقة. اهـ. والظاهر أن الإشارة للتعصيب وكأن الشارح أرجعها للحمل أيضا تأمل (قوله وقالوا إلخ) نص عليه في اللباب وغيره، وكذا نص على أنه يكره كب وجهه على وسادة بخلاف خديه قال شارحه: وكذا وضع رأسه عليها فإنه وإن لزم منه تغطية بعض وجهه أو رأسه إلا أنه الهيئة المستحبة في النوم بخلاف كب الوجه. اهـ. (قوله كره) ظاهر إطلاقه أنها تحريمية ط."
(کتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد،ج:2،ص:488، ط: دارالفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
فإن دخل تحت ستر الكعبة حتى غطاه، فإن كان الستر يصيب وجهه ورأسه يكره له ذلك؛ لأنه يشبه ستر وجهه ورأسه بثوب، وإن كان متجافيا فلا يكره؛ لأنه بمنزلة الدخول تحت ظلة.
(کتاب الحج، فصل محظورات الإحرام، ج:2، ص:186، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وكذا لو دخل تحت ستر الكعبة حتى غطاه والستر لا يصيب رأسه ولا وجهه لا بأس به ،فإن كان يصيب رأسه أو وجهه كره ذلك؛ لمكان التغطية، كذا في المحيط."
(کتاب المناسک، الباب الخامس في كيفيةأداءالحج، ج:1، ص:224، ط:دارالفکر)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"محرم کوحالت احرام میں سردی سے حفاظت کےلیے لحاف روئی دار اوڑھنادرست ہے مگرسرکھلارکھے،باقی تمام بدن پرلحاف رہے تومضائقہ نہیں ."
(کتاب الحج باب الجنایات، ج:11، ص:437، ط:فاروقیہ)
فتاویٰ فریدیہ میں ہے:
"اگرآپ نے تمام حصہ رات میں سرکوڈھانپ لیاتوآپ پردم واجب ہواہے."
(کتاب الحج، فصل فی الاحرام، ج:، ص:277، ط:حافظ حسین احمد صدیقی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144501101876
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن