بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں


سوال

حالتِ حمل میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

حالتِ حمل میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور  اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ کی پیدائش تک ہوتی ہے۔

المحیط البرھانی میں ہے :

"وإن كانت ممن لا تحيض لصغر أو كبر طلقها متى شاء واحدة، وإن كان عقيب الجماع وكذلك الحامل."

(کتاب الطلاق،‌‌الفصل الأول: في بيان أنواع الطلاق،ج:3،ص:200،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100494

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں