بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

غزوہ ہند کو غزوہ ہند کہنے کی وجہ


سوال

غزوہ تو اسے کہتے ہیں کہ جس جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود شرکت کی ہو   تو غزوہ ہند کیوں کہا جاتا ہے ، حال آں کہ  اس میں آپ علیہ السلام تو شرکت نہیں کریں گے  تو  اسے غزوہ کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب

سیرت کی کتابوں میں عام اسلوب یہی ہے کہ جس معرکہ میں نبی کریمﷺ بنفسِ نفیس شریک ہوئے ہوں اسے ’’غزوہ‘‘  کہتے ہیں، لیکن غزوہ کی یہ اصطلاح اور تعریف کسی حدیث یا نص کی بنیاد پر متعین نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی زندگی میں جن جنگوں میں شرکت فرمائی انہیں غزوہ کا نام دیا اور جن لشکروں میں آپ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف نہیں لے گئے انہیں آپ ﷺ نے سریہ کا نام دیا ہو،  اگر ایسا ہوتا تو سوال درست ہوتا کہ حدیث میں اسے غزوہ کیوں کہا گیا! جب کہ غزوہ اور سریہ کی مشہور اصطلاح بعد کے عرف میں طے ہوئی ہے، اور اصطلاحات میں ایسا ہوتاہے کہ  کبھی وہ اپنے مشہور معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتیں، چناں چہ ’’غزوہ ‘‘  کے استعمال میں بھی یہ قاعدہ، قاعدہ کلیہ نہیں ہے، جیسا کہ ’’غزوہ موتہ‘‘ کے لیے بھی ’’غزوہ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے حال آں کہ نبی کریمﷺ خود اس معرکہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

لہذا رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں بعد کے زمانوں میں پیش آنے والی جنگ کے لیے ’’غزوہ ہند‘‘  کے الفاظ پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے بعض عوام میں جو یہ بات کہی جاتی ہے کہ غزوہ ہند کو غزوہ ہند اس لیے کہا جاتا ہے کہ غزوہ وہ ہوتاہے جس میں نبی علیہ السلام شریک ہوں، اور غزوہ ہند میں اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام موجود ہوں گے، اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ اولاً غزوہ ہند کے مصداق میں اہلِ علم کی آراء مختلف ہیں، اگر اس کا مصداق وہ آخری جنگ مان لی جائے جو حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں ہوگی تو بھی یہ بات متعین ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ہند کے بجائے شام میں ہوں گے، لہٰذا اس جنگ میں بھی براہِ راست اللہ کے نبی علیہ السلام شریک نہیں ہوں گے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیرت کی عام کتابوں میں اگرچہ ’’غزوہ‘‘  سے مراد وہ لشکر ہوتاہے جس میں رسول اللہ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لے گئے ہوں، لیکن کتبِ احادیث اور سیرت میں ہی بعض اوقات ’’غزوہ‘‘ کا اطلاق ان لشکروں پر بھی ہوا ہے جن میں رسول اللہ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف نہیں لے گئے، (جیسے غزوہ موتہ کا ذکر ہوچکا) چناں چہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’صحیح بخاری‘‘  میں ’’کتاب المغازی‘‘ کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’مغازی‘‘  سے مراد یہاں ان لشکروں کی تشکیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کفار کی طرف بھیجے گئے، خواہ آپ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لے گئے یا آپ ﷺ نے کوئی لشکر بھیج دیا۔

فتح الباري لابن حجر میں ہے : 

"والمغازي جمع مغزى، يقال: غزا يغزو غزواً ومغزىً، والأصل غزوا والواحدة غزوة وغزاة والميم زائدة، وعن ثعلب: الغزوة المرة والغزاة عمل سنة كاملة، وأصل الغزو القصد، ومغزى الكلام: مقصده، والمراد بالمغازي هنا ما وقع من قصد النبي صلى الله عليه وسلم الكفار بنفسه أو بجيش من قبله".

(باب غزوۃ العشیرۃ،7 / 279، دار المعرفۃ)

سنن النسائي میں ہے :

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي، فَإِنْ أُقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ، وَ إِنْ أَرْجِعْ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ".

 (غزوۃ الهند،6 / 42،مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102748

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں