بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

جِم کی مشینوں پر زکات کا حکم


سوال

ایک شخص کا باڈی بلڈنگ کا جم ہے جس میں مشینیں موجود ہیں اور لوگوں سے ان مشینوں کے استعمال پر فیس لی جاتی ہے، تو کیا یہ سامان(مشینیں)زکاۃ یا قربانی کے نصاب میں مال تجارت میں آئے گا یا نہیں؟

جواب

مشینیں چوں کہ تجارت کے لیے نہیں ہیں، اس لیے ان پر زکات نہیں ہوگی اور ضرورت میں بھی شامل ہیں کہ اس سے روزگار متعلق ہے تو ان کی مالیت پر قربانی بھی واجب نہیں ہے، البتہ ان مشینوں کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدن اگر  نصاب   کی حد تک پہنچ جائے(ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے) تو  اس  صورت میں مالک پر قربانی  بھی واجب ہوگی اور سال گزرنے پر زکات بھی لازم ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لاتجب فيها الزكاة كما لاتجب في بيوت الغلة."

(کتاب الزکاۃ، ج:5، ص:69، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں