
ایک خاتون 1997ء سے صاحبِ نصاب ہے، اور اب تک اس نے ہر سال کی زکوٰۃ کا حساب بھی لکھا ہوا ہے کہ اس سال اس کے سونے پر کتنی زکوٰۃ واجب تھی۔ تاہم وہ صرف حساب کرکے لکھ لیتی تھی، اس سال زکوٰۃ ادا نہیں کرتی تھی، بلکہ ایک دو سال بعد گزشتہ سال کی زکوٰۃ اسی گزشتہ سال کے حساب کے مطابق ادا کر دیتی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے۔
اب اس سوالات یہ ہیں:
اس نے گزشتہ سالوں کی واجب شدہ زکوٰۃ اگلے سالوں میں سابقہ حساب کے مطابق ادا کی، جبکہ قیمتوں میں فرق آ چکا تھا، تو کیا اسے بقیہ زکوٰۃ بھی ادا کرنی پڑے گی؟جب کہ جس سال میں وہ گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرتی تھی،وہ سال اسے یاد نہیں اور نہ ہی اس سال کی قیمتیں۔
اور جو رقم وہ ہر سال حساب کرکے لکھ لیتی تھی کہ مجھ پر اتنی زکوٰۃ واجب ہے، کیا اس میں بھی زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا، یا گزشتہ حساب ہی معتبر ہوگا؟ یا پھر صرف حساب لکھ لینے سے زکوۃ قرض شمار ہو جاتی ہے، یا زکوٰۃ کی رقم الگ کرنی بھی ضروری تھی؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون جب ہر سال اپنی زکاۃ کا حساب کر کے لکھ لیتی تھیں کہ مجھ پر اتنی زکاۃ واجب ہے لیکن اس سال ادا کرنے کی بجائے اگلے سال گزشتہ سال کے حساب کی ہوئی زکاۃ کی رقم ادا کر دیتی تھیں ، تو اس سے اس کی زکاۃ ادا ہو گئی ،بعد میں قیمت بڑھنے کی وجہ سے مزید زکاۃ ادا کر نے کی ضرورت نہیں ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكمًا) ... (أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه، ولايخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء."
(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:268، ط:سعید)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
زکوۃ تھوڑی تھوڑی کر کے اور پیشگی ادا کرنا
سوال [۴۵۷۰] : ایک شخص ماہ رمضان آتے ہی اپنے مال اور روپیہ کا حساب کر کے رقم کتاب میں درج کر لیتا ہے، مثلاً دو سو روپیہ، اور سال آئندہ تک بتفریق خرچ کرنے لگتا ہے، کچھ اسی رمضان میں فوراً اور کچھ آئندہ مہینوں میں جس وقت مستحقین نظر آئیں اور کچھ ماہوار مقررہ مسکینوں کو بطور وظیفہ، کسی کو ماہوار دو روپیہ کسی کو ایک علی ہذا القیاس۔ اس مذکورہ بالا طریق سے زکوۃ ادا ہو سکتی ہے یا کل مبلغ فورا رمضان ہی میں صرف کرنا ہوگا ؟
بعض دفعہ بسبب نہ ملنے مستحقین کے کچھ رقم بچ رہتی ہے اور دوسرا رمضان آتا ہے تو یہ شخص عادت کے موافق زکوۃ درج کر لیتا ہے، مثلاً گذشتہ سال کی بچت تیسں روپیہ، موجودہ سال کی دوسو، جملہ دوسو تیس روپیہ ہوئے اور اب جیسا نمبر: ایک میں ذکر ہوا ویسا خرچ کرنے لگتا ہے۔ کیا یہ درست ہے، کسی صورت سے ممنوع تو نہیں؟
الجواب حامداً و مصلياً :
1۔ کل رقم کا فوراً رمضان میں صرف کرنا ضروری نہیں بلکہ طریقہ مذکورہ سے بھی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے،البتہ دیتے وقت نیت کا ہونا ضروری ہے (۱) اور جلد ادا کرنا احوط ہے۔
2۔یہ بھی درست ہے لیکن ادائے زکوۃ میں دیر مناسب نہیں بلکہ مکروہ ہے (۲)۔
( کتاب الزکاۃ، ج :9، ص:422،ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102068
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن