
اگر کسی پیداوار کا عشر ادا کر دیا جائے اور بقیہ حصے میں سے استعمال کے بعد کچھ مقدار بچ جائے، اب اُس بچ جانے والی مقدار پر عشر، یا زکات میں سے کوئی حکم لاگو ہوگا؟ مثلاً: بیس من گندم میں سے عشر ادا کیا گیا اور بقیہ اٹھارہ من گندم میں سے آٹھ من سال بھر خرچ کی گئی، اب بقیہ دس من گندم پر کیا حکم ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں جس بیس من گندم کا عشر ادا کردیا گیا ہے اور اُس میں سے دس من گندم ابھی بھی محفوظ ہے جو ذاتی استعمال کے لیے رکھی ہو تو اُس دس من گندم کا دوبارہ عشر اداکرنا واجب نہیں ہے۔
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع"میں ہے:
"وأمّا وقت الوجوب: فوقت الوجوب وقت خروج الزّرع وظهور الثّمر عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف: وقت الإدراك، وعند محمّد: وقت التّنقية والجُذاذ".
(بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، فصل: وأما وقت الوجوب، 2/63، ط: سعید)
’’کفایت المفتی ‘‘میں ہے:
’’سوال: بچت غلہ سال آخر میں ایک ہزار من جمع ہے، اور سال گزشتہ اُس غلہ کی عشر نکل چکی ہے ،اب اسی حالت میں بچت غلہ کی عشر دوبارہ نکالنا چاہیے یا نہیں ؟
جواب: جس غلہ کا اس سال عشر نکال دیا گیا اُس کی بچت کا غلہ جو آئندہ سال تک باقی رہے اُس میں سے دوبارہ عشر نکالنا واجب نہیں ہے ‘‘۔
(کفایت المفتی ،کتاب الزکات و الصدقات، عنوان: جس غلہ کا ایک مرتبہ عشر اداکیاہو تو آئندہ اس پر عشر واجب نہیں،۴/۳۱۶، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100647
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن