بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ پانچ سالوں کا صدقہ فطر ادا نہیں کیا گیا ہو تو شرعی حکم


سوال

 ایک شخص نے گزشتہ پانچ سالوں (2020ء سے 2024ء تک) کا صدقہ فطر تاحال ادا نہیں کیا ہے، اب وہ ان تمام پچھلے سالوں کی قضا ادا کرنا چاہتا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کسی واجب یعنی صدقہ فطر کو اس کے وقت (عید کے دن) سے مؤخر کر دیا جائے، تو کیا وہ معاف ہو جاتا ہے یا ذمہ پر برقرار رہتا ہے؟

نیز ان پانچ سالوں کا صدقہ فطر ادا کرتے وقت، رقم کی مقدار ان متعلقہ سالوں (2020ء تا 2024ء) کے مقرر کردہ نصاب اور قیمت کے حساب سے دی جائے گی، یا موجودہ سال (2026ء) کی قیمت کے حساب سے ادا کرنا لازم ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں جس شخص نے گزشتہ پانچ سالوں کا صدقہ فطر اداء نہیں کیا ہے، وہ بدستور اس کے ذمہ واجب الاداء ہے، لہذا جب تک گزشتہ  سالوں کا صدقہ فطر ادا  نہیں گا، اس کے روزے  از روئے حدیث  معلق رہیں گے، پس  گزشتہ سالوں کا صدقہ امسال 2026 کے صدقہ فطرکی قیمت کے اعتبار سے ادا کیا جائے۔

الفردوس بمأثور الخطاب للديلميؒ:

"أنس بن مالك: ‌صيام ‌الرجل ‌معلق ما بين السماء والأرض حتى يعطي صدقة الفطر."

(ج:2، ص:395، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(تجب) وحديث «فرض رسول الله - صلى الله عليه وسلم - زكاة الفطر» معناه قدر للإجماع على أن منكرها لا يكفر (موسعا في العمر) عند أصحابنا وهو الصحيح بحر عن البدائع معللا بأن الأمر بأدائها مطلق الزكاة على قول كما مر.

وفي الشامية: (قوله: وهو الصحيح) هو ما عليه المتون بقولهم وصح لو قدم أو أخر (قوله: مطلق) أي عن الوقت فتجب في مطلق الوقت وإنما يتعين بتعيينه فعلا أو آخر العمر، ففي أي وقت أدى كان مؤديا لا قاضيا كما في سائر الواجبات الموسعة غير أن المستحب قبل الخروج إلى المصلى لقوله - عليه الصلاة والسلام - «أغنوهم عن المسألة في هذا اليوم» بدائع."

(كتاب الزكاة، ‌‌باب صدقة الفطر، ج:2، ص:258-259، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ  میں ہے: 

"وإن أخروها عن يوم الفطر لم تسقط، وكان عليهم إخراجها، كذا في الهداية ... والمستحب للناس أن يخرجوا الفطرة بعد طلوع الفجر يوم الفطر قبل الخروج إلى المصلى كذا في الجوهرة النيرة. وأما وقت أدائها فجميع العمر عند عامة مشايخنا - رحمهم الله - كذا في البدائع." 

(كتاب الزكاة ،الباب الثامن في صدقة الفطر ، ج:1، ص:192، ط : دار الفكر)

اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:

"(ويجوز دفع القيمة في الزكاة) وكذا في العشر والخراج والفطرة والنذر والكفارة غير الإعتاق، وتعتبر القيمة يوم الوجوب عند الإمام، ‌وقالا: ‌يوم ‌الأداء."

(كتاب الزكاة، ج:1، ص:144، ط:المكتبة العلمية، بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:286، ط:سعيد)

فقط والله اعلم بالصواب


فتویٰ نمبر : 144709101580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں