بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو بیس سال تک لٹکائے رکھنے اور گزشتہ بیس سال کے نفقے کا حکم


سوال

میری بہن کو اس کے شوہر نے 20 سال سے بغیر طلاق کے چھوڑا ہے، بہن والدہ کے گھر رہتی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس 20 سال کا نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں ماہانہ  نفقہ باہمی رضامندی  سے یا بذریعہ  عدالت طے شدہ نہ ہو، اور ان بیس سالوں میں بیوی نے شوہر سے نفقہ کا مطالبہ بھی نہ کیا ہو، تو اب گزشتہ سالوں کے خرچہ کے مطالبہ کا بیوی کو حق نہیں ہوگا، البتہاگر گزشتہ سالوں کا خرچہ پہلے سے عدالت کی طرف سے متعین تھا یا میاں بیوی نے اپنی رضامندی سے کچھ طے کیا تھا تو ایسی صورت میں گزشتہ  سالوں کا خرچہ دینا شوہر کے ذمہ واجب الاداء ہوگا، جس کابیوی مطالبہ کرسکتی  ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وأصل المسألة أن النفقة لاتصير دينًا إلا بقضاء القاضي أو التراضي عندنا."

( کتاب النكاح،باب النفقة، 5/ 184، ط، دارالمعرفة، بیروت، سنة النشر: 1414هـ - 1993م)

تنقیح الحامدیہ میں ہے:

"سئل) في رجل فرض على نفسه برضاه لزوجته وابنه الصغير منها في كل يوم كذا لنفقتهما، ومضى لذلك عدة أشهر دفع منها بعضها وامتنع من دفع الباقي بلا وجه شرعي، فهل يلزمه الباقي؟

(الجواب): نعم؛ لأن النفقة لاتصير دينًا إلا بالقضاء أو الرضا، كما في التنوير (أقول:) هذا مسلم بالنظر إلى نفقة الزوجة فإنها لاتسقط بمضي المدة بعد فرضها، وأما بالنظر إلى نفقة الصغير فهو مبني على ما مر قبل صفحة عن الزيلعي من أنه كالزوجة وقد علمت ما فيه."

( كتاب النکاح ، باب النفقة، 1 /74 ، ط. دار المعرفة)

ملحوظ رہے کہ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی صورت میں اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ  میاں بیوی اختلافات  ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش  کریں، اگر دونوں کے درمیان بات نہ بنے تو دونوں کے خاندان کے سمجھ دار اور معزز افراد کی ذمہ داری  ہے کہ دونوں کے درمیان صلح صفائی کرائیں اور ایک دوسرے کی شکایات کو سن کر اس کے ازالہ کی کوشش کریں اور میاں بیوی میں سے جو بھی غلطی پہ ہو اس پر اسے تنبیہ کر کے اسے اپنے  طرزِ عمل اور سلوک سے باز رہنے کا پابند کریں،  اور حتی الامکان رشتہ قائم رکھنے  کی تدبیر کریں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا رشاد  ہے:

" وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا." [سورة النساء : 35]

  ترجمہ : ’’ اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو تو (ان کے درمیان فیصلہ کرانے کے لیے) ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے بھیج دو۔ اگر وہ اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا۔ بے شک اللہ تعالٰی کو ہر بات کا علم اور ہر بات کی خبر ہے۔‘‘(از بیان القرآن)

لیکن شوہر اگر بیوی کے ساتھ  رہنے  اور اس کے حقوق ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا  ہو،اور  اس کے باوجود بیوی کو دوسری جگہ نکاح کرنے کے موقع سے محروم کرنے کی غرض سے طلاق نہ دے، اور بیوی کو  خلاصی کی راہ نہ دینا بہت سخت گناہ ہے،اس پر  قرآن کریم میں سخت ممانعت اور مذمت کی گئی ہے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا." [سورة النساء: 19]

ترجمہ : ”اے ایمان والوتم کو یہ بات حلال نہیں کہ عورتوں کے (مال یا جان کے) جبرا مالک ہوجاؤ اور ان عورتوں کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ جو کچھ تم لوگوں نے ان کو دیا ہے اس میں کا کوئی حصہ وصول کرلو مگر یہ کہ وہ عورتیں کوئی صریح ناشائستہ حرکت کریں۔ اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کیا کرو اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔“(از بیان القرآن)

اس آیت کے تحت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ   ”تفسیر معارف القرآن “ میں لکھتے ہیں:

”تیسرا ظلم کہیں کہیں یہ بھی ہوتا تھا کہ بعض اوقات بیوی کا کوئی قصور نہ ہونے کے باوجود محض طبعی طور پر وہ شوہر کو پسند نہ ہوتی تو شوہر اس کے حقوق زوجیت ادا نہ کرتا، مگر طلاق دے کر اس کی گلو خلاصی بھی اس لئے نہیں کرتا کہ یہ تنگ آ کر زیور اور زر مہر جو وہ اسے دے چکا ہے واپس کر دے، یا اگر ابھی نہیں دیا تو معاف کر دے تب اسے آزادی ملے گی .... اور بعض اوقات شوہر طلاق بھی دے دیتا، لیکن پھر بھی اپنی اس مطلقہ کو کسی دوسرے سے نکاح نہیں کرنے دیتا تاکہ وہ مجبور ہو کر اس کا دیا ہوا مہر واپس کر دے یا واجب الادا مہر کو معاف کر دے۔“

(سورۃ النساء: ج:2، ص: 351، ط: مکتبہ معارف القرآن  کراچی)

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر  بیوی کے ساتھ رہ کر اس کے حقوق  ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہو،  تو اس پر لازم ہے کہ اسے   طلاق دے کر خلاصی کا راستہ دے دے، تاکہ وہ عزّت و پاکدامنی کے ساتھ اپنی  زندگی کے  بارے میں بہتر فیصلہ کر سکے۔

 اگر شوہر کسی بھی طرح طلاق دینے پر  راضی  نہ ہو تو عورت کے لیے گنجائش ہے کہ شوہر کو کچھ مال وغیر ہ دے کر باہمی رضامندی سے خلع حاصل  کرلے،پس اگر وہ  نہ ساتھ رکھتا ہو، اور نہ  مطالبہ کے باوجود خلع  دینے  راضی  ہو، تو اس کا متعنت ہونا ثابت ہوجائے گا، جس کی بنیاد پر  متاثرہبیوی کسی مسلمان جج کی عدالت میں مقدمہ  دائر کر کےشرعی اصولوں کے مطابق قاضی سے اپنا نکاح کروا سکتی ہے۔ تنسیخ  نکاح اور تکمیل   عدت کے بعد اسے دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703100643

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں