
ایک خاتون کے پاس 53 تولہ چاندی 20 یا 25 سال سے ہے ۔(یہ اندازہ ہے ، متعین سال معلوم نہیں)۔
ان سالوں میں سے کسی سال بھی زکوۃ ادا نہیں کی گئی ،اور نقد رقم اس کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتی تھی ، جس کی مقدار معلوم نہیں۔
اب وہ گذشتہ سالوں کی زکوۃ کیسے ادا کرے؟
صورت مسئولہ میں خاتون خوب سوچ و بچار کرکے اپنے ظن غالب سے متعین کرلے کہ اس کے پاس 53 تولہ چاندی کتنے سالوں سے ہے ، ظن غالب سے اندازہ کرلینے کے بعد جس تاریخ کو 53 تولہ چاندی کی ملکیت خاتون کو حاصل ہوئی،ہر قمری سال گزرنے پر اسی تاریخ کو ان پر زکوۃ فرض ہوتی رہی ، جس کی ادائیگی خاتون نے نہیں کی،اور جتنے سال زکوۃ ادا نہیں کی ، ان تمام سالوں کی زکوۃ خاتون کے ذمہ پر لازم رہی ۔
لہذا ان گذشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہےکہ پہلے سال چاندی کی جو مقدار تھی اس کا چالیسواں حصہ نکال کر زکوۃ میں ادا کردیا جاۓ، پھر دوسرے سال چاندی سے چالیسویں حصے کی مقدار منہا کرکے باقی ماندہ کا چالیسواں حصہ نکال دیا جاۓ، اس طرح باقی تمام سالوں کا حساب لگایا جاۓ، ان باقی تمام سالوں کی زکوۃ کی مجموعی مقدار جتنی بنے وہ مقدار زکوۃ میں ادا کردی جاۓ، اور جس سال چاندی نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ سے کم ہوجاۓ، تو اس سال کی زکوۃ پھر لازم نہیں ہوگی۔
چناچہ 53 تولہ چاندی کا چالیسواں حصہ 1 تولہ 225 گرام چاندی بنتا ہے، اتنی مقدارچاندی یا اس کی قیمت کو پہلے سال کی زکوۃ میں ادا کردیا جاۓ، اور اگلے سال اتنی مقدار منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ کی زکوۃ ادا کردی جاۓ، چنانچہ 53 تولہ چاندی سے 1 تولہ 225 گرام چاندی کو منہا کرنے کے بعد چاندی کی جو مقدار بنی وہ 51 تولہ 775 گرام ہے، اور یہ مقدار نصاب سے کم ہے، لہذا خاتون پر صرف ایک ہی سال چاندی کی زکوۃ لازم ہوگی، البتہ اگر 51 تولہ 775 گرام چاندی کے ساتھ نقد رقم اتنی موجود ہے کہ چاندی اور نقد رقم ملا کر دونوں کی ملا کر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کو پہنچے تو ایسی صورت میں مجموعی مقدار کی زکوۃ ادا کرنی لازم ہے،پھر اس سے اگلے سال کی زکوۃ ادا کرنے کے لیے ادا کی ہوئی زکوۃ کی مقدار منہا کرکے باقی ماندہ مال کی زکوۃ ( چالیسواں حصہ ) کو ادا کردیا جاۓ ، یوں تمام سالوں کا حساب لگایا جاۓ۔اور جس سال چاندی اور نقد رقم دونوں کا مجموعہ نصاب (ساڑھے باون توکہ چاندی کی قیمت) سے کم ہو تو پھر زکوۃ لازم نہیں ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قال في البحر: وقعت حادثة هي أن من شك هل أدى جميع ما عليه من الزكاة أم لا بأن كان يؤدي متفرقا ولا يضبطه هل يلزمه إعادتها ومقتضى ما ذكرنا لزوم الإعادة حيث لم يغلب على ظنه دفع قدر معين؛ لأنه ثابت في ذمته بيقين فلا يخرج عن العهدة بالشك. اهـ.
قلت: وحاصله أنه يتحرى في مقدار المؤدى: كما لو شك في عدد الركعات، فما غلب على ظنه أنه أداه سقط عنه وأدى الباقي، وإن لم يغلب على ظنه شيء أدى الكل، والله تعالى أعلم. ."
(کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ المال،ج:2، ص:295،ط:دار الفکر)
وفیہ ایضا:
"وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. اهـ."
(کتاب الزکوۃ ، باب زکوۃ المال ،ج:2 ، ص:305 ط:دار الفکر)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100289
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن