بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غصے کی حالت میں طلاق کی نیت کے بغیر بیوی کو یہ کہنا کہ تم میکے چلی جاؤ سے طلاق کا حکم


سوال

ساس بہو کے جھگڑوں سے تنگ شوہر کافی عرصے سے بیوی کو کہہ رہا تھا کہ تم میکے چلی جاؤ ( تاکہ بیوی کا کچھ ذہن آسودہ ہو جائے) لیکن بیوی جانے سے گریز کر رہی تھی۔ کیا شوہر کا غصے میں طلاق کی نیت کے بغیر بیوی کو مندرجہ ذیل جملے کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟

جواب

شوہر کا اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں  یہ کہنا کہ  تم میکے چلی جاؤ  تاکہ بیوی کا کچھ ذہن آسودہ ہو جائے(طلاق کی نیت کے بغیر)،تو شرعا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی نکاح بدستور قائم ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم الكنايات ثلاثة أقسام: ( ما يصلح جواباً لا غير ): أمرك بيدك ، اختاري ، اعتدي، ( وما يصلح جواباً ورداً لا غير ): اخرجي، اذهبي، اعزبي، قومي، تقنعي، استتري، تخمري، ( وما يصلح جواباً وشتماً ): خلية، برية، بتة، بتلة، بائن، حرام، والأحوال ثلاثة: ( حالة ) الرضا، ( وحالة ) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها، ( وحالة ) الغضب، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية، والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً؛ فإنه لا يجعل طلاقاً، كذا في الكافي. وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك؛ لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم، كقوله: اعتدي، واختاري، وأمرك بيدك؛ فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج1، ص374، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں