
میری شادی شدہ زندگی کے بارے میں ایک اہم مسئلہ درپیش ہے۔ میرے شوہر نے سال 2023 میں مجھے دو مرتبہ طلاق دی تھی لیکن دونوں مرتبہ انہوں نے عدت کے دوران ہی رجوع کرلیا تھا۔ اس کے بعد اچانک میرے شوہر کی نوکری ختم ہوگئی، جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ (اسٹریس) میں رہنے لگے۔ مالی حالات بھی بہت خراب ہوگئے تھے، اس وجہ سے ہمارے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہے۔ میرے شوہر کا مزاج غصے والا ہے اور وہ اکثر غصے میں مجھے ڈانٹتے رہتے ہیں۔ مورخہ 25 جولائی 2025 کو میرے شوہر شدید ذہنی دباؤ اور انتہائی غصے کی حالت میں تھے، اسی کیفیت میں انہوں نے مجھے ایک بار کہا: "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں۔" لیکن کچھ ہی دیر بعد انہیں احساس ہوا کہ یہ الفاظ ان کے منہ سے نکل گئے ہیں، حالانکہ ان کی طلاق دینے کی نیت بالکل بھی نہیں تھی، بلکہ وہ صرف غصے اور ذہنی دباؤ کی شدت کی وجہ سے یہ الفاظ بول بیٹھے تھے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ آخری والی طلاق شرعاً معتبر ہوگی یا نہیں؟ کیا شدید غصے اور ذہنی دباؤ کی حالت میں دی گئی طلاق، قرآن و سنت کی روشنی میں واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاًطلاق واقع ہوجاتی ہے(اور عام طور سے طلاق غصہ میں ہی دی جاتی ہے)،نیز طلاق کے صریح الفاظ کہنے سے نیت کے بغیر بھی طلاق ہوجاتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے2023 میں دو مرتبہ طلاق دینے کےبعد جب عدت میں رجوع کرلیا تھا تو نکاح برقرار تھا اور آئندہ کے لیے شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق تھا ، اب جب تیسری بار شوہر نے غصہ کی حالت میں سائلہ سے کہاکہ” میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں“تو اس سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی ہے،یوں مجموعی طور پر تینوں طلاق واقع ہوجانے سے سائلہ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہیں ،اب شوہر کے لیے رجوع کرنایا تجدید نکاح کرناجائز نہیں۔سائلہ اپنی عدت(پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال:ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش."
(كتاب الطلاق، مطلب في طلاق المدهوش،ج:3، ص:244، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ،ج:1، ص:473، ط:دار الفکر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101523
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن