
میت کو غسل دیتے وقت اس کا پیٹ جاری ہوا، کسی بیماری کے باعث اور وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور طریقہ معہودہ کے مطابق اس کو بٹھاکر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا گیا، لیکن اس کے باوجود اس میت کا پیٹ جاری رہا اور یہ عمل بار بار دہرایا بھی گیا، لیکن حسب سابق پیٹ جاری رہا اور بند ہونے کا نام نہیں لے رہا تو کیا کفن کو تلویث سے بچانے کے لیے اس کو پیمپر پہنایا جاسکتا ہے؟
میت کو غسل دینے کے بعد اگر نجاست خارج ہو تو صرف اس نجاست کو دھو لیا جائے، دوبارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر نجاست مسلسل نکل رہی ہو جس سے کفن کی تلویث کا اندیشہ ہو تو اس کو روئی ، کپڑے یا پیمپر وغیرہ سے روکنا جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا يعاد غسله ولا وضوءه بالخارج منه) لأن غسله ما وجب لرفع الحدث لبقائه بالموت بل لتنجسه بالموت كسائر الحيوانات الدموية إلا أن المسلم يطهر بالغسل كرامة له وقد حصل بحر وشرح مجمع."
(كتاب الصلاة، 1/ 197، ط:سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا بأس بأن يجعل القطن على وجهه وأن يحشي به مخارقه كالدبر والقبل والأذنين والفم، كذا في التبيين."
(كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون، الفصل الثاني في غسل الميت، 1/ 158، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144609101513
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن