بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل کے بعد میت کا پیٹ جاری ہونے کی صورت میں پیمپر پہنانا


سوال

میت کو غسل دیتے وقت  اس کا پیٹ جاری ہوا، کسی بیماری  کے باعث اور وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور طریقہ معہودہ کے مطابق اس کو بٹھاکر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا گیا، لیکن اس کے باوجود  اس میت کا پیٹ جاری رہا اور یہ عمل بار بار دہرایا بھی  گیا، لیکن حسب سابق پیٹ جاری رہا اور بند ہونے کا نام نہیں لے رہا تو کیا کفن کو تلویث سے بچانے کے لیے اس کو پیمپر پہنایا جاسکتا ہے؟

جواب

میت کو غسل دینے کے بعد اگر نجاست خارج ہو تو صرف  اس نجاست کو دھو لیا جائے، دوبارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر  نجاست مسلسل نکل رہی ہو   جس سے کفن کی تلویث کا اندیشہ ہو تو اس کو روئی ، کپڑے یا پیمپر وغیرہ سے روکنا جائز ہے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(ولا يعاد غسله ولا وضوءه بالخارج منه) لأن غسله ما وجب لرفع الحدث لبقائه بالموت بل لتنجسه بالموت كسائر الحيوانات الدموية إلا أن المسلم يطهر بالغسل كرامة له وقد حصل بحر وشرح مجمع."

(كتاب الصلاة، 1/ 197، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولا بأس بأن يجعل القطن على وجهه وأن يحشي به مخارقه كالدبر والقبل والأذنين والفم، كذا في التبيين."

(كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون، الفصل الثاني في غسل الميت، 1/ 158، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144609101513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں