
میری بیوی کو گردوں کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر نے انہیں روزے رکھنے سے منع کیا ہے۔ کبھی کبھی اگر وہ روزہ رکھ بھی لیتی ہیں تو گردوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت وہ بالکل روزے نہیں رکھ سکتیں، تو کیا اس صورت میں روزوں کے بدلے پیسے دینے ہوں گے یا کیا کرنا ہوگا؟
اگر پیسے دینا ضروری ہوں تو 30 دن کے روزوں کے کتنے پیسے دینے ہوں گے؟ اور یہ پیسے کس کو دینا بہتر ہوگا کہ اسے فدیہ شمار کیا جائے؟
صورت مسئولہ میں سائل کی اہلیہ اگر فی الحال روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو، تو عذر کی وجہ سے روزے نہ رکھنے کی اجازت ہوگی اور مذکورہ مرض سے شفایابی کے بعد ان روزوں کی قضا کرنا لازم ہوگا، فدیہ دینا کافی نہ ہوگا، البتہ موت تک اگر شفا نہ ہو ،جس کی وجہ سے وہ روزہ نہ رکھ سکے، تو روزوں کا فدیہ دینے کی وصیت کرنا لازم ہوگا۔ فی روزہ ایک فطرانہ یعنی تقریبا دو کلو گندم یا اس کی قیمت مستحق زکوۃ کو وصیت کے مطابق دی جائے گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها المرض) المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير. والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض هكذا في التبيين ولو كان له نوبة الحمى فأكل قبل أن تظهر الحمى لا بأس به كذا في فتح القدير. ومن كان له حمى غب فلما كان اليوم المعتاد أفطر على توهم أن الحمى تعاوده وتضعفه فأخلفت الحمى تلزمه الكفارة كذا في الخلاصة"
(كتاب الصوم، الباب الخامس، ج: 1، ص: 227، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذا حكم الوتر) والصوم...(قوله وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله عليه الصلاة والسلام «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه» وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد."
(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 72، ط: سعيد)
وفیہ ایضا:
"باب المصرف (قوله: أي مصرف الزكاة والعشر)...(هو فقير، وهو من له أدنى شيء)...وفي الرد:وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني."
(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج: 2، ص: 339، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709102109
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن