بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہوں سے رکنے کے لیے منت ماننا


سوال

میں نے ایک منت مانی تھی کہ :”اگر میں فلاں گناہ دوبارہ کروں تو میں پندرہ ہزار روپے صدقہ کروں گا، اور آگے جتنی بار یہ گناہ کرتا رہوں گا اتنی بار یہ رقم دُگنی ہوتی جائے گی۔ “لیکن بعد میں مجھ سے یہ گناہ ہوگیا اور کئی مرتبہ ہوگیا۔ اب جو رقم بنتی ہے وہ میں ادا نہیں کر سکتا۔ تو کیا مجھ پر اس کا گناہ ہوگا؟ اور اس منت کا کفارہ کیا ہے کہ میں اس منت سے آزاد ہو جاؤں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل جتنی مرتبہ گناہ کرچکا ہے ، سائل پر اسی تناسب سے دگنی رقم منت  کے سبب صدقہ کرنا لازم ہے، نیز ایک مرتبہ  رقم ادا کرنے کی صورت میں سائل  اپنی منت سے آزاد ہوجائے گا، اور اس پر اس گناہ کے سبب مزیدصدقہ کرنا لازم نہیں ہوگا، البتہ  اس گناہ  سے سچی توبہ کرنا لازم ہوگا ۔اور اگر سائل منت  کے سبب لازم ہونے والےصدقہ کی  رقم کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا تو  سائل اس منت کو توڑنے کے سبب  پر  قسم کا کفارہ( دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کو عرف کے مطابق کپڑے پہنانااور اگر اس کی بھی  طاقت نہیں تو لگاتار تین روزے رکھنا) لازم ہے،۔نیز   کفارات میں  چونکہ تداخل ہوتا ہے،لہذا اگر  سائل  نے بار بار نے باربار مخصوص گناہ کیا اور اب تک ایک بار بھی  کفارہ بھی ادا نہیں کیا تو تمام کفاروں کے لیے ایک ہی کفارہ کافی ہوگا۔

حوالہ جات:

الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:

"والنذر اصطلاحا: إلزام مكلف مختار نفسه لله تعالى بالقول شيئا غير لازم عليه بأصل الشرع."

(ن، نذر، التعريف،136/40،ط:الطبعة الثانية، دارالسلاسل - الكويت)

الفقه الإسلامي و أدلته میں ہے:

"و نذر اللجاج: و يسمى أيضًا يمين اللجاج، و الغضب، و يمين الغلق: هو الذي خرج مخرج اليمين بأن يقصد الناذر حثّ نفسه على فعل شيء أو منعها غير قاصد للنذر و لا القربة، مثل: إن كلمت فلانا فلله علي صوم أو نحوه، فالأظهر في هذا النوع أن الناذر بالخيار: إن شاء وفى بما التزم، و إن شاء كفر كفارة يمين، و هذا هو المقصود بحديث: (كفارة النذر كفارة يمين)."

(الباب السادس : الأيمان والنذور والكفارات، الفصل الثاني: النذور، نذر اللجاج، ٤ / ٢٥٦١- ٢٥٦٢، ط: دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وقد روي عن محمد - رحمه الله تعالى - قال: ‌إن ‌علق ‌النذر ‌بشرط يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي أو رد غائبي لا يخرج عنه بالكفارة كذا في المبسوط،ويلزمه عين ما سمى كذا في فتاوى قاضي خان، وإن علق بشرط لا يريد كونه كدخول الدار أو نحوه يتخير بين الكفارة وبين عين ما التزمه وروي أن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - رجع إلى التخيير أيضا وبهذا كان يفتي إسماعيل الزاهد قال: - رضي الله تعالى عنه - وهو اختياري أيضا كذا في المبسوط".

(كتاب الأيمان، الباب الثاني، الفصل الثاني في الكفارة، ج:2، ص:65، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين)وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي. اهـ. مقدسي، ومثله في القهستاني عن المنية."

(كتاب الأيمان، مطلب تتعدد الكفارة لتعدد اليمين، ج:3، ص:714، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں