
ایک عورت جو کہ شادی شدہ ہے اس کی کسی غیر محرم مرد سے موبائل فون پر بات چیت ہوتی تھی، ایک وقت ایسا آیا کہ عورت کو احساس ہوا میں غلط کام کر رہی ہوں، تو اس نے اس مرد سے موبائل فون پر رابطہ منقطع کردیا، اب یہ مرداس عورت کا رابطہ منقطع کرنے کی وجہ سے ایسے حالات میں ہے کہ مختلف قسم کے نشوں میں مبتلا ہوگیا ہے اور اس کی زندگی کو خطرہ ہے کہ عورت کا رابطہ منقطع کرنے کی وجہ سے جان سے بھی ہاتھ دھو نہ بیٹھے، سوال یہ ہے کہ: کیا یہ عورت اس مردکے ساتھ اس غرض سے فون پر رابطہ قائم رکھ سکتی ہے کہ اس کی زندگی کو بچا لے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ نامحرم لڑکی سے تعلقات رکھنا، بلاضرورت بات چیت کرنا یا میسجز پر غیر ضروری تعلقات قائم کرنا سب ناجائز اورحرام ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جو مذکورہ مرد اور غیر محرم شادی شدہ عورت نے پہلے بِلا ضرورت آپس میں فون پر باتیں کی ہے ان پر دونوں صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے،نیز ابھی جو اس مرد کو بے سکونی سی لاحق ہوئی ہے تو یہ اس گناہ کو چھوڑنے کی وجہ سے نہیں بلکہ گناہ پہ گناہ کرتے رہنے، ان سے توبہ نہ کرنے اور اللہ کی اطاعت کی طرف توجہ نہ کرنے کی وجہ سے ہے، اس کی بے سکونی کا حل اپنے گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرنے، اللہ کی طرف متوجہ ہونے، نماز،تلاوت وغیرہ کا اہتمام شروع کرنے میں ہے، اسے چاہیے کہ ان چیزوں کا اہتمام کرے انشاء اللہ اللہ اس کے دل کو سکون عطا کردے گا،ورنہ گناہ کی وجہ سے آخرت کا وبال اور اس کی ہولناکی دنیا کی بے سکونی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہے ۔باقی زیرِ نظر مسئلہ میں عورت کی لاتعلقی کی وجہ سے مذکورہ شخص اگر کوئی انتہائی غیر شرعی قدم اٹھاتا ہے تو وہ خود اپنے اس فعل اور ہلاکت کا ذمہ دار ہوگا،عورت اس کی خودکشی وغیرہ سے برئ الذمہ ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولايكلم الأجنبية إلا عجوزاً عطست أو سلّمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا۔ انتهى.
(قوله: وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزاً بل شابةً لا يشمّتها، و لايرد السلام بلسانه. قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلّم الرجل أولاً، وإذا سلّمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزاً رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابةً رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلّم على امرأة أجنبية، فالجواب فيه على العكس. اهـ".
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج: 6، ص: 369، ط: سعيد)
تفسیر رازی میں ہے:
"﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى(اٰیة:124)﴾
......واعلم أن هذا الضيق المتوعد به إما أن يكون في الدنيا أو في القبر أو في الآخرة أو في الدين أو في كل ذلك أو أكثره.......وهو أن يكون المراد الضيق في كل ذلك أو أكثره فروي عن علي عليه السلام عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: عقوبة المعصية ثلاثة: ضيق المعيشة والعسر في الشدة، وأن لا يتوصل إلى قوته إلا بمعصية الله تعالى"
(سورۃ طٰه، ج:22، ص:111، ط:إحیاء التراث العربي)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه، فإن تاب واستغفر صقل قلبه، وإن زاد زادت حتى تعلو قلبه، فذلكم الران الذي ذكر الله تعالى:{كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون}[المطففين: 14]
(حتى تعلو) أي: النكت (قلبه) أي: تطفئ نور قلبه فتعمي بصيرته، فلا يبصر شيئا من العلوم النافعة والحكم الرائعة، وتزول عنه الشفقة والرحمة على نفسه وعلى سائر الأمة، ويثبت في قلبه آثار الظلمة والفتنة والجرءة على الأذية والمعصية (فذلكم الران الذي ذكره الله تعالى) أي: في كتابه (كلا) أي: حقا (بل ران) أي: غلب واستولى (على قلوبهم ما كانوا يكسبون) أي: من الذنوب، حتى لم يبق فيها خير قط."
(کتاب أسماء اللہ تعالٰی، باب الاِستغفار والتوبة، ج:4، ص:1623، ط:دار الفکر)
الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی میں ہے:
"المتسبب: هو الذي يحدث أمراً يؤدي إلى تلف شيء آخر بحسب العادة، إلا أن التلف مباشرة لا يقع منه، وإنما بواسطة أخرى هي فعل فاعل مختار. ويضمن المتسبب وحده إذا كان متعدياً، عملاً بقاعدة المتسبب لايضمن إلا بالتعدي سواء أكان بقصد أم لا، أو بقاعدة يضاف الفعل إلى المتسبب إن لم يتخلل واسطة."
(القسم الخامس: الفقه العام، الباب الثالث:الجنایات وعقوباتھا:القصاص والدیات، ج:7، ص: 5646، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101143
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن