بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ کے کام پر دل میں ’’اللہ کا شکر ہے‘‘ کا خیال آنے کا حکم اور وسوسوں کا علاج


سوال

میں ایک آن لائن گیم کھیلتا ہوں۔ پہلے میں اس میں اپنے پیسے ڈالتا تھا، لیکن اب پیسے نہیں ڈالتا۔ البتہ گیم کی طرف سے بونس ملتا ہے۔ یہ بونس اس وجہ سے ملتا ہے کہ کچھ مہینے پہلے میرے لنک سے کچھ لوگ جوائن ہوئے تھے، جس کی بنیاد پر اب بھی کچھ رقم مل جاتی ہے۔ پھر میں ان ہی پیسوں سے گیم کھیلتا ہوں، اور اسی سے کچھ رقم حاصل ہوتی ہے۔ آج میں نے دو ہزار روپے نکالے، جو میرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں موجود تھے، جبکہ اس وقت میرے پاس اور پیسے نہیں تھے۔اسی دوران میرے دل میں ایک خیال آیا:’’نعوذ باللہ! اللہ کا شکر ہے کہ اکاؤنٹ میں گیم کے پیسے تو ہیں۔‘‘

جب یہ خیال دل میں آیا تو میں نے یہ الفاظ زبان سے نہیں کہے۔ پھر میں ڈر گیا اور زبان سے ’’استغفر اللہ‘‘ کہا، کیونکہ میرا خیال تھا کہ گیم کے پیسے حلال نہیں، اور اللہ تعالیٰ کا شکر حلال رزق پر ادا کرنا چاہیے۔

اس کے بعد مجھے یہ وسوسہ ہونے لگا کہ کہیں اس دل کے خیال کی وجہ سے میرے ایمان پر کوئی اثر تو نہیں پڑا؟ کیا مجھ پر تجدیدِ ایمان یا تجدیدِ نکاح لازم تو نہیں ہوگئی؟

میں یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کچھ مہینے پہلے میں تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرچکا ہوں۔ اس کے بعد سے مجھے ہر بات میں وہم ہونے لگا ہے کہ کہیں فلاں بات سے ایمان یا نکاح پر اثر تو نہیں پڑ گیا۔ عام گفتگو میں بھی شک ہونے لگتا ہے، حالانکہ میں نے یہ بات زبان سے نہیں کہی تھی، صرف دل میں خیال آیا تھا، اور فوراً استغفار بھی کرلیا تھا۔

میں ایک مفتی صاحب سے مسلسل رابطے میں ہوں۔ وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان باتوں پر توجہ نہ دو، یہ وسوسہ اور وہم ہے۔ میں روزانہ ان سے کوئی نہ کوئی سوال پوچھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے، وہ بہت اچھے مفتی ہیں۔ بعض مفتیانِ کرام تو اب جواب بھی نہیں دیتے۔ صرف دو مفتی صاحبان ایسے ہیں جو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ شک اور وسوسوں کو چھوڑ دو۔

چند دن پہلے میں ایک ڈاکٹر کے پاس بھی گیا تھا، لیکن وہاں سے واپس آگیا، کیونکہ دل میں خیال آیا کہ کہیں علاج کروانا گناہ نہ ہو، اس لیے کہ یہ شیطانی وسوسے ہیں، اور شاید ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہ ہو۔

اب کبھی کبھی اتنا زیادہ سوچتا ہوں کہ سر میں درد ہونے لگتا ہے اور چکر بھی آنے لگتے ہیں۔ برائے مہربانی اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ گناہ کے کام کو سننے یا دیکھنے پر ماشاء اللہ کہنا، یا حرام کام کی تکمیل پر الحمد للہ کہنا ناجائز اور حرام  ہے ،البتہ  اس سے آدمی کافر نہیں ہوتا اور نہ ہی نکاح ٹوٹتا ہے ،لیکن  اگر حرام کام کو حلال سمجھ کر ماشاء اللہ  کہتا ہے ، تو اس صورت میں چونکہ حرام کو حلال قرار دیناکفر ہے ، اس لئے ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ،  اس پر تجدید ایمان و تجدید نکاح ضروری ہے ۔

انسان کے دل میں آنے والے خیالات اور وسوسوں کے کئی درجات ہیں۔ ابتدائی درجے کے خیالات، جیسے اچانک دل میں کوئی بات آجانا، یا کسی گناہ کا غیر اختیاری خیال پیدا ہونا، شریعت میں معاف ہیں اور ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوتا، جب تک انسان ان پر عمل یا پختہ ارادہ نہ کرے۔ البتہ جب کسی گناہ کا مضبوط ارادہ کرلیا جائے کہ موقع ملے تو ضرور کرے گا، تو یہ ’’عزم‘‘ کہلاتا ہے، جس پر مؤاخذہ ہوسکتا ہے۔

وسوسے اور وہم عموماً شیطانی اثرات ہوتے ہیں، خصوصاً طہارت، عبادات اور ایمان کے بارے میں، ایسے خیالات آنا اور انہیں بُرا سمجھنا ایمان کی علامت ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:"حضرت ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ : ہم اپنے دلوں میں کچھ خیالات ایسے پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو بیان نہیں کر سکتا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم اسی طرح پاتے ہو؟ (یعنی گناہ سمجھتے ہو) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو واضح ایمان ہے"۔علاوہ ازیں علاج کروانا گناہ نہیں ہے، بلکہ جسمانی و ذہنی صحت کا خیال رکھنا شرعی مطالبہ ہے۔متعدد احادیث میں  رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا  علاج کرانے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے:’اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نازل نہیں کی مگر اس کے لیے شفا (علاج) بھی نازل فرمائی ہےیعنی علاج معالجہ کیا کرو ؛کیوں کہ اللہ تعالی نے ہر بیماری سے شفا کے اسباب بھی رکھے ہیں۔ نیز خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف امراض کے علاج کی تدبیریں بتائی ہیں اور مختلف مواقع پر خود بھی علاج کے اسباب اختیار فرمائے ہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خیال کی وجہ سے سائل کے ایمان یا نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، بلکہ نکاح بدستور قائم ہے۔ اسی طرح علاج کرنے سے وہ گناہ گار  نہیں ہوا ،البتہ سائل کو چاہیے کہ مذکورہ گیم کھیلنا چھوڑ دے،نیز گیم سے حاصل ہونے والی رقم بھی ہرگز استعمال نہ کرے ، اگر استعمال کرلی ہو تو اتنی ہی رقم صدقہ کردے، اور ان وسوسوں کے علاج کے لیےان تعلیمات کا اہتمام بھی کرے:

1۔وسوسوں کو اہمیت نہ دے اور ان پر بحث وتمحیص سے بچے۔

2۔کثرت سے ’’أعوذ بالله من الشيطان الرجيم‘‘اور’’استغفر الله‘‘ پڑھتا رہے۔

3۔نماز، تلاوت اور ذکر واذکار کا اہتمام کرے۔

4۔کسی ایک معتبر مفتی کی رہنمائی پر اطمینان کرے اور بار بار نئے سوالات  پوچھنے یا ایک ہی سوال بار بار پوچھنے سے اجتناب کرے۔

(1) أعُوذُ بِالله "(2) " اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه" کا  ورد کرے۔ (3)  "هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْم"  (4) نیز  "  رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ" کا کثرت سے ورد بھی ہر طرح کے شیطانی شکوک ووساوس کے دور کرنے میں مفید ہے۔

اگر ذہنی دباؤ، سر درد یا چکر کی کیفیت بڑھ رہی ہو تو کسی ماہر ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے علاج کروائے؛ یہ  علاج کروانا شرعاً جائز ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"حدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير ، عن سهيل ، عن أبيه ، عن أبي هريرة قال: « جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: وقد وجدتموه؟ قالوا: نعم، قال: ذاك صريح الإيمان ."

(کتاب الایمان، باب بيان الوسوسة في الإيمان وما يقوله من وجدها  ر ج:1، ص:83،  ط: دار طوق النجاة - بيروت)

مشکاۃالمصابیح میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أنزل الله داء إلا أنزل له دواء» . رواه البخاري"

(كتاب الطب والرقى،الفصل الأول،  ج:2، ص:1278، المكتب الإسلامي - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب، كما في الخانية."

"(قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال: المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة لجواز الأخيرتين حالة العذر بخلاف الأولى فإنه لايؤتى بها بحال فيكفر. قال الصدر الشهيد: وبه نأخذ، ذكره في الخلاصة والذخيرة، وبحث فيه في الحلية بوجهين: أحدهما ما أشار إليه الشارح. ثانيهما أن الجواز بعذر لايؤثر في عدم الإكفار بلا عذر؛ لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافراً، وإنما حكمه لزوم الكفر بجحده بلا شبهة دارئة اهـ ملخصاً: أي والاستخفاف في حكم الجحود."

"(قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة: وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية: لايكون كفراً، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفراً عند الكل. "

"أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لايكون كفرا عند الكل، تأمل۔"

(کتاب الطهارة،  ج:1، ص:81، ط:سعید)

حاشیۃطحطاوی میں ہے:

"مراتب القصد خمس هاجس ذكروا. … فخاطر فحديث النفس فاستمعا.

يليه هم فعزم كلها رفعت. … سوى الأخير ففيه الأخذ قد وقعا.

فالهاجس هو الذي يمر على القلب ولا يمكث والخاطر الذي يتردد ترددا ما وحديث النفس ما تتكلم به والهم الإرادة والعزم التصميم والذي يكتب في العزم على السيئة إثم العزم لا فعل المعصية."

(كتاب الصوم، باب في بيان ما لا يفسد الصوم، ص:660، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط وألله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100365

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں