
(1) میں نےسنا ہے کہ گناہ کو اگر کوئی گناہ نہ سمجھے تو وہ کافر ہوجاتا ہے، کیا میں نے ٹھیک سنا ہے؟گذارش یہ ہے کہ جب سے میں نے یہ سنا ہے بہت زیادہ وسوسوں کا شکار ہوگیا ہوں ،یہ بات سننے کے بعد بھی ہم جیسوں سے گناہ ہوتے ہیں اور گناہ کو عقیدہ کے لحاظ گناہ بھی سمجھتے ہیں،لیکِن بےاختیار یہ خیال آنے لگتا ہے کہ تو گناہ نہیں سمجھ رہا،یا پھر اِس طرح کا خیال آنے لگتا ہے نعوذ باللہ کے یہ گناہ نہیں ہے ،پھر میں پریشان ہوتا ہوں، توبہ اور تجدیدِ ایمان کرتا ہوں۔مثال کے طور میں مارکیٹ وغیرہ جاتا ہوں تو مارکیٹ میں میوزک و موسیقی وغیرہ بجتا رہتا ہے، جسے ہم گناہ سمجھتے ہیں لیکِن کان میں جیسے میوزک کی آواز جاتی ہے تُو دِل ہی دِل میں ۔میں یہ بولتا ہُوں کی میوزک سننا گناہ ہے ۔لیکِن پھر اپنے آپ دل میں یہ بھی خیال آنے لگتا ہے کی تُو گناہ نہی سمجھ رہا۔۔یا پھر اِس طرح کا خیال آنے لگتا ہے نعوذ باللہ کے یہ گناہ نہی ہے۔جب کی حقیقت میں گناہ سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔ہر ہر گناہ میں میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے دلِ سے گناہ کو گناہ سمجھتے ہیں لیکِن اپنے آپ الٹا خیال آنے لگتا ہے ۔
(2) مشت زنی ،نامحر کا غلط خیال لانا ،موبائل پر فحش ویڈیو دیکھا ،میوزک سننا ۔یہ سب گناہ ہے ۔۔۔کیا یہ سب گناہ نص قطعی سے ثابت ہے۔
(1)صورتِ مسئولہ میں بیان کردہ یہ بات توحقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص ایسےگناہ کے کام کو جس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو،حلال سمجھتا ہو یا جائز سمجھ کر کرتاہوتو وہ کافر ہوجاتا ہے، لیکن غیراختیاری طور پرگناہ کے حلال ہونے کا فقط خیال آنے سے انسان کافر نہیں ہوتا،بلکہ حرام کے حلال ہونے کے اُس خیال کو اگر دل و دماغ میں اس طرح پختہ کرلیاجائے کہ اُسے اچھا سمجھے یا اُس سے نفرت و کراہت محسوس نہ ہو، یا باقاعدہ قولاً فعلاً اُس حرام کام کے حلال ہونےکا اظہار کیاجائےتو اِس قسم کی صورتوں میں کفر کا حکم لگےگا۔لہذااِس حوالہ سے سائل کو اپنے مذکورہ بالا خیالات کو لے کر زیادہ سوچ و بچار اور وسوسوں میں مبتلاء ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اور آئندہ بھی جب کبھی ایسا موقع پیش آئے تو ان خیالات کی طرف التفات کرنے کے بجائے اپنے آپ کو فوراً کسی دوسرےکام میں مشغول کرلیاکرےاور"لاحولَ ولاقوةَ الِا بِاالله" اور استغفار کے پڑھنے کا اہتمام کیاکرے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"إذا رأى منكرا معلوما من الدين بالضرورة فلم ينكره ولم يكرهه، ورضي به واستحسنه كان كافرا."
(كتاب الآداب، باب الأمربالمعروف،رقم الحديث:5137، ج:8، ص:3208، ط:دارالفكر)
شرح فقہ الاکبر لملا علی القاری میں ہے:
"إن استحلال المعصية صغيرة كانت أو كبيرة إذا ثنت كونها معصية بدلالة قطعية، وكذا الاستهانة بها كفر بأن يعدّها هيّنة سهلة ويرتكبها من غيرمُبالاة بها ويجريها مجرى المُباحات في ارتكابها...
إذا اعتقد الحرام حلالا فإن كان حرمته لعينه، وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغريه أو ثبت ظنّي، وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره، فقال: من استحلّ حراماً، وقد علم في دين النبي ﷺ تحريمه كنكاح ذوي المحارم، أو شرب الخمر، أو أكل ميتة، أو دم، أو لحم خنزير من غيرضرورة فكافر، ومن استحل شرب النبيذ إلى السكر كفر، أما لو قال لحرام: هذا حلال لترويج السلعة، أو بحكم الجهل لايكفر ولوتمنى أن لايكون الخمر حراماً أو لايكون صوم رمضان فرضاً لما يشق عليه لايكفر."
(ص:254، ط:دارالكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره وقال من استحل حراما قد علم في دين النبي- عليه الصلاة والسلام - تحريمه كنكاح المحارم فكافر.قال شارحه المحقق ابن الغرس وهو التحقيق. وفائدة الخلاف تظهر في أكل مال الغير ظلما فإنه يكفر مستحله على أحد القولين. اهـ. وحاصله أن شرط الكفر على القول الأول شيئان: قطعية الدليل، وكونه حراما لعينه. وعلى الثاني يشترط الشرط الأول فقط وعلمت ترجيحه."
(كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج:2، ص:291، ط:سعيد)
فیض الباری علی صحیح البخاری میں ہے:
" والحاصل أن الحديث ورد في الوساوس التي تكون مبادىء لأفعال الجوارح، وسكت عن حكم العزم عليها؛ وأما حكم سائر العزم، مما لا تعلق لها بتلك الأفعال، فهي خارجة عن سياق الحديث. ثم نلقي عليك شيئاً لتفصيل المسألة، وهو أن مرائب القصد خمس، ضبطها بعضهم في هذين البيتين:
مراتب القصد خمس: هاجس ذكروا ... فخاطر، فحديث النفس، فاستمعا
يليه هم، فعزم، كلها رفعت ... سوى الأخير، ففيه الأخذ قد وقعا
فالخاطر اسم لما يخطر ببالك، ولا يكون له استقرار في الباطن؛ فان استقر شيئاً يقال له: ''الهاجس''، وإن استقر ولم يخرج، ولكن لم يترجح أحد جانبي الفعل، أو الترك عندك، يقال له: ''حديث النفس''، فإن ترجح، وترددت فيه النفس، فهم؛ وإن أجمعت عليه، ''فعزم''. ثم إن الثلاثة الأول عفو في طرفي الطاعة والمعصية، فلا ثواب عليها، ولا عقاب، أما الهم فهو عفو في جانب المعصية، ومعتبر في جهة الطاعة.بقي العزم، فإنه معتبر في الجهتين."
(كتاب العتق، باب الخطإ والنسيان فى العتاقة والطلاق ونحوه، ولا عتاقة إلا لوجه الله، ج:4، ص:25، ط:دار الكتب العلمية)
(2)مذکورہ بالا گناہ کے کام قرآن و حدیث کی مختلف نصوص قطعیہ سے ثابت ہیں، ہر ایک کی تفصیل الگ الگ درج ذیل ہے:
مشت زنی کے حرام ہونے کی دلیل:
مشت زنی کی حرمت نصِ قرآنی سے بھی ثابت ہے اور کئی احادیث میں بھی اس فعلِ بد پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے ) ۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (7) (سورۃ المؤمنون آیت نمبر۵ تا۷)
ترجمہ: اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔ (ترجمہ از شیخ الھند)
ان آیات مبارکہ کی تفسیر میں علامہ شبیراحمد عثمانی صاحب نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں:
"یعنی اپنی منکوحہ عورت یاباندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے، اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آگئیں۔"
(ماخوذ از تفسیر عثمانی، ص: ۴۵۵)
موبائل پر میوزک یا فحش ویڈیو دیکھنے کے حرام ہونے کی دلیل:
موبائل پر جاندار کی ویڈیوز دیکھنا ناجائز ہے، اور اگر وہ ویڈیوز موسیقی ، میوزک اور فحش مواد پر مشتمل ہوں تو حرمت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
{إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (19) وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (20) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} (21)[النور: 19، 21]
ترجمہ:جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں ان کے لیے عذاب ہے درد ناک دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ نرمی کرنے والا ہے مہربان تو کیا کچھ نہ ہوتا، اے ایمان والو ! نہ چلو قدموں پر شیطان کے اور جو کوئی چلے گا قدموں پر شیطان کے سو وہ تو یہی بتلائے گا بےحیائی اور بری بات، اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت تو نہ سنورتا تم میں ایک شخص بھی کبھی، لیکن اللہ سنوارتا ہے جس کو چاہے اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے ۔
سورہ لقمان میں ہے:
"وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُواً أُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ ."(آية:6)
ترجمہ:"اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ان باتوں کے خریدار بنتے ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی ہیں، تاکہ اللہ کی یاد سے بے سمجھے گم راہ کرے اور اس کی ہنسی اڑائے ، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔"
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیاتو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ "لهو الحدیث"سے مراد موسیقی ہے، یہی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت جابر رضی اللہ عنہم ، حضرت عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد ، مکحول ، حسن بصری اورعمرو بن شعیب رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر حضرات سے منقول ہے۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
"روى ابن جرير : حدثني يونس بن عبد الأعلى قال: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يزيد بن يونس عن أبي صخر عن أبي معاوية البجلي عن سعيد بن جبير عن أبي الصهباء البكري أنه سمع عبد الله بن مسعود وهو يسأل عن هذه الآية ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل اللهفقال عبد الله بن مسعود: الغناء والله الذي لا إله إلا هو، يرددها ثلاث مرات، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا حميد الخراط عن عمار عن سعيد بن جبير، عن أبي الصهباء أنه سأل ابن مسعود عن قول الله ومن الناس من يشتري لهو الحديث قال: الغناء ، و كذا قال ابن عباس وجابر وعكرمة وسعيد بن جبير ومجاهد ومكحول وعمرو بن شعيب وعلي بن بذيمة.
و قال الحسن البصري: نزلت هذه الآية ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم في الغناء والمزامير."
(سورۃ لقمان:۶ جلد ۶ص:۲۹۶ ط:دارالکتب العلمیۃ)
نامحرم کا غلط خیال قصداً ذہن میں لانے کے حرام ہونے کی دلیل:
حدیث کی رو سے کسی شخص کا کسی نامحرم کےدل میں گندے اور ناجائز خیالات لانا حقیقی زنا کا پیش خیمہ ہے، اس لیے حقیقی زنا کی مانندیہ بھی حرام ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «كتب على ابن آدم نصيبه من الزنا، مدرك ذلك لا محالة، فالعينان زناهما النظر، والأذنان زناهما الاستماع، واللسان زناه الكلام، واليد زناها البطش، والرجل زناها الخطا، والقلب يهوى ويتمنى، ويصدق ذلك الفرج ويكذبه»."
(كتاب القدر، باب قدر على ابن آدم حظه من الزنا وغيره، رقم الحديث:2657، ج:4، ص:2047، ط:دارإحياء التراث العربي)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی تقدیر میں اس کا حصہ زنا کا لکھ دیا گیا ہے، جس کو وہ لامحاله كرے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا (بد نظری) ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، اور زبان کا زنا (فحش) گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے ، پیروں کا زنا چلنا ہے اور دل تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔"
امداد الفتاوی میں ہے:
"ایک عورت سے نکاح نہیں ہو امگر یہ فرض کر کے کہ اس سے نکاح ہو جائے تو اس طرح تمتع حاصل کروں گا خواہ اس سے نکاح کا ارادہ ہو یا نہ ہو، اس کا حکم یہ ہے کہ یہ تلذذ (لذت حاصل کرنا) حرام ہے؛ اس لیے کہ اس تلذذ کا محل کبھی حلال نہیں ہوا، جس میں تمتع بالحلال کا شبہ ہو سکے اور فرض سے حلت نہیں ہوتی ... بتصریح حدیثِ پاک تمنی واشتہاءِ قلب زنا ہے ( حدیث پاک کی تصریح سے قلب کے ذریعہ اشتہاء و تمنا کرنا زنا (میں داخل ) ہے) ، گو درجات میں کچھ تفاوت ہو، مگر نفسِ معصیت میں اشتراک ہے۔"
(امداد الفتاوی 4/168، ط: مکتبہ دارالعلوم)
واللہ تعالیٰ اعلم
فتویٰ نمبر : 144602102003
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن