بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہوں سے بچنے کے لیے کچھ وقت کے لیے نکاح کرنے کا حکم


سوال

کوئی شخص ملک یا شہرسے باہر پردیس میں ہو۔گناہ سے بچنے کی نیت سے نکاح کریں جب ملک یا شہر چھوڑ ےتو طلاق دے دیں۔کیا ایسا کرنا جائزہے؟

جواب

اللہ تعالی نے نکاح کا حکم ہمیشگی،نسل انسانی کی بقاء،اولادکےحصول اور ان کی تربیت کےلیے دیاہے،کچھ وقت کے لیے نکاح کرنا نکاح کے مقاصد اور شریعت کی روح کے منافی ہے، لہذا اس سےاجتناب کرنا ضروری ہے۔بہتر یہ ہےکہ جہاں خود رہائش  ہو وہیں بیوی  کو بھی رکھے،تاکہ گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو،اور اگر باہر ملک میں بیوی  کو ساتھ ٹھہرانے کا  بندوبست نہیں تو وقتا فوقتا گھر آتا رہے تاکہ گناہ کی طرف رغبت نہ ہو ،اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو پھر اپنے ملك ميں بيوی كے ساتھ  رہ کرہی روزگار اور معاش کے ذرائع اختیارکیے جائیں۔

صحیح المسلم میں ہے :

حدثنا الربيع بن سبرة الجهني ، أن أباه حدثه « أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا أيها الناس، إني قد كنت أذنت لكم في الاستمتاع من النساء، وإن الله قد حرم ذلك إلى يوم القيامة، فمن كان عنده منهن شيء فليخل سبيله، ولا تأخذوا مما آتيتموهن شيئا.

(کتاب النکاح  ج : 1 ، ص : 717 ، حدیث نمبر 3421 ، ط : مکتبۃ البشرٰی)

ترجمہ:حضرت ربیع بن سبرہ الجہنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ " ہم رسول اللہ ؑ ﷺکے ساتھ تھے تو آپ ؑ ﷺنے فرمایا  " اے لوگو  ! میں نے تمہیں متعۃ النساء( خواتین سے متعہ) کی اجازت دی تھی اور بے شک اللہ تعالی نےاسے قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا۔لہذا جس کے پاس بھی ایسی خواتین میں سے کوئی ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دے ،اور کچھ تم ان کو دے چکے ہو وہ  واپس نہ لو "۔(تخفۃ المنعم  ج  : 4 ،ص : 608)

البحر الرائق میں ہے : 

(وبطل نكاح المتعة و مؤقت)والتحقيق ما في فتح القدير أن معني المتعةعقد علي امرأة لايراد به مقاصد النكاح من القرار للولد و تربيته بل اما الي مدة معينة ينتھي العقد بانتھاءھا أو غير معينة بمعني بقاءالعقدما دام معھا الي ان ينصرف عنھا۔فيدخل فيه بمادة المتعة والنكاح المؤقت أيضا فيكون من أفراد المتعة و ان عقد بلفظ الرزويج و أحضر الشھود الي أخر ما ذكر۔

(كتاب النكاح  ج : 3 ، ص : 190، ط : المكتبة الحبيبيه)

فتاوی شامی میں ہے :

(قوله و بطل نكاح متعة و مؤقت)معناه المشھور ان يوجد عقدا علي امرأة لا يراد به مقاصد عقد النكاح من القرار للولد و تربيته بل الي مدة معينة ينتھي العقد بانتھاءھا او غير معينة بمعني بقاء العقد مادام معھا الي ان ينصرف عنھا فلا عقد فيدخل فيه ما بمادة المتعة و النكاح المؤقت أيضا فيكون من افراد المتعة و ان عقد بلفظ التزويج و أحضر الشھود۔

(كتاب النكاح  ج : 3 ، ص : 51 ، ط : ايچ ايم سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

والنكاح المؤقت باطل ، كذا في الھداية و لا فرق بين طول المدة و قصرھا علي الأصح و لا بين المدة المعلومة والمجھولة كذا في النھر الفا ئق۔

(كتاب النكاح  ج : 1 ، ص : 311 ،ط : قديمي كتب خانه)

بدائع الصنائع میں ہے :

و منھا التأبيد فلا يجوز النكاح الموقت و نكاح المتعة و أنه نوعان أحدھما أن يكون بلفظ المتعة الثاني أن يكون بلفظ النكاح والتزويج و ما يقوم مقامھما۔

(كتاب النكاح، ج : 2 ص : 556 ، ط : جامعه فاروقيه كوئتہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101878

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں