
2020 میں میری پسند کی شادی ہوئی،ہم دونوں خوشی سے زندگی گزار رہے تھے، جب میری ایک بیٹی پیدا ہوئی تو اس وقت میری بیوی کے گھر والوں نے اس سے کہا کہ اپنے شوہر سے طلاق لے لو،لیکن میری بیوی نے مجھے طلاق کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا، جب میر ادوسرا بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے ہمیں اپنے گھر بلایا،اور میری بیوی کو الگ کمرے میں بند کیا،اور مجھے الگ کمرے میں بند کرکے گن پوائنٹ کےذریعہ مجھ سے تین طلاق نامہ پر سائن لے لیا،میں نہ طلاق نامہ پڑھا، اور نہ طلاق کی نیت تھی، اور نہ ہی طلاق کا کوئی لفظ زبان سے نکالا،اگر میں طلاق نامہ پر سائن نہ کرتا تو وہ لوگ مجھے جان سے ماردیتے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ اکراہ (مجبور کرنا) اگر ایسی صورت میں پایا جائے کہ جس سے جان کے جانے ، یا عضو کے تلف ہونے کا خوف ہو ، اور مجبور کرنے والا شخص اس بات پر قادر بھی ہو کہ وہ جان یا عضو تلف کر سکتا ہو تو اس صورت میں اگر کوئی شخص تحریراً طلاق دیتا ہے تو اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر زبان سے طلاق دیتا ہے تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان حقیقت پر مبنی ہو کہ لڑکی کے گھر والوں نےلڑکے یعنی سائل سے زبردستی طلاق نامہ پر دستخط کروائے ہیں، اور زبردستی کی یہ صورت تھی کہ گن پوائنٹ پر دستخط کروائے گئے، اور دستخط نہ کرنے کی صورت میں سائل کو جان سے مارے جانے کا غالب گمان تھا،اور سائل نے زبان سے طلاق کا کوئی لفظ ادا نہیں کیا ہے تو محض اس تحریر پر دستخط کرنے سےشرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،دونوں کا نکاح حسب ِ سابق قائم ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة."
( کتاب الطلاق، الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه،فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه،ج : 1، ص : 353، ط : رشیدیه)
وفیہ ایضا :
"والأصل أن تصرفات المكره كلها قولا منعقدة عندنا إلا أن ما يحتمل الفسخ منه كالبيع والإجارة يفسخ، وما لا يحتمل الفسخ منه كالطلاق والعتاق والنكاح والتدبير والاستيلاد والنذر فهو لازم، كذا في الكافي."
وفیہ ایضا :
"قال: وإذا أكره الرجل بوعيد تلف أو غير تلف على أن يقر بعتق ماض أو طلاق أو نكاح وهو يقول لم أفعله فأقر به مكرها فالإقرار باطل والعبد عبده كما كان والمرأة زوجته كما كانت، والإكراه بالحبس أو القتل في هذا سواء، وكذلك الإقرار بالرجعة والفيء بالإيلاء والعفو عن دم العمد، فإنه لا يصح مع الإكراه."
(کتاب الإکراہ، الباب الأول في تفسير الإكراه وأنواعه وشروطه وحكمه، ج : 5، ص : 35/51، ط : رشیدیه)
فتاوی شامی میں ہے :
"وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية، ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. ويأتي تمامه."
( کتاب الطلاق، مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه، ج : 3، ص : 236، ط : سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101356
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن