بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1448ھ 02 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مبیع اگر بائع کے قبضہ میں ہلاک ہوجائے تو نقصان کس کا شمار ہوگا؟


سوال

 میں نے گل پلازہ، جو کہ کراچی کے اندر پچھلے دنوں حادثے  کا شکار ہوگئی ،جس میں آگ لگ گئی، اس میں ایک دکان کا سودا کیا تھا۔ہما را سودا تقریباً 8 کروڑ 35 لاکھ روپے میں طے ہوا تھا۔ معاہدے کے مطابق پیمنٹ کا وقت 4 ماہ تھا، لیکن انہوں نے کہا کہ مجھے پیمنٹ کی ضرورت نہیں، آپ 6 ماہ میں پیمنٹ دیجئے گا۔ مجھے چائنا جانا ہے، تو آپ جتنی پیمنٹ کر سکتے ہیں ابھی کر دیں، باقی 4 کروڑ روپے مجھے آپ جب میں چائنا جاؤں گا تب دیجیے گا، کیونکہ میں بینک میں بھی پیسے نہیں رکھ سکتا۔تو میں نے ان کو تقریباً 4  ماہ کے اندر 4 کروڑ 35 لاکھ روپے ادا کر دیے، اور ابھی 4 کروڑ روپے باقی تھے کہ مارکیٹ میں حادثہ ہو گیا اور مارکیٹ پوری کی پوری جل گئی۔یہ پیمنٹ ان کے پاس موجود ہے، اور انہوں نے کہیں 1.5 کروڑ روپے کاروبار میں بھی لگائے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ جب مارکیٹ کو آگ لگ گئی ہے اور قبضہ ان کے پاس تھا، انہوں نے ابھی تک مجھے قبضہ بھی نہیں دیا تھا۔ جب میں بقیہ 4 کروڑ روپے دیتا، 2 مہینے کے بعد تو مجھے قبضہ دیتے  اور میرے نام پر ٹرانسفر کرواتے، دکان بھی ابھی انہی کے نام پر تھی اور قبضہ بھی انہی کا تھا،تو میرے 4 کروڑ 35 لاکھ روپے جو ابھی ان کے پاس ہیں، کیا وہ دینے کے پابند ہیں؟ جب مارکیٹ جل گئی ہے تو نقصان کس کا ہوگا؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا سائل نےمذکورہ دکان کا سودا کیا تھا اور کچھ رقم بھی ادا کردی تھی، تاہم بائع (فروخت کرنے والے)نےسائل (مشتری) کو دکان کا قبضہ نہیں دیا تھا جیسا کہ سوال میں درج ہے،اور قبضہ دینے سے قبل ہی بائع کے قبضہ میں یہ دکان حادثہ کا شکار ہوکر جل گئی تو یہ نقصان شرعاًبائع (بیچنےوالے) کا شمار ہوگا۔اور بائع پر لازم ہے کہ سائل سےجس قدر رقم وصول کی ہے وہ رقم سائل کو واپس کردے۔

البتہ اگر سائل اپنے خوشی سے مذکورہ شخص کے ساتھ نقصان کی وجہ سے کچھ تعاون کرے تو یہ اجر و ثواب کا باعث ہوگا۔ 

د رر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"المبيع إذا هلك في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري. وكذلك إذا تلف المبيع في يد من سلم إليه المبيع باتفاق الطرفين ليحفظه إلى أداء الثمن فلا يترتب شيء على المشتري بل ينفسخ البيع ويعود الضرر والخسارة على البائع سواء أكان المبيع منقولا أم عقارا لأن المبيع ما لم يسلم إلى المشتري فهو في ضمان البائع سواء اتفق الطرفان على أن يعود الخسران في ذلك على المشتري أم لا وسواء أكان البيع باتا أم مشترطا فيه الخيار للبائع أو للمشتري".

(البيوع، باب خامس، الفصل الخامس في بيان المواد المترتبة على هلاك المبيع، ج:1، ص:275، ط:دار الجیل)

وفیه أیضاً:

"إذا تلف أحد البدلين قبل التسليم في بيع المقايضة ينفسخ البيع فإذا كان البدل الآخر في يد القابض يجب رده عينا وإذا استهلك يجب رده بدلا".

(البيوع، باب خامس، الفصل الخامس في بيان المواد المترتبة على هلاك المبيع، ج:1، ص:276، ط:دار الجیل)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الفتح والدر المنتقى: لو هلك المبيع بفعل البائع أو بفعل المبيع أو بأمر سماوي، بطل البيع ويرجع بالثمن لو مقبوضا."

(کتاب البیوع، ج:4، ص:560، ط:سعید)

مرشد الحیران الی معرفۃ احوال الانسان میں ہے:

"إذا هلك المبيع عند البائع بفعله أو بفعل المبيع أو بآفة سماوية بطل البيع ويرجع المشتري على البائع بالثمن إن كان مدفوعاً."

(الكتاب الثاني، كتاب البيع، ص: 59، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں